
کراچی (نمائندہ رنگ نو )سماجی ورفاہی خدمات میں مصروف عمل ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان نے کمشنر کراچی کی شجرکاری مہم
کی تائید میں ماہ اگست کے دوران بین الصوبائی شجر کاری مہم کا آغاز کردیاہے جس کے تحت کراچی، لاہور اور پشاور کے مختلف اضلاع میں ہزاروں مختلف انواع کے پودے کاشت کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر لاہور میں آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے مقامی پرندوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیےمختلف درختوں پر ہزاروںمصنوعی گھونسلے (برڈز ہوم) لگائےجانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
اس حوالے سے۲۵اگست کو کراچی میں مہم کی افتتاحی تقریب اللہ والی چورنگی کراچی نزد ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس منعقد ہوئی جس میں ایڈیشنل کمشنر کراچی سید غلام مہدی شاہ بہ طور مہمان خصوصی شریک ہوئے اورپودےلگاکر مہم کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سید محمد ارسلان،مہمان اعزازی اسسٹنٹ کمشنر بلال علوی، سینئر پولیس افسران اور ہمدرد پبلک اسکول کے طلبہ بھی موجود تھے۔ معزز مہمانوں کے ہمراہ ہمدرد پبلک اسکول کے طلبہ نے طارق روڈ کی چورنگی پرہزاروں شہریوں کو شجر کاری کی جانب راغب کرنے کے لیے مختلف خوشبودار اور پھل دار پودوں کے بیج تقسیم کیے ۔
میڈیا نمائندگان کو اس اہم اقدام کے حوالے سے بتاتے ہوئے سید محمد ارسلان نے کہاکہ ہمدرد پاکستان کی دیرینہ روایت رہی ہے کہ جب بھی صوبائی یا مقامی حکومتوں نے شجر کاری مہم شروع کی تو ہمدرد پاکستان نےبڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے تمام ذیلی مراکز بہ شمول کراچی، لاہور، پشاور، راولپنڈی/اسلام آباد، مدینۃ الحکمہ، ہمدرد پبلک اسکول، ہمدرد یونی ورسٹی اور ہمدرد فیکٹریوں میں ہزاروں پودوں کی آبیاری کی اوراُن کی مسلسل دیکھ بھال بھی جاری رکھی۔ یہ محترمہ سعدیہ راشد کا مشن ہے کہ پاکستان کو آلودگی سے پاک اور سرسبز و شاداب دیکھنا چاہتی ہیں۔شجر کاری مہم میں حصہ لینےسے زیادہ ضروری ہے کہ پودوں کی معقول نگہ داشت کی جاتی رہے تاکہ وہ تناور درخت بن سکیں۔
ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اہم سرگرمی کی دوران ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی جانب سےعوام میں مختلف پودوں کے بیج بھی بہ طور تحفہ دئیے جارہے ہیں تاکہ وہ بھی اس کارخیر میں شریک ہوں اور اپنا مذہبی فریضہ ادا کریں۔ پاکستان اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ چناں چہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کرنا اور عوام الناس میں اس تحریک کو پیدا کرنی ضروری ہےکہ شجرکاری نہ صرف ماحول بہتر بنانے میں معاون ہے بلکہ ہماری اپنی بقا کے لیے بے حد ضرور ی ہے۔ پہلے فیز میں کراچی لاہور اور پشاور میں شجرکاری مہم اور پرندوں کے لیے مصنوعی گھونسلے لگائے جارہے ہیں کیوں کہ یہ شہر خطرناک حد تک آلودگی کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ارد گرد ماحولیاتی تغیر بری طرح سے پرندوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سے پرندے روئے زمین سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔اس ضمن میں آغاز لاہور شہر سے کیا گیا ہے جہاں مختلف مقامات پر موجود درختوں میں برڈز ہوم آویزاں کیے جارہے ہیں جہاں پرندے اپنا گھونسلا بناکر رہ سکیں گےجو نہ صرف اُنھیں مسکن فراہم کرکے ان کی حفاظت کریں گے بلکہ ماحول دوست بھی ثابت ہوں گے۔یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اپنے مقامی پرندوں کو معدوم ہونے سے بچائیں۔





































