
اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی )وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات
فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ عورت مارچ کے نعروں کو ہمارا مذہب اور معاشرہ قبول نہیں کرتا اور مٹھی بھر افراد ہماری قوم کی بہنوں اور بیٹیوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ خواتین کو تحفظ دینا، انہیں بااختیار بنانا، پاکستان کے آئین و قانون سمیت ثقافتی و تہذیبی اقدار اور عورت کی توقیر اور شان کے مطابق پالیسی بنانا اور اس پر عمل کرنا وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیح ہے۔
نہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے تصور کو آگے بڑھانے میں خواتین کے کردار کو تسلیم کیے بغیر اس ریاست کی بنیادیں مضبوط نہیں بنائی جاسکتیں۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ہم وہ خوش قسمت خواتین ہیں جو ایک ایسے معاشرے کی باعمل اور بااختیار شہری ہیں جہاں ہمارا دین ہمارے لیے چادر اور چار دیواری کی حدود کو طے کر کے زندگی گزارنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے تمام اصول واضح کرچکا ہے اور ان اصولوں کی روشنی میں اسلامی فلاحی ریاست پاکستان میں آئین تمام خواتین کو یکساں مواقع فراہم کرنے اور ان کو ہر طرح سے بااختیار بنانے میں معاونت کر رہا ہے اور موجودہ حکومت خواتین کو معاشی محاذ پر ایک اہم پارٹنر بنانے جا رہی ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور پاکستان کا آئین اور قانون اس حق کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پرعزم ہے اور وزیر اعظم پاکستان کی سوچ کی عکاسی ہے کہ آپ پاکستان کے اندر پر طبقہ فکر، سوچ اور جنس سے تعلق رکھنے والا شہری اپنا حق استعمال کر سکتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ میری بیٹیوں، بہنوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے جن نعروں کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ کس معاشرے کی عکاسی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے معاشرے کی بنیاد سماجی، سیاسی، ثقافتی اور مذہبی اقدار کی بنیاد پر رکھی گئی ہے، میرے معاشرے میں سب سے پہلے طاقت میرا باپ دیتا ہے، پھر میرا بھائی میری عزت و توقیر کا ضامن بنتا ہے، پھر میرا خاوند میرا سرپرست بنتا ہے اور پھر میرا بیٹا بڑھاپے کا سہارا بنتا ہے، یہ میرا نظام ہے جو مجھے مذہبی انداز سے سماجی طور پر تحفظ فراہم کرتے ہوئے سپورٹ کرتا ہے اور میری طاقت بنتا ہے تو پھر مجھے اپنے آپ کو کمزور بنا کر اس طرح کے نعروں کے ساتھ کونسی طاقت چاہیے جس کے لیے مجھے سڑکوں پر آ کر وہ نعرے بلند کرنے پڑتے ہیں جن کی ہمارے معاشرتی نظام، معاشرتی رویوں، مذہب اور گھر میں اجازت نہیں اور نہ ذہن انہیں قبول کرتا ہے




































