
رافعہ عابد
اقبال کے شاہین اور ملکی ترقی، یہ موضوع حقیقی معنوں میں ہم سب کےلئےایک سوالیہ نشان ہے۔یہ کہتے ہوئے شرم بھی آتی ہے کہ ہم بحیثیت قوم ترقی کے بجائے جس تنزلی کی طرف جا رہے ہیں, اس میں ایک
بڑا کردار ہم نوجوانوں کا ہے جبکہ ہمیں اپنے ملک و قوم کی ترقی کا ذریعہ ہونا چاہیے ۔
اقبال کی امیدوں کا محور ہم،ان کے خوابوں کا ساگرہم،ان کی نظرمیں اس قوم کے رہبر ہم مگرافسوس۔۔ ہم نکلے فقط کھوٹے سکے۔۔لیکن ایسا نہیں کہ نوجوان نسل مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہےابھی بھی کچھ ہیرے باقی ہیں جنہوں نے امید کی اس نازک ڈور کو جوڑ رکھا ہے مگر زیادہ تر کا جو حال ہےوہ واقعی پریشان کردینےوالا ہے۔ہم تہذیب بھلا بیٹھے ہیں ادب کا فقدان،لحاظ ،مروت،اخلاق ندارد ۔۔۔
محنت سے جی چرانے والے ، اپنی تمام تر توانائیاں بیکار لٹانے والے، خواب دیکھنے والی آنکھیں غیر ضروری انفارمیشن اور مواد پر قربان کر بیٹھے ہیں، تن آسان اتنے ہیں کہ لائق خدمت لوگوں کی اب خدمت کرنے کے بجائے ان سےکروا رہے ہوتے ہیں ۔۔ ہاتھ میں پکڑے اس فتنے موبائل کی بدولت ساتھ والےکےحالات کی بھی خبرنہیں۔۔ دوسرے ملک کےکسی گمنام شہر کے کسی باسی کے گھر میں کیا ہوا یہ تو معلوم ہے پر پڑوسی کے حالات کی خبر نہیں۔
جب ایسے اپنےمعاشرے سے کٹ جائیں گے تو اقبال کی یہ زرخیز مٹی بنجر ہو جائےگی اورہمیں اسےبچانا ہے۔
ہم اس دھرتی کے امین ہیں ۔۔۔کلیم عثمانی تو کہ گئے کہ
میر کارواں ہم تھے، روح کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے،اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے، خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا
کتنی بڑی ذمہ داری ہمیں سونپی گئی ہے۔ ہمیں اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ربط ملت قائم رکھنا ہے، ہمیں وہ قوم بننا ہے جس کو اپنے حالات بدلنے کا خیال خود ہو، ہم واقعی اپنے ملک کو اتنی بلندی تک پہنچائیں کہ چٹانوں پر بسیرا ہو، ہر طرف سویرا ہو!۔اپنے قائد کے دیے گئےاصولوں ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کو ہر ممکن اپنائیں ، اقبال کے بتائےگئےمنشورکوتھامےرکھیں۔اللہ کے بنائے قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں تو کون ہے جو ہماری ترقی میں رکاوٹ بن سکے۔۔۔
ہم اپنی صلاحیتوں سے بےخبرہیں،ہم نے ہار تسلیم کر لی ہے، بس سوچ بدلنے کی ضرورت ہے،ہمت کرنے کا وقت ہے،ہم نے یہ سب کر لیا تو یقیناً یہ مٹی سونا اگلے گی!
تو حوصلہ جواں رکھ، مٹ جایئں گے اندھیرے
بکھریں گے پھر اجالے ، لوٹیں گے پھر سویرے





































