
اسلام آباد (ویب ڈیسک ) کابینہ کو بتایا گیا کہ کل سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو جائیں گی اور تین کروڑ
بچوں کا سکولوں میں تعلیم کا سلسلہ بحال ہو جائے گا۔ کابینہ نے اس امر پر زور دیا کہ کرونا کے خلاف حفاظتی تدابیر بشمول ماسک کے استعمال پر سختی سے عمل کیا جائے۔
وفاقی کابینہ نے برطانوی ایئرلائن ورجن اٹلانٹک کو پاکستان اور برطانیہ کے مابین پروازوں کے اجرائ، ٹی سی پی کی جانب سے درآمد کی جانے والی گندم کے حوالے سے پری شپمنٹ ایجنسیوں کو پری۔شپمنٹ انسپیکشن کی ون ٹائم اور افغانستان کے حوالے سے مجوزہ ویزہ پالیسی کی اصولی منظوری دیدی ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کو ملکی قرضوں اور ان کی واپسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کابینہ کومالی سال 2018، 2019اور 2020میں حکومتی قرضوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کو تیس کھرب روپے کا قرضہ ورثے میں ملا۔ جس کی قسطیں ادا کرنے اور ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لئے حکومت کو مزید قرضے لینے پڑے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ دورِ حکومت میں بیرونی قرضوں کی مد میں حکومت نے تقریباً چوبیس ارب ڈالر قرضہ حاصل کیا جس میں سے دو ارب ڈالر عبوری دورِ حکومت میں اٹھایا گیا۔
بیرونی قرضوں کی مد میں گذشتہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریبا ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی شرح سے قرضے واپس کیے جاتے تھے لیکن موجودہ دورِ حکومت میں ہر سال تقریبا دس ارب ڈالر کے حساب سے قرضے واپس کیے جا رہے ہیں۔کابینہ کو بتایا گیا کہ 2019میں حکومتی قرضوں میں 7.7کھرب روپے کا اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ (3.1کھرب روپے) روپے کی حقیقی قدر کو بحال کرنا تھا۔ کوویڈ کی وجہ سے تقریباً ایک کھرب روپے کی آمدن متاثر ہوئی۔2.1کھرب روپے ماضی کی حکومتوں کی جانب سے لیے گئے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں صرف ہوئے جبکہ ایک کھرب روپے حکومت کی جانب سے کیش بوفر کے طور پر رکھے گئے۔ سال 2020میں یہ اضافہ کم ہو کر 3.5کھرب ہو گیا ہے۔
پرائمری خسارہ 2019میں 1.5کھرب سے کم ہو کر 2020میں ایک کھرب رہ گیا ہے۔ گذشتہ بارہ سالوں میں پہلی بار مارچ تک پرائمری سرپلس 0.2کھرب روپے مثبت تھا تاہم کورونا کی وجہ سے یہ متاثر ہوا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ گذشتہ دو سالوں میں حکومت کی جانب سے مندرجہ ذیل اہم اقدامات اٹھائے گئے۔ جن میں پرائمری خسارے میں واضح کمی لانا، ایکسچینج ریٹ میں استحکام، ڈومیسٹک (اندرونی ) قرضوں کے معیار اور نوعیت کو بہتر کرنا، بیرونی قرضوں کی نوعیت میں بہتری لانا۔ قرضوں کے حوالے سے نئے پراڈکٹ متعارف کرانا اور مختلف دیگر اقدامات کئے گئے ہیں۔کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت ملکی برآمدات کو بڑھانے اور فارن ایکسچینج ذخائر کو بڑھانے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ اجلاس کو توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات خصوصاً گردشی قرضوں میں کمی لانے پر بریفنگ دی گئی۔




































