
لاہور( محمد سعاد / اشرف سکندر / نمائندگان رنگ نو )میر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کسی کو کوئی
استثنا حاصل نہیں اور پاکستان میں صرف اللہ کا نظام نافذ ہوگا۔
مینارِ پاکستان گراؤنڈ میں منعقدہ اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اللہ کی بنائی ہوئی زمین پر صرف اللہ کا قانون نافذ ہوگا اور کوئی انسان اللہ کے قانون سے بڑا یا طاقتور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں عوام آج اس عہد کی تجدید کر رہے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی بالادستی قبول نہیں کی جائے گی۔
ملکی سیاسی ڈھانچے اور حکومتی طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ دھوکے سے اقتدار میں آنے والے اکثر بیرونی طاقتوں سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کے لیے کوئی استثنا نہیں ہونا چاہیے، نہ کسی ادارے کے سربراہ، نہ صدر، نہ وزیرِاعظم، اور نہ ہی سردار یا وڈیروں کے لیے۔ اب ملک میں اللہ کا نظام نافذ ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر کوئی طاقت یا فارم 47 کے ذریعے حکومت پر قبضہ کرے گا تو مزاحمت ناگزیر ہوگی۔ انہوں نے جماعت اسلامی میں قیادت کی شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہاں وراثت یا خاندانی بنیادوں پر قیادت نہیں بنتی، اور اسی لیے وڈیروں اور جاگیرداروں کی سرپرستی میں چلنے والی جماعتیں حقیقی انقلاب نہیں لا سکتیں۔
انہوں نے بنگلا دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جماعت اسلامی کے رہنما کو پھانسی دی گئی، لیکن نوجوانوں نے جدوجہد جاری رکھی اور آج وہ بھارت نواز لابی کو شکست دے چکے ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے تعلیم، عدالتی نظام، مقامی حکومتیں، زراعت، صنعت اور مزدوروں کے حقوق پر بھی تفصیل سے بات کی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ صوبائی حکومتوں کے پاس تعلیم کے لیے 2100 ارب روپے کا بجٹ موجود ہے، مگر یہ فنڈز کہاں خرچ ہو رہے ہیں، اس کا کوئی علم نہیں۔ انہوں نے یکساں نظام تعلیم کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ ہر سال اے اور او لیول امتحانات کے لیے 50 ارب روپے بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے پنجاب حکومت کے نئے مقامی حکومتوں کے ایکٹ کو ظالمانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ ہارس ٹریڈنگ کو نچلی سطح تک لے جانے کی کوشش ہے۔ اس ایکٹ کے خلاف تحریک چلائی جائے گی اور جماعتی بنیادوں پر انتخابات کو لازمی بنایا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ عدالتی نظام عوام کو انصاف دینے کے بجائے انہیں تذلیل کا سامنا کراتا ہے۔ قاضی کورٹس اور مصالحتی کونسلوں کے قیام سے 90 فیصد عدالتی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین خراب نہیں، بلکہ نظام خراب ہے اور جماعت اسلامی عدل پر مبنی نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید تنزلی کا شکار ہے، صنعتی پیداوار منفی ہو چکی ہے اور سرمایہ دار ملک چھوڑ رہے ہیں۔ پیداواری لاگت میں اضافہ اور ناکام پالیسیوں کے باعث برآمدات کم ہو گئی ہیں، اور ملک ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کو دی جانے والی زمینیں کسانوں کو دی جانی چاہئیں اور کوآپریٹو نظام کے ذریعے زرعی ترقی ممکن ہے۔
آخر میں حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ ملک میں نظام کی تبدیلی کے لیے تمام سیاسی کارکنان، نوجوانوں اور خواتین کو فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی پرامن جدوجہد کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کرتی رہے گی اور آئندہ لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کل کیا جائے گا۔





































