
اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر میں تاحال کرفیو کے نفاذ کا ذمہ
دار وفاقی حکومت کو قرار دیدیا ہے جبکہ جماعت اسلامی اور حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے جہاد کے اعلان کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اپوزیشن رہنماﺅں خواجہ محمد آصف ،راجہ پرویز اشرف و دیگر نے کہا ہے کہ کشمیر میں کرفیو ختم نہ ہونے کی ذمہ دار حکومت ہے ، ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود کرفیو ختم نہیں کروا سکے جو ہماری ناکامی ہے،تاریخ میں جتناکشمیر کا مسئلہ اجاگر ہوا وہ کشمیریوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہوا، او آئی سی مردہ تنظیم ہے ، ملائشیا، ترکی اور ایران نے آواز اٹھائی ہے اور کسی نے نہیں اٹھائی ، یہ ہماری مکمل سفارتی ناکامی ہے ،ملکی خارجہ پالیسی کو پولیو کے قطرے پلائیں ،خود مختار خارجہ و معاشی پالیسی بنائی جائے تاکہ ایٹمی ملک کی حیثیت سے پاکستان بات کر سکے ،کشمیر کا مسئلہ خلوص مانگتا ہے سیاست نہیں،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں 16 ووٹ نہ مل سکے یہ نہیں بتایا گیا کہ سلامتی کونسل کی نام نہاد اجلاسوں میں کیا بات ہوئی ، موجودہ حکومت نے اس کو پاکستان کی بقاءکا مسئلہ کی طرح ٹریٹ نہیں کیا،کشمیر پاکستان کو پکار رہا ہے ان کا وکیل بن کر دنیا میں جائیں۔جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ کشمیر کو آواز کروانا ہے تو جہاد کرنا ہوگا، وزیراعظم اعلان کریں کہ 10فروری سے ہم جہاد کریں گے تو پوری دنیا متحرک ہو جائے گی ۔
وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ کشمیر کیلئے خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے، وقت آگیا ہے کہ ہم نے مذمت نہیں کرنی بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دینا ہے ، مودی مسلمانوں کے خلاف جابر اور وحشی بن گیا ، ہمیں کشمیر پر سیاست نہیں کرنی چاہیے،غزوہ ہند کی ابتدا ہوچکی،مجھے یقین ہے میں خود سری نگر میں سبز ہلالی پرچم لہراو ¿ں گا۔'
پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس میں ایجنڈا معطل کر کے یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے کشمیر اظہار خیال کرنے کےلئے تحریک منظور کی گئی ۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 3اور4فروری کو کشمیر پر اظہار خیال کیا جائے گا اور کشمیر پر آج (منگل) کو قرارداد بھی منظور کی جائے گی۔





































