
کراچی (نمائندہ رنگ نو) ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی جانب سےضرورت مند اورمستحق طلبہ کوعصرحاضرکےمطابق جدید مضامین سے روشناس
کروانے اور ہنرمند بنانے کے لیے ہمدرد اسکل ڈولپمنٹ پروگرام کےنام سے چار ماہ کی مدت کا ہنر مندی کورس متعارف کروایا ہےجو برلٹس انسٹی ٹیوٹ میں سکھایا جائےگا۔
اس پروگرام کے تحت ہنرمندی کے کورس کے ساتھ انڈسٹری پارٹنرزکی حمایت سےطلبہ کےباعزت روزگارکابھی انتظام کیا جائےگا۔اس پروگرام کی افتتاحی تقریب گزشتہ روز برلٹس انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوئی جس میں ہمدردفائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے بہ طور مہمان خصوصی شرکت فرمائی۔ تقریب میں ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سید محمد ارسلان ، برلٹس انسٹی ٹیوٹ کےکنٹری منیجر ندیم حق اور پروگرام میں داخل ہونے والے پہلے بیج کےسترطلبہ بھی شریک ہوئے۔
محترمہ سعدیہ راشد نےداخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارک باد پیش کی اورکہاکہ آج کے جدید زمانے میں نوجوانوں کا ہنر مند ہونا ملکی تعمیر و ترقی کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
بانی ہمدرد پاکستان شہید حکیم محمد سعید پاکستانی نوجوانوں کو عصری تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کے اپنے مشن پر پوری عمر کاربند رہے۔اب ہمدرد فائونڈیشن پاکستان اُن کے اس مشن پر پوری طرح سے عمل پیرا ہے اور نوجوانوں کو تربیت یافتہ اور ہنر مند پروفیشنل بنانے میں کوشاں ہے۔ اُنہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ اپنی تعلیم پر یکسوئی سے توجہ دیں ، موبائل فون صرف ضرورت کے تحت استعمال کریں ، دیگر غیر صحت مندانہ سرگرمیوں سے دور رہتے ہوئے اپنی صحت کا خیال رکھیں اور وقت کی قدر کریں۔
ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سید محمد ارسلان نے پروگرام کےخدوخال بیان کرتے ہوئے کہاکہ اس پروگرام کے تحت ہمدرد فائونڈیشن تمام طلبہ کی فیس ادا کرے گا جبکہ برلٹس انسٹی ٹیوٹ طلبہ کومطلوبہ تربیت وہنر سے آراستہ کرے گا۔ ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی یہ سہولت قرض حسنہ کے اسلامی ماڈل کومد نظر رکھ کر ترتیب دی گئی ہے، جس میں طلبہ اپنی تربیت مکمل کرنے کے بعد جب برسرروزگار ہوجائیں تو معمولی اقساط میں اس رقم کی ادائیگی کریں تاکہ دوسرے طلبہ بھی اس سہولت سے استفادہ کرسکیں۔
ہمدرد فائونڈیشن پاکستان نے مربوط حکمت عملی کے تحت یقینی بنایا ہےکہ اس پروگرام سے ہر طبقے کا طالب علم مستفید ہوسکے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف طلبہ کو ضروری تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے بلکہ اس اقدام کی حمایت کرنے والے انڈسٹری پارٹنرز کے ذریعے معقول و مناسب روزگار کا بندوبست بھی کرنا ہے۔ اُنہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس پروگرام کو مزید فعال و متحرک بنانے کے لیے اپنا تجربہ ضرور بیان کریں





































