
کراچی (نمائندہ رنگ نو )عالمی یوم صحت کی تھیم"صحت مند آغاز، اُمید افزا مستقبل "کے موضوع پر صدر ہمدرد فاؤنڈیشن
پاکستان محترمہ سعدیہ راشد کی موجودگی میں ہمدرد شوریٰ کراچی کا اجلاس گزشتہ روز ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں اسپیکر جنرل (ر) معین الدین حیدر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
معروف ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رضوانہ انصاری نےبطورمہمان خصوصی اپنےخطاب میں کہاکہ تن درست معاشرے کی بنیاد زچہ بچہ کی صحت ہے۔ ہر بچہ اُمید کا استعارہ ہوتا ہے ۔ ہر نومولود اللہ کی رحمت کا بین ثبوت ہے۔ ہم بہ حیثیت معاشرہ اللہ کی اس رحمت کے امین ہوتے ہیں۔ملکی صحتی بنیادی ڈھانچے کا طائرانہ جائزہ لیں تو کئی ہزار لوگوں کوفقط ایک معالج دستیاب ہے۔ مجموعی طور پر ملک کا طبی انفراسٹرکچر مخدوش حالت میں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جی ڈی پی کا کم از کم چھ فیصد شعبہ صحت پر خرچ ہونا چاہیے۔یہ باعث اطمینان ہے کہ صوبہ سندھ میں صحت کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے اتائی معالجین سے متاثر ہوکرادویہ خریدنا اور استعمال کرنے کی معاشرتی رویے کی سختی سے حوصلہ شکنی کرنی ضروری ہے۔ روزانہ سیکڑوں بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔ ایک ہزار میں سے پچاس سے اوپر بچے اپنی پیدائش کے پہلے مہینے میں ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی ، آلودہ پانی اشیا ء خورو نوش میں ملاوٹ جیسے قبیح عمل کی وجہ سے کئی بچے اور مائیں غذائی قلت کا شکار ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہاکہ دارالعلوم کراچی سےباقاعدہ فتویٰ لےکرملک میں پہل ملک کلیکشن بینک قایم کیا گیا تھا تاکہ غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے ضروری دودھ کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔ اس بینک میں دودھ عطیہ کرنے والی خواتین کا مکمل ریکارڈ موجود تھا تاکہ اسلامی اصولوں کی پاسداری برقرار کھی جائےلیکن غلط فہمی اور پروپیگنڈے کے بعد اس ملک سینٹر کو بند کردیا گیا جس کے بعد سے اب تک کئی بچے غذائی قلت کا شکار ہوکر دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔عوام الناس میں بہت سے غلط العام تصورات موجود ہیں جن کو ختم کرنا چاہیے۔ اس رویے کی وجہ سے خناق اور خسرہ جیسے امراض دوبارہ پھیلنے لگے ہیں۔پولیو کیس میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ملک کی بڑی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں کی خواتین کی طبی سہولیات تک رسائی نہیں ہے۔سندھ حکومت نے کچھ اچھے اقدامات لیے ہیں جیسے خواتین کو گھروں میں روایتی طریقوں سے بچہ پیداکرنے کی بجائے ہسپتال کی سہولیات استعمال کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ خواتین میں نشے کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔ گٹکا ، مین پوری، چھالیہ وغیرہ تو اب نشےمیں شمار ہی نہیں ہوتے۔اندرون ملک سفر کرنے والے بچوں کو بس اڈوں، ہوائی اڈوں اورٹرین اسٹیشنز پر پولیو ویکسین لگانے کا قانون پاس کرنا چاہیے اورجو والدین رُکاوٹ بنیں اُن کے خلاف قانونی کارروائی اور بھاری جرمانے ہونے چاہئیں۔

جنرل (ر) معین الدین حیدر نےکہاکہ دائی کےنظام کوجدید خطوط پر استوارکرنےکی ضرورت ہےتاکہ دوران زچگی مائوں اور بچوں کی اموات کی شرح کو کم سے کم کیا جاسکے۔ خواتین میں انٹرپرینیور صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ بااختیار اور خودمختار خواتین منصوبہ بندی کے تحت فیملی پلاننگ کرتی ہیں۔ عالماؤں کا کردار اہم ہے جو خواتین کی اسلامی تعلیمات کے تناظر میں راہنمائی کریں۔
انجینئر ابن الحسن نے کہاکہ پاکستان کو اپنی آبادی پر قابوپانے کےلیےمربوط حکمت عملی ترتیب دیناہوگی۔ بنگلادیش بھی ایک اسلامی ملک ہے۔اُنہوں نے بھی آبادی پر کنٹرول کرلیا ہے۔بنگلادیش میں خواتین کے ذریعہ معاش پر حکومت کی خاص توجہ رہی۔اس لیے وہاں بھی بہت سی ایسی صنعتیں ہیں جہاں صرف خواتین ملازمین ہیں۔
کموڈور (ر) سدید انور ملک نے کہاکہ ہم جیسی قوم چاہتےہیں ویسےہی بچے تیارکرنا ہوں گے۔اس کے لیے اسکولوں سےبڑھ کر کوئی اہم ادارہ نہیں۔ بچوں کو ایسا فکری و صحت مند ماحول فراہم کرنا ہےجہاں اُن کی تخلیقی اور تخیلاتی صلاحیتیں پروان چڑھیں۔پالیسی بنانے سے زیادہ اہم اُس پالیسی کو درست انداز میں معاشرے میں نافذ العمل کرنا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث نے کہاکہ جوعمر نوجوانوں کےکریئربنانے کی ہوتی ہے،اُس عمرمیں اُن کی شادی کردی جاتی ہے۔ طبی سہولیات اور آگہی نہ ہونے کی وجہ سے زچگی کے دوران بہت سی بچیوں کی اموات ہوجاتی ہیں۔
اجلاس سے ڈپٹی اسپیکر کرنل(ر) مختاراحمد بٹ، ظفر اقبال احمد، ہما بیگ ، پروفیسر ڈاکٹر تنویرخالد، نصرت سرفراز،انجینئر پرویزصادق،رضوان احمد،ڈاکٹر عامر طاسین ، ڈاکٹر امجد جعفری و دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ اجلا س میں ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سید محمد ارسلان بھی شریک ہوئے ۔اجلاس میں محترمہ سعدیہ راشد کوسرکاری اعزاز ’ ہلال امتیاز‘ ملنے پر شوریٰ اراکین نے مبارک باد دی اور سینیٹر تاج حیدر کے انتقال پرشرکاء نے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔





































