
اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں بدترین دھاندلی کے باوجود بطور احتجاج
پارلیمنٹ کا حصہ بنے۔اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف کے صحت مند ہونے کا انتظار ہے عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔پارلیمنٹ کو کلبھوشن یادیو کی سہولت کاری کے صدارتی آرڈیننس سے بے خبر رکھ کر آئین کی خلاف ورزی کی گئی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے عام انتخابات کو دو سال مکمل ہونے پر سندھ ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے،بدترین دھاندلی کے الزام کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کے منقسم رہنے،آزادی مارچ میں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کی عدم شریک،حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے کسی واضح لائحہ عمل اعلان نہ کرنے اور مختلف مواقع پر اپوزیشن جماعتوں میں دوری کے سوالات کے جوابات کا واضح جواب نہ دے سکے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامیوں کو روایتی انداز میں اجاگر کر تے رہے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی نہ کیا جا سکا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 25 جولائی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔سلیکٹیڈ کا نظام لایا گیا سارے پاکستان میں دھاندلی ہوئی اگر کورونا کی وباء نہ ہوتی تو آج ساری سیاسی جماعتیں سڑکوں پر ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ سلیکیڈ حکومت کو بے نقاب کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا حصہ بنیں اور اسمبلیوں کا بائیکاٹ نہیں کیا پہلے انتخابات تھے جس میں پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالا گیا 90 فیصد فارم 45 غائب ہیں یا ان پر انتخابی نمائندوں کے دستخط نہیں ہیں۔انتخابات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اداروں کو جس طرح متنازعہ بنایا گیا اس کی مثال نہیں ملتی پہلی بار پاک فوج کے جوانوں کو پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر کھڑا کیا گیا جبکہ اس طرح کو جنرل ضیاء اور پرویز مشرف کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا یہ اقدام عمران خان کے لیے کیا گیا۔





































