
نیویارک ( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل )اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں واضح کیا ہے کہ
پاکستان عالمی تنازعات کے حل کے لیے ہمیشہ ڈائیلاگ اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس اور یوکرین کے مابین جاری جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات چھوڑے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ دونوں فریق ہٹ دھرمی سے گریز کرتے ہوئے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔
عاصم افتخار نے بتایا کہ پاکستان کو روس۔یوکرین جنگ کے باعث شدید خدشات لاحق ہیں، کیونکہ اس تنازع نے عام شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ انہوں نے عالمی قوانین کے مطابق شہریوں اور اہم انفرااسٹرکچر کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ فریقین کشیدگی میں کمی، محاذ آرائی کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب بڑھیں۔ پاکستان ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو پُرامن مذاکرات کو آگے بڑھائے۔
دریں اثنا، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس کی مشاورت سے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نیا خفیہ امن منصوبہ تیار کر رہی ہے، جس کی قیادت امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے اس منصوبے کی خاموشی سے منظوری بھی دے دی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ 28 نکات پر مشتمل مجوزہ روڈ میپ میں یوکرین میں امن و سکیورٹی گارنٹی، یورپ کی مجموعی سلامتی، اور مستقبل میں امریکا، روس اور یوکرین کے باہمی تعلقات جیسے اہم امور شامل ہیں۔





































