
لاہور(محمدسعاد صدیقی /اشرف سکندر/نمائندگان رنگ نو)جماعت اسلامی پاکستان کا تین روزہ اجتماعِ عام "نظام بدلو" مینارِ پاکستان
میں بھرپور جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے، جہاں ملک بھر سے آئے لاکھوں محبِ وطن افراد کی شرکت نے ماحول کو روح پرور بنا دیا ہے۔ پنڈال علما، اسکالرز، نوجوانوں، اساتذہ، خواتین اور بزرگ شرکا سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔
اجتماع کے پہلے روز ہونے والے افتتاحی سیشن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی فکر، جدوجہد اور جماعت اسلامی کے قیام کے بنیادی مقاصد پر مفصل گفتگو کی گئی، جسے شرکا نے دل چسپی سے سنا۔تین روزہ اجتماع کے پہلے دن کا باضابطہ آغاز جمعہ کی نماز کے فوراً بعد ظہر تا عصر سیشن سے ہوا، جہاں مختلف مکاتبِ فکر کے علما نے ملکی صورتحال اور امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
پہلے روز کا ایک اور اہم سیشن رات 9:30 بجے منعقد ہوگاجس میں "نظامِ تعلیم اور ہماری ذمہ داریاں" کے موضوع پر پاکستان کے تعلیمی ڈھانچے، اصلاحات کی ضرورت اور اسلامی و اخلاقی تربیت کے تقاضوں پر گفتگو کی جائے گی۔اجتماع کا پہلا دن رات 11:30 بجے اجتماعی دعا اور خصوصی خطاب کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔
امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اجتماع عام میں شرکت کرنے والوں کے جذبے کوسراہا اور اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ پاکستان کسی جنرل ،سیاست دان اور صدرزرداری،وزیراعظم شہباز شریف ،عمران خان یا نعیم الرحمن نہیں ہے ،یہ 25 کروڑ عوان کا ملک ہے ،انہوں نے کہا نظام بدلنے کی جب بات آتی ہے تو اس میں مشکلات آتی ہیں ،انہوں کے لوگوں سے کہا کہ کیا آپ ان مشکلات کو فیس کرنے کیلئے تیار ہیں ،کیا جیلوں میں جانے کیلئے تیار ہیں ،جس پر لوگوں نے پارٹی پرچم لہرا کر ہاں میں جواب دیا ۔انہوں نے کہ اجتماع عام کے آخر میں وہ آئندہ کا پروگرام پیش کریں گے ۔





































