
انسانی ہمدردی ۔۔ ایک ضرورت، ایک ذمہ داری
منزہ اسلم / سرگودھا
"دنیا میں زندگی کبھی بھی مکمل طور پر ہموار نہیں رہتی۔ کہیں جنگ کے بادل چھائےہوتے ہیں، کہیں قدرتی آفات کا سامنا ہوتا ہےاور کہیں غربت وبھوک انسان کی عزتِ نفس کو روند دیتی
ہے۔ ایسے میں ایک ہی جذبہ ہے جو انسان کو انسان سےجوڑتا ہے—انسانی ہمدردی۔
ہر سال 19 اگست کو "انسانی ہمدردی کا عالمی دن" منایا جاتا ہےتاکہ ان لوگوں کوخراجِ تحسین پیش کیا جا سکےجو دوسروں کی زندگی آسان بنانے کے لیے اپنی جان، وقت اور وسائل قربان کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی ہمدردی صرف عطیہ دینےیاخیرات بانٹنے کا نام نہیں بلکہ یہ احساس، قربت، اور دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے کا نام ہے۔
اس دن کی تاریخ خون اور قربانی سے لکھی گئی۔ 2003 میں بغداد میں اقوامِ متحدہ کے دفتر پر ہونےوالےحملےمیں کئی انسانی ہمدردی کے کارکن شہید ہوئے، جن میں سرجیو ویرا ڈی میلو بھی شامل تھے۔ اسی سانحے کی یاد میں یہ دن عالمی سطح پر منایا جانے لگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انسانی ہمدردی کو کسی ایک دن تک محدود نہ رکھیں۔ یہ جذبہ ہر دن، ہر لمحہ زندہ رہنا چاہیے۔ چاہے کوئی بھوکا ہو، بے گھر ہو، یا بیمار—اگر ہم مدد کا ہاتھ بڑھا سکتے ہیں، تو یہی انسانیت ہے۔ہم سب کے اردگرد کوئی نہ کوئی ایسا ہے جو ہماری توجہ اور تعاون کا منتظر ہے۔ اگر ہم نے اپنے دل کے دروازے کھول دیے، تو شاید دنیا تھوڑی کم ظالم اور تھوڑی زیادہ مہربان ہو جائے۔یاد رکھیے، انسان کی اصل پہچان اس کے بینک بیلنس سے نہیں، اس کے دل کی وسعت سے ہوتی ہےاور انسانی ہمدردی وہ خزانہ ہے جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔





































