
اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تمام ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کا خواہاں اور مصالحت کا
کردار ادا کر رہا ہے، امداد کے لئے دوسروں کی جنگ میں کود کر ملک نے بہت نقصان اٹھایا۔ اب ہم دنیا کے ساتھ سیدھی بات کرتے ہیں اور ایسا وعدہ نہیں کرتے جو پورا نہ کر سکیں۔ ملک میں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے، ادارے ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔
یہاں دو روزہ افریقی ممالک کیلئے پاکستان کے سفراء کی کانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کر تے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اداروں میں مثالی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، ملک میں عدم استحکام کی خواہش رکھنے والوں کو مایوسی ہوئی، پاکستان مشکل وقت سے نکل کر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی طاقت اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک میں میرٹ کو فروغ دیا ہے، ماضی میں میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر لوگوں کی تقرریاں کی گئیں، ہم نے بیورو کریسی میں ترقیاں بھی میرٹ پر دیں اور تقرریاں میرٹ پر کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں میرٹ پر لوگوں کو لگائیں گے کیونکہ جس ملک میں میرٹ ہو وہی آگے جاتا ہے۔
انہوں نے اس سلسلے میں چین کی مثال دی جہاں میرٹ کے نظام کے ذریعے لوگ اوپر آتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی بیورو کریسی میرٹ کی بنیاد پر کام کر رہی تھی، کھیلوں میں بھی وہی ٹیمیں آگے جاتی ہیں جو میرٹ پر منتخب کی جاتی ہیں، جمہوریت کی خوبی ہی یہ ہے کہ اس میں میرٹ کی بیناد پر لوگوں کو لایا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس بادشاہت میں پسند و ناپسند کی بنیاد پر نظام چلتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں بھی جمہوری کلچر تھا۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیز ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، شرح نمو جتنا مرضی بڑھ جائے اگر کرنسی نیچے جائے گی تو خسارہ بڑھ جائے گا اور کرنسی گرنے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے سے ملک غریب ہو جاتے ہیں کیونکہ سرمایہ نہیں آتا، ہمارے لئے ہماری برآمدات اور ترسیلات زر کی بڑی اہمیت ہے، یہ ہماری معیشت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے سمندر پار پاکستانیوں کا ہماری معیشت میں بڑا حصہ ہے، اس لئے ہماری سفارتکاری میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پریس اتاشیوں کا دوسرے ملکوں سے تعلقات میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے پریس اتاشیوں کو ہدایت کی کہ وزارت خارجہ سے رابطے میں رہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب میں نیلسن منڈیلا سے ملا تو انہوں نے پاکستان کی بہت تعریف کی، وہ قائداعظم سے بہت متاثر تھے، ہم نے اپنی جگہ خود کھوئی ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو اہم جغرافیائی حیثیت دی ہے اور وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو گئی ہے، پاکستانی روپے کی قدر اورا سٹاک ایکس چینج میں، باوجود اس کے کہ عدم استحکام کی کوششیں کی گئیں، بہتری آئی ہے۔




































