
برمنگھم(رپورٹ:غلام مصطفیٰ سید) انگلینڈ اور ویلز میں جاری کرکٹ کے 12ویں عالمی مقابلوں کے33ویں میچ میں پاکستان نے 1992 کی تاریخ دہراتے
ہوئے ٹورنامنٹ میں اب تک ناقابل شکست رہنے والی ٹیم نیوزی لینڈ کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدوں کو برقرار رکھا ۔
بدھ کو برمنگھم کا ایجبسٹن میدان پاکستان کے ہوم گراؤنڈ کا منظر پیش کررہا تھا۔ اسٹیڈیم میں ہرطرف صرف پاکستانی شائقین اور پرچموں کی بہار دکھائی دے رہی تھی۔
رات بھر بارش کی وجہ سے میدان گیلا اور پچ نمی سے متاثر ہوچکی تھی۔گراؤنڈ میں جمع پانی خشک کرنے کے باعث میچ بھی ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ ایسی کنڈیشنز میں کیوی کپتان ولیم سن نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا تکنیکی طور پر درست فیصلہ کیا،تاہم آج ان کا برا دن تھا۔
پاکستانی بولنگ اٹیک نے کیوی بلے بازوں پر ابتدا میں ہی ایسی کاری ضربیں لگائیں کہ حریف ٹیم کے اوسان خطا ہوگئے اور وہ پاکستان کو بڑا ہدف دینے کا اپنا خواب پورا نہ کرسکے۔ شاہین آفریدی، محمد عامر،وہاب ریاض اور شاداب خان کی نپی تلی اورتباہ کن بولنگ کے باعث کیوی ٹیم پچاس اوور میں 6وکٹوں کے نقصان پر 237 رنز ہی بنانے میں کامیاب ہوسکی۔پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 3 وکٹیں لیں جبکہ عامر اور شاداب نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
کیوی بلے باز وقفے وقفے سے پاکستانی بولرز کا شکار ہوتے گئے۔محمد عامر نے پہلے ہی اوور میں 5 کے مجموعے پر مارٹن گپٹل کو بولڈ کرکے پاکستان کو ابتدا میں ہی کامیابی دلوا دی۔پھر شاہین آفریدی نے 12 رنز بنانے والے کولن منرو کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔شاہین آفریدی نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اپنی تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ جاری رکھتے ہوئے نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرڈالا۔انہوں نے 38 کے مجموعے پرراس ٹیلر اور 46 کے اسکور پرٹام لیتھم کو بھی پویلین واپس بھیج دیا۔اس کے بعد آف اسپنر شاداب خان نے 83 کے مجموعے پر کیوی کپتان ولیمسن کی اننگز کا بھی خاتمہ کردیا۔ وہ41رنز بناسکے۔ 83 رنز پر 5 وکٹیں گرنے کے بعد کولن ڈی گرینڈ ہوم اور جمی نیشام پاکستانی بولنگ اٹیک کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہوگئے اور تمام بولرزکا ڈٹ کر سامنا کرتے ہوئے اپنی ٹیم کیلئے رنز سمیٹتے رہے۔
دونوں بلے بازوں نے نصف سنچریاں مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ چھٹی وکٹ کے لیے 132رنز کی شراکت قائم کی ۔ گرینڈ ہوم 64 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے، جبکہ نیشام نے 97 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔
238رنز ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو 19رنز پر پہلا دھچکا اس وقت لگا جب اوپنر فخرزمان ایک غیر ضروری شاٹ کھیل کر ٹرینٹ بولٹ کو وکٹ دے بیٹھے۔ اس کے بعد بابر اعظم اور امام الحق نے اسکور کو 44 تک پہنچایا۔مگر پھر امام الحق بھی فرگوسن کے ایک باؤنسر پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔وہ صرف 19رنزبناپائے۔ دو وکٹیں گرنے کے بعد بابراعظم اور تجربہ کار محمد حفیظ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیوی بولرز کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔دونوں کھلاڑیوں نے 66 رنز کی شراکت قائم کی ۔اس موقع پر حفیظ بھی ولیمسن کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔انہوں نے 32 رنز بنائے۔ پھرحارث سہیل وکٹ پر آئے اور ایک بارپھر عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے بابر کے ساتھ 100 رنز سے زائد کی فتح گر شراکت قائم کی۔
بابر اعظم نے پریشر کا مقابلہ کرتے ہوئےاعتماد سے بیٹنگ کی اور 124 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی اور رواں ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے سنچری بنانے والے پہلے کرکٹر بن گئے۔حارث سہیل 68 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد رن آؤٹ ہوئے لیکن کپتان سرفراز نے آخری اوور کی پہلی گیند پر چوکا لگا کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرا دیا۔بابر اعظم نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 101رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور انہیں اس شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔





































