
کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر وزیرِاعظم عمران خان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی تقریر
برداشت نہیں کرپائیں گے تو ملک کیسے چلائیں گے؟
کراچی پریس کلب میں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زردای نے وزیرِاعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ اگر وزیرِ اعظم پارلیمان کو سنجیدہ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اسی کے ذریعے عوامی مسائل حل کرسکتےہیں تو پھر تحریک انصاف کی حکومت کامیاب ہوجائے گی۔
انہوں نےکہا کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت عوامی مفاد میں قانون سازی کریں گے تو کیا ہم ان کی مخالفت کریں گے؟
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نےبجٹ پیش کیا اور اگلے ہی روز اسمبلی سیشن کو ملتوی کردیا۔ عمران خان کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی تقریر برداشت نہیں کرسکتے،اگر وہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر برداشت نہیں کریں گے تو ملک کیسے چلائیں گے؟
چیئرمین پی پی پی نےتحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے الیکشن مہمات میں عوام سے وعدے کیے تھے کہ وہ لوگوں کو گھر اور نوکریاں فراہم کریں گے، لیکن اب حکومت ان سے ان کے روز گار چھین رہی ہے اور ان کی چھتیں گرا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے معاشی منصوبہ بندی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ ایسا کون سے ملک میں ہوتا ہے کہ ایک ہی سال میں تین مرتبہ بجٹ پیش کردیا جائے؟
18ویں ترمیم پربات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اپنا کردارادا کیا ہے۔
چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی پوری جدوجہد 1973 کے آئین کی بحالی کے لیے تھی، جبکہ 18ویں آئینی ترمیم پورے ملک کے لیے تاریخی موقع تھا جس کی شکل میں 1973 کے آئین کو بحال کیا گیا۔




































