
ڈھاکہ (ویب ڈیسک ،فوٹو فائل)بنگلہ دیش کی عدالت نےسابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کے 28ساتھیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے ہیں۔
ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ میٹروپولیٹن سیشن جج ذاکر حسین غالب نےانسداد بدعنوانی کمیشن(اے سی سی) کی طرف سے دارالحکومت کے پورباچل علاقے میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں پر دائر بدعنوانی کے دو مقدمات پر سابق وزیر اعظم ، ان کے بیٹے سجیب واجد جوئے اور 27دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں۔
پہلے کیس میں شیخ حسینہ سمیت 12افراد اور ہاﺅسنگ اور پبلک ورکس کی وزارت اورراجدھانی انائین کرتاریپکھا (راجوک) کے کئی عہدیداروں کےنام ہیں،دوسرا مقدمہ، جو سجیب واجد جوئی کے خلاف درج کیا گیا ہے ،میں 17ملزمان شامل ہیں، جن میں ان کی والدہ شیخ حسینہ اور انہی اداروں کے مزید اہلکار شامل ہیں،اے سی سی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امین الاسلام نے عدالتی حکم کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کی رپورٹ جمع کرانے کے لیے 28 اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
مقدمہ کے مطابق وزیر اعظم کے طور پر کام کرتے ہوئے، شیخ حسینہ نے اپنے سرکاری حلف نامے میں اپنی، اپنے بچوں، بہن اور خاندان کے دیگر افراد کی ملکیتی جائیدادوں کے بارے میں معلومات چھپا کر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ ڈھاکہ میں پہلے سے ہی رہائش گاہیں ہونے کے باوجود انہوں نے ہاﺅسنگ منسٹری اور راجوک کے حکام کو غیر قانونی طور پر ایک انتہائی قیمتی پلاٹ پرباچل میں ڈپلومیٹک زون کے سیکٹر 27میں روڈ 203پر پلاٹ 9اپنے نام پر حاصل کیا۔
یہ الزامات پینل کوڈ 1860 اور بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ 1947 کی دفعات کے تحت آتے ہیں۔ واضح رہے کہ 10اپریل کو اسی عدالت نے شیخ حسینہ، ان کی بیٹی صائمہ ویز پتول اور 16دیگر کے خلاف پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں مبینہ بدعنوانی کے الزام میں ایک اور مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔
تیرہ پریل کو، شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ، ریحانہ کے بیٹے رضوان مجیب صدیق بوبی، بیٹی ٹیولپ رضوانہ صدیق اور عظمیٰ صدیق سمیت 53 افراد کے خلاف تین اضافی مقدمات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے، جن پر مبینہ طور پر راجوک سے 30کٹھہ کا پلاٹ حاصل کرنے کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا۔




































