
تل ابیب (ویب ڈیسک،خبرایجنسی)اسرائیل کےغزہ میں مظالم کا سلسلہ جاری ہےجبکہ غزہ میں امداد کے داخلےکو بھی روک دیا گیا ہے۔اسرائیل نے کہا ہے
کہ جنگ کے خاتمے کیلئے کسی بھی تصفیے کےبعد بھی اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ میں بنائے گئے بفر زون میں موجود رہیں گے۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بات اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے گزشتہ روز فوجی کمانڈروں کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہی،انہوں نے کہا کہ غزہ میں امداد کا داخلہ روکنے کا عمل بھی جاری رہے گا۔اسرائیلی وزیردفاع نے کہا کہ ماضی کے برعکس اسرائیلی فوج ان علاقوں کو خالی نہیں کرے گی جنہیں کلیئر کر کے قبضے میں لےلیاگیاہے۔اسرائیلی فوج غزہ میں کسی بھی عارضی یا مستقل صورتحال میں دشمن اور کمیونٹیز کے درمیان بطور بفر سکیورٹی زون میں رہے گی جیسا کہ لبنان اور شام میں ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک غزہ پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کوداخل ہونے سےروکنے کا عمل جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی پالیسی واضح ہے کہ غزہ میں کوئی انسانی امداد داخل نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ اسرائیلی افواج نے گزشتہ ماہ اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے غزہ میں ایک وسیع سکیورٹی زون تشکیل دیا ہے اور 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو غزہ کے جنوب اور ساحلی پٹی کی جانب مزید چھوٹے علاقوں تک محدود کر دیا ہے۔
غزہ پٹی کے صرف جنوبی حصے میں ہی اسرائیلی افواج نے علاقے کے تقریبا 20 فیصد حصے پر قبضہ کرلیاہےاورسرحدی شہررفح کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور غزہ کے مشرقی کنارے سے بحیرہ روم تک رفح اور خان یونس شہر کے درمیان بحیرہ روم تک پھیلے ہوئے موراگ کوریڈور میں شامل کر دیا ہے۔اقوام متحدہ نے چند روز قبل ہی کہا تھا کہ اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ پٹی کو شدید ترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔ اسرائیل نے2 مارچ سے غزہ میں امداد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔




































