
کراچی(ویب ڈیسک )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ خلیجی ممالک مسئلہ کشمیرپرہمارے ساتھ کھڑے
ہیں،پاکستان ہرفورم پرکشمیرکا مقدمہ بہترین طریقے سے لڑ رہا ہے،ایران، ترکی اور دیگرممالک نے بھارت کے خلاف آواز اٹھائی،انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
وہ دوروزہ دورہ سندھ سے واپسی پرکراچی میں جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پرصحافیوں سے گفتگوکررہے تھے،وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرکے لوگوں کی زندگی تنگ کردی ہے،بھارت ظلم وجبرسے کشمیر کی آزادی کو دبانا چاہتا ہے،اپوزیشن نے اسمبلی کے حد تک ہمارا ساتھ دیا،اگر ریلی میں بھی اپوزیشن والے ہوتے تو کشمیری اسے اور سراہتے۔
انہوں نے کہاکہ فضائی حدود کو بند کرنے کے معاملے پر بات چیت جاری ہے،فضائی حدود کو بند کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کریں گے ۔
شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارت نے 28 دن سے مقبوضہ کشمیرکو جیل بنا کر رکھا ہے، حریت رہنما نظربند ہیں، بھارت کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر حکومت کا نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے،گلف ممالک ہمارے ساتھ ہیں، اوآئی سی کے ممبران کا بھی متفقہ بیان آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت فاشسٹ پالیسی پر عمل پیرا ہے، بھارت میں آزادی رائے کو پامال کیا جارہا ہے، بھارت کو اقوام متحدہ ،یورپین یونین اور مشرقی وسطیٰ میں منہ کی کھانی پڑی، یورپ کو مسئلہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، امید ہے یورپین پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے آواز اٹھائی جائے گی۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں بے قصور لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں 28 دن سے کاروبار بند ہے، کشمیریوں کیلئے آواز اٹھانا پوری دنیا کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور ریلیوں میں اپوزیشن کے چہرے بھی نظر آتے تو اچھا ہوتا جب کہ پاکستان کی تمام اقلیتی کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، پاکستان کی ہندو کمیونٹی نے عمر کوٹ میں تاریخی اجتماع کا انعقاد کیا
۔انہوں نے کہاکہ ہم دنیا کو باور کرانا چاہتے ہیں کشمیر کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے ،عمران خان کا دنیا کو بتایا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں ،ہزاروں کی تعداد میں لوگ قید میں ہیں ،پاکستان کے میڈیا نے کشمیر کے معاملے پر اچھا کردار ادا کیا۔





































