
کراچی( نمائندہ رنگ نو)جماعت اسلامی کراچی کےامیرمنعم ظفر خان نے کہاہے کہ طلبہ یونین پر پابندی غیرجمہوری اورغیرآئینی ہے۔ جمہوری حکومتوں نے
بھی آمرانہ روش برقراررکھتے ہوئے طلبہ کو جمہوری حق سےمحروم رکھا ہے۔ نوجوان کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اورمعاشرے کی ترقی کا دارومداران نوجوان پرہے۔ ملک میں جاری افراتفری نے نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔
اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کی ناظمہ اعلیٰ حنہ بی بی، جماعت اسلامی پاکستان کےنائب امیر جماعت اسلامی اسامہ رضی، جامعہ کراچی کے پروفیسرڈاکٹرمعروف بن رؤف،ماہرتعلیم ارشداحمد بیگ نےبھی پینل میں اپنےخیالات کا اظہار کیا۔
ایجوکیشنل سمٹ میں اسکول، کالجز اورجامعات کی طالبات کی بڑی تعداد شریک تھی۔ ایجوکیشنل سمٹ میں مسئلہ فلسطین پر ڈاکیومینٹری بھی پیش کی گئی۔ ساتھ ہی شعبہ تعلیم کی زبوں حالی پرقرارداد بھی پیش کی گئی۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیرمنعم ظفرخان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تعلیم ہی ترقی کی ضامن ہے،اس لیے حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے قومی بجٹ کا تعلیم پر پانچ فیصد مختص کیا جائے اور ملک میں ایک نظام تعلیم، ایک نصاب اور ایک زبان رائج کیا جائے۔
منعم ظفر کا کہنا تھا کہ 1984 میں طلبہ کو جمہوری حق سےمحروم کردیا لیکن اس کے بعد آنےوالی نام نہاد جمہوری حکومتوں نے بھی جمہوریت کی نرسری بحال نہیں کی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ طلبہ و طالبات کسی بھی تبدیلی اور انقلاب کا ہر اول دستے ہوتے ہیں۔ اگر طلبہ یونینز بحال ہوگئیں تو ملک میں ڈکٹیٹرشپ نہیں چل سکے گی۔
اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کی ناظمہ اعلیٰ حنہ بی بی نے ایجوکیشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام کی ابتری کےساتھ ساتھ اساتذہ اور طلباء کے درمیان احترام کا رشتہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔پاکستانی تعلیم نظام کی اساس کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے، نظریاتی سرحدوں پر پےدر پے حملے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی نظام تعلیم کو پرائیوٹائزیشن اور کبھی نصاب میں اسلامی اسباق کوخارج کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نصاب تعلیم میں اسلامی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جدت اپنائی جائے۔
طالبات کو ہنر مند بنائے جائے انہیں آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سےروشناس کرایا جائے۔
ایجوکیشنل سمٹ میں پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان اسامہ رضی کا کہنا تھا کہ کہنے کو تو آئین ساتھ کھڑا ہے تعلیمی پالیسیاں بھی بہت عمدہ تشکیل دی گئی ہیں مگرعمل درآمد صفر ہے، حکومت نے تعلیم کو تجارت میں بدل دیا ہے۔
ماہر تعلیم ارشد احمد بیگ کا کہنا تھا کہ ہر نظام تعلیم کا ایک خاص تہذیبی پس منظر ہوتا ہے،اس پس منظر کو سمجھنے کے لیے اس کی اہمت اور تصور کے جوابات تلاش کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ انسان کی سب سے بڑی شناخت اس کی عبدیت ہے۔
جامعہ کراچی کے پروفیسر معروف بن رؤف نے کہا کہ تقلید کرنے والوں کے لیے تحقیق کا دروازہ بند ہوجاتا ہے ، موجودہ صورتحال کے مطابق نصاب میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے جس میں بالخصوص مسلم ماضی کو شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ استاد نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہوتا ہے اس لیے طلباء کی تربیت اور معاشرت کی تبدیلی میں استاد کا کردار اہم ہے۔انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے پر توجہ دینے کے ساتھ ان کی تشخیص کرنا بھی بہت اہم ہے۔





































