
اسلام آباد(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی،فوٹو فائل)وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران ہونے
والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر نو کے منصوبے میں غیر شفاف طریقے سے ٹھیکے دینے، سامان کی غیر قانونی خریداری، اور مختلف ٹال پلازہ کے ٹھیکے دینے کے معاملات کی تحقیقات کرے گی۔
کمیٹی کے تحت ہونے والی تحقیقات میں یہ سوالات شامل ہوں گے کہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر نو کے منصوبے کا ٹھیکہ غیر قانونی اور غیر شفاف طریقے سے کس طرح دیا گیا۔ اس کے علاوہ، کمیٹی الیکٹریکل ورکس کے لیے سامان کی غیر قانونی خریداری اور اوپن آکشن کے بغیر ٹھیکہ دئیے جانے والے معاملات کی بھی تحقیقات کرے گی۔
اس کے علاوہ، کمیٹی مختلف ٹال پلازہ کے ٹھیکے غیر قانونی طور پر دینے کے حوالے سے بھی تفصیل سے تحقیقات کرے گی،اس تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی سابق وفاقی سیکرٹری میاں مشتاق احمد کریں گے جبکہ دیگر اہم ارکان میں سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل، سیکریٹری تجارت پال، چیئرمین پی ایم آئی سی بریگیڈیئر ریٹائرڈ مظفر علی رانجھا، اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے شامل ہوں گے،کمیٹی کو تین ہفتوں کے اندر تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ وزیراعظم پاکستان کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان بے ضابطگیوں کے حوالے سے مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ عوام کے پیسوں کی حفاظت کی جا سکے اور کوئی بھی ملوث شخص قانون کے مطابق سزا کا حقدار ٹھہرے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام سرکاری منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنائے گی۔یہ تحقیقاتی کمیٹی حکومت کے عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ملک میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے کیلئے تیار ہے۔ کمیٹی کی تحقیقات اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا درست استعمال ہو اور مستقبل میں ایسے کسی بھی فراڈ یا بے ضابطگیوں کو روکا جا سکے۔





































