
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی نے دو سال دور حکومت کو بیڈگورننس کی بدترین مثال قرار دے دیا۔ روٹیچھین لی گئی، روزگار ناپید
ہے،گرا دیا مکان یہ ہے نیا پاکستان۔صدر ہاؤس آرڈیننس فیکٹری بنا دیا گیا ہے۔
پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر حملہ آور ہونے والے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سے پارلیمنٹ کی بے توقیری جاری رکھے ہو ئے ہیں،نامزد حکومت آئینی انسانی معاشی حقوق غصب کرنے کی حدیں عبور کر رہی ہے۔نالائق کپتان اور نااہل حکومتی ٹیم نے عوام کو کرونا اور زراعت کو ٹڈی دل کے حوالے کردیا ہے معاشی بدحالی مطلق العنانیت ناقابل برداشت مہنگائی بے روزگاری کے سونامی کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے کہا ہے کہ گڈ گورننس کے دعویداران کے دور میں حکمران قانون سے بالا اور سیاسی مخالفین انتقام کے نشانہ پر ہیں۔حکومتی چھتری تلے آٹا چینی پٹرول مصنوعی بحران کے زریعے عوام کی جیبوں ہر کھربوں روپے ڈاکہ ڈالنے والے قانون کی گرفت میں نہیں۔آٹا چینی سبسڈی اجازت دینے کے ذمہ دار وزیراعظم اب بھی "کمیشن "بنا رہے ہیں۔ مخالفین کی کردار کشی الزام تراشی بد زبانی بد اخلاقی کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا جا رہا ہے۔میڈیا کی پیداوار پی ٹی آئی حکومت میں آزادی اظہار کا گلا گھونٹنے کے اقدامات ہورہے ہیں۔پی ٹی آئی ملکی خزانہ کی کنجیاں آئی ایم ایف کے حوالے کرنے
والی آئی ایم ایف ملازمین حکومت ہے۔ پارٹی چیرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں آئین کی بالادستی پارلیمنٹ کے وقاراور جمہوریت کی مظبوطی کا کردار جاری رہے گا۔





































