
کراچی(نمائندہ رنگ نو )ملائیشیا اورروس نےنرسنگ کے شعبہ میں پاکستان کےساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ دیگر
شعبوں کی طرح نرسنگ کے شعبہ میں بھی پاکستان ترقی کی منازل طے کرسکے۔ یہ بات ملائیشیا اور روس کے سفارت کاروں نے ہمدرد یونیورسٹی کے زیر اہتمام منگل کو ختم ہونے والی نرسنگ پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ 18تا19نومبر نرسنگ پرمنعقدہ پہلی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اور دوسری لیمپ لائٹنگ تقریب سے ملائیشیا کے کراچی میں متعین قونصل جنرل ہرمن ہاردیناتا احمد، روسی قونصلیٹ کی ڈاکٹر نتالیہ زیڈووٹس اورممبر قومی اسمبلی مہتاب اکبر راشدی کے علاوہ ہمدرد یونی ورسٹی کی چانسلر محترمہ سعدیہ راشد، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن رفیدہ ہمدرد کالج آف نرسنگ کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عالیہ ناصر اور دیگر نے خطاب کیا۔کانفرنس کا اہتمام ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان،ہمدرد یونی ورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس فار انٹر نیشنل کولوبوریشن،ہمدرد یونی ورسٹی کی فیکلٹی آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل سائنسز اور رفیدہ ہمدرد کالج آف نرسنگ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ کانفرنس میں سات مختلف ممالک کے ماہرین نے اپنی تحقیقی مقالے پیش کئے۔
اس موقع پر رفیدہ ہمدرد سکول آف نرسنگ کے سال دوم کے طلباء نے فلورنس نائٹنگیل کی یاد میں چراغاں کیا اور اپنے پیشے کا حلف بھی لیا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی میں متعین ملائیشیا کے قونصل جنرل ہرمن ہاردیناتا احمد نے نشاندہی کی کہ پاکستانی طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ملائیشیا میں تعلیمی اداروں کا انتخاب کر رہی ہے جوکہ خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی شعبہ میں بہترین نتائج حاصل کرنے کے لئے ''ممالک کے درمیان تعاون بہت اہم ہے کیونکہ ترقی تنہائی میں حاصل نہیں کی جا سکتی۔“انہوں نے کہا کہ کراچی میں اپنی تعیناتی کے دو سال کے دوران میں نے تجارت، تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں پاکستانی اداروں اور افراد کے ساتھ تعاون بڑھانے کی بھرپور کوشش کی۔''
انہوں نے کہا کہ صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 3500 سےزائد پاکستانی سیاحت کےلیےملائیشیا روانہ ہوئے۔ ''یہ ایک اچھی تعداد ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تعاون بہتر ہو رہا ہے۔''
روسی قونصلیٹ کی ڈاکٹر نتالیہ زیڈووٹس نے کہا کہ روسی یونیورسٹیاں آپ کے لیے کھلی ہیں، روس آپ کے لیے کھلا ہے۔ زبان کوئی رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ آپ روسی یونیورسٹیوں میں انگریزی زبان میں تعلیم حاصل سکتے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی، سابق بیوروکریٹ اور ٹیلی ویژن کی معروف شخصیت مہتاب اکبر راشدی نے ہمدرد یونیورسٹی کے بانی چانسلر حکیم محمد سعیدکے بارے میں اپنے یادگاری لیکچر کے دوران شہید کیبصیرت،ان کی زندگی اور خدمات کے بارے میں شرکاء کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم صاحب نے اپنی زندگی میں جن شعبوں اور اداروں کے قیام کا خواب دیکھا تھا ان کی صاحبزادی اور چانسلر محترمہ سعدیہ راشد نے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچا رہی ہیں۔ ہمدرد یونی ورسٹی کی چانسلر محترمہ سعدیہ راشد نے اپنی تقریر میں نشاندہی کی کہ سرجن آپریشن کرتے ہیں اور معالج دوائیں تجویز کرتے ہیں جس کے بعد وہ پس منظر میں واپس چلے جاتے ہیں لیکن یہ نرسوں کا کام ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان میں سے ہر ایک کی مناسب دیکھ بھال کے بعد مریض بہتر ہو جائیں۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرسید شبیب الحسن نےکہا کہ حکیم سعید نے ایک مثال پیش کرتےہوئےکہا اگرایک عام آدمی نظم و ضبط کا پابند اور پرعزم ہو تو کس طرح بڑی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمدرد فاؤنڈیشن اور ہمدرد یونی ورسٹی کے بانی حکیم محمد سعید نے کس طرح اپنی ذاتی بچت کو اپنے عظیم منصوبوں کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”میں روزانہ حکیم صاحب سے اپنے کام کے سلسلے میں ملتا ہوں جب میں سوچتا ہوں کہ انہوں نے کس طرح سے ان مشکل کاموں اور ذمہ داریوں کو پورا کیا ہوگا جو انھوں نے اپنے اوپر لیے تھے۔ ایک طرح سے میں روزانہ اس سے ملتا ہوں،کانفرنس میں ملائیشیا سے آئے ہوئے تین ماہرین ایم اے ایچ ایس اے یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر زہرہ سعد، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا کے پروفیسر ڈاکٹر سید نورمل اور ملائیشیا کی کیدہ ریاست کی انیتا حسین نے شرکت کی اور مختلف اہم موضوعات پر اظہار خیال کیاجبکہ بیرون ملک سے انٹرنیٹ زوم کے ذریعے پریزنٹیشن دینے والے ماہرین میں ڈاکٹر پروین علی (برطانیہ)محترمہ ویرونیکا ولیم (آسٹریلیا) ڈاکٹر نیلم پنجانی (کینیڈا) اور محترمہ روزینہ فرشتہ (امریکہ) شامل تھیں۔ منتظمین کے مطابق کانفرنس کی کارروائی بھارت سمیت بیرون ملک سات ممالک کو براہ راست دکھائی گئی۔قبل ازیں
رفیدہ ہمدرد کالج نرسنگ کی پرنسپل عالیہ ناصر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ اس موقع پر نرسنگ کے مختلف انسٹیٹیوشنز کے مابین پوسٹر ز کمپٹیشن منعقد ہوا۔





































