
کراچی (نمائندہ رنگ نو )شوریٰ ہمدرد کراچی کا ماہانہ اجلاس گزشتہ روز ’’سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں مسلم حکمرانی کے راہنما اصول‘‘
کے موضوع پر ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی زیرصدارت ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں منعقد ہوا۔ مہمان مقرر پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی زاہدی ڈین فیکلٹی اوف اسلامک اسٹڈیز، کراچی یونی ورسٹی نے کہاکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات مبارکہ کا ایک درخشاں اور روشن پہلو طرزحکمرانی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست مدینہ کے نام سے دنیا کی پہلی رفاہی اور فلاحی ریاست قایم کی۔ بہ طور حکمران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی مسائل سے نمٹنے کی حکمت عملی اور فہم و فراست نہ صرف مسلم اکثریتی ممالک بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے بہترین انتظامی ماڈل ہے۔
اُنھوں نے مزید کہاکہ جس ریاست میں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہو، اندرونی خلفشار کا شکار ہو و ہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ لہٰذا سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطہ جزیرہ نما عرب میں امن قایم کیا، جنگی اخلاق کو متعارف کروانے کے ساتھ سماج میں انفرادی سطح پر بھی حقوق و فرائض بیان فرمائے۔ مضبوط بنیادوں پر ماحولیات کی دیکھ بھال اور علم وحکمت کے فروغ کے ساتھ سماجی عدل کا بول بالا کیا۔بہ طور مصلح قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملت کی فکری آبیاری و تربیت بھی فرمائی۔ صحابہ کرام ؓکو تعلیم و تدریس کی جانب مائل کیا۔ اُن میں اجتماعیت اور اخلاقیات کے تصورات کومضبوط کیا۔ اسوہ حسنہ کے ان چند نکات کو ہی اگر مقصد اصلاح بنالیا جائے تو ایک اچھے حکمران میں کم از کم یہ خوبیاں بدرجہ اتم ہونی چاہئیں۔
سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہاکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اُسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل طور پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسروں پر انگلی اُٹھانے سے پہلے ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ آیا ہم اپنی قومی و ملی ذمے داری پوری کررہے ہیں یا نہیں۔ اگر ظلم ہورہا ہے اور ہم ظلم کے خلاف اپنی مصلحتوں کی بناپر آواز اُٹھانے سے قاصر ہیں تو ہم بھی ظالمان میں سے ہی ہیں۔ یہ قرآن کریم کا فیصلہ ہے۔ ووٹ قومی و آئینی ذمے داری ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے تعصبات سے بالاتر ہوکر ملک و قوم کے مفاد میں ووٹ دیتے ہیں۔ نئی نسل کا قرآن پاک سے رشتہ جوڑیں۔ اُنھیں سمجھائیں کہ وہ قرآن صرف ثواب کی نیت سے نہ پڑھیں بلکہ قرآنی حکمت اور احکامات کو سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
ظفر اقبال نے کہاکہ جمہوریت کی اساس میثاق مدینہ اور مجلس شوریٰ ہے۔لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے جمہوریت کے نام پر ایسے لوگ اقتدار میں ہیں جن کے مفادات ریاست کے مفادات سے براہ راست متصادم ہیں۔ ایمان، علم، عمل، تقویٰ، حکمت، دانائی، بصیرت و بصارت، جہاں بینی، بہادری، اخلاص، امانت، دیانت، صداقت اور مسلمانوں کے اجتماعی معاملات سے وفاداری جیسے اوصاف ایک بہترین مصلح قوم راہنما میں ہونے چاہئیں۔
ڈاکٹر عامر طاسین نے کہاکہ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ہم سب اپنی جگہ نگہبان اور جوابدہ ہیں۔ ہم سب اپنے سماجی تعلقات اور دنیاوی معاملات میں اللہ کو جوابدہ ہیں۔ ہمیں اتنا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا کہ اپنا احتساب کریں اور پرکھیں کہ کیا ہم اپنے خاندان، رشتوں، لین دین اور دیگر سماجی معاملات میں انصاف کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں یا نہیں۔ کیا ہم میں احساس ذمے داری بھی ہے۔
ڈاکٹر امجد جعفری نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفےٰصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حسن تدبر اور حسن انتظام سے روئے زمین پر ایک ایسی مثالی سلطنت اور نمونے کا ایسا معاشرہ قائم کیا جس کے لیےچشم فلک آج پھر ترس رہی ہے۔مستحکم معاشرے اور پرسکون اجتماعیت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاندار اقدامات کیے۔
اجلاس سےڈپٹی اسپیکر کرنل (ر)مختار احمد بٹ،عثمان دموہی ، شہلا احمد، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد، انجینئر ابن الحسن اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سید محمد ارسلا ن بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی یوم وفات ۱۱ستمبر کی مناسبت سے فاتحہ خوانی کی گئی۔ شرکاء نے شہید پاکستان حکیم محمد سعید کو اُن کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیااور علیل رُکن شمیم کاظمی کی بحالی صحت کے لیے دعا کی۔ نظامت کے فرائض کرنل(ر) مختار احمد بٹ نے انجام دئیے۔





































