
اسلام آباد( ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کےلئے مجھے برطانیہ
جانا پڑا تو جاو¿ں گا،اپوزیشن مجھ سے این آر او حاصل کرنے کیلئے فوج اور عدلیہ پر دبا ﺅڈال رہی ہے، نواز شریف نے ہمیشہ ملک کےساتھ غلط کیا ، بدقسمتی سے عدلیہ نے بھی ان کا ساتھ دیا،نوازشریف اور اپوزیشن کے لوگ بھارت، اسرائیل اورپاکستان دشمنوں کےساتھ پوری طرح ملے ہوئے ہیں، پہلے میرے پیچھے پڑے تھے لیکن اب فوج کے پیچھے پڑ گئے ہیں
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں غلطی تھی ، آئی جی سندھ کے اغوا کا سن کر مجھے ہنسی آتی ہے،میرے پارٹی کے لوگ بھی گھبرا جاتے ہیں کہ جلسہ ہوگیا، جلسہ ایک جمہوری احتجاج ہے، میں نے نادان لوگوں سے کہا کہ ان کو کرنے دو۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان سب کا زور ہے کہ عمران خان ان کے کرپشن کو چھوڑ دے اس لیے جمع ہوگئے ہیں تاکہ میں بھی مشرف کی طرح دبا میں آکر ان کو این آر او دوں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھ سے پہلے اسحق ڈار، شہباز شریف کا بیٹا بھاگا اور نواز شریف کے بیٹے بھی باہر ہیں، ان سے کوئی پوچھتا ہے تو کہتے ہیں ہم برطانوی شہری ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ لندن میں وہ مہنگے ترین علاقے میں موجود ہیں اور اس لیے بھاگے ہیں کیونکہ ان کے پاس جائیداد کا کوئی جواب نہیں ہے۔
عمران خان نے کہا کہ پہلے میرے پیچھے پڑے تھے لیکن اب فوج کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ برٹش ورجن نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ برطانیہ میں ان کی چاروں فلیٹس کی مالکن مریم نواز ہیں اور اس پر کوئی جواب نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ پہلے دن سے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور سمجھ رہے تھے کہ پاکستان کی معیشت دیوالیہ ہوجائے گی اور اگر دیوالیہ ہوجاتا تو روپے کی قدر 200 یا 250 تک گرجانے تھی لیکن وہ نہیں ہوا۔عمران خان نے کہا کہ پھر کووڈ-19 کا مسئلہ آیا جبکہ شہباز شریف نے 2300 کروڑ روپے نکلا ہے، اور وہ اس لیے واپس آئے تھے کہ کووڈ کی وجہ سے پاکستان بیٹھ جائے گا۔
انہوں نے کہ مجھ سے این آر او لینے کی آخری کوشش ایف اے ٹی ایف پر کی اور سمجھا کہ قانون کے لیے میں گھٹنے ٹیک دوں گا جب وہ نہیں ہوا اور قانون سازی ہوئی تو چپ بیٹھے ہوئے باپ بیٹے باہر نکلے اور ایک دم نظر آیا۔ان کا کہنا تھا کہ اب ان کا مقصد ہے کہ سارا دبا فوج اور عدلیہ پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ عمران خان سے کہیں کہ این آر او دیں۔عمران خان نے کہا کہ میرے پارٹی کے لوگ بھی گھبرا جاتے ہیں کہ جلسہ ہوگیا، جلسہ ایک جمہوری احتجاج ہے، میرے نادان لوگوں سے کہا کہ ان کو کرنے دو۔





































