
واشنگٹن : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور
فلسطینی عوام کی مسلسل اذیت ناک حالت پر اپنا دوٹوک، واضح اور اصولی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں دنیا کو یاد دلایا کہ اگرچہ مقبوضہ فلسطین میں چند سیاسی پیش رفتوں کے آثار دکھائی دیتے ہیں، مگر زمینی حقیقتیں اب بھی انہدام، جارحیت اور انسانی جانوں کے بے دریغ ضیاع کے گرد ہی گھوم رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں غزہ پر اسرائیلی حملوں نے زندگی کے ہر شعبے کو اس بے رحمی سے تباہ کیا ہے کہ یہ صورتحال محض انسانی بحران نہیں رہی بلکہ عالمی نظامِ انصاف کے لیے ایک کھلا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک ستر ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، شہید ہوچکے ہیں اور پورا سماجی و معاشی ڈھانچہ ملبے میں تبدیل ہو گیا ہے، جبکہ عالمی برادری کے بارہا کیے گئے جنگ بندی مطالبات مسلسل نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والی دو اہم سفارتی پیش رفتوں کا بھی حوالہ دیا جن میں ایک بین الاقوامی اعلیٰ سطحی نشست تھی جس میں دنیا نے دو ریاستی حل کے لیے عملی اور ناقابلِ واپسی اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ دوسری پیش رفت شرم الشیخ امن سربراہ اجلاس تھا جہاں خطے اور عالمی طاقتوں نے جنگ بندی کے استحکام، انسانی بحران کے ازالے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی واضح راہ پر اتفاق کیا۔
یہی سفارتی کوششیں بالآخر سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی منظوری پر منتج ہوئیں جس نے امن کے لیے ایک نئی سیاسی راہ ہموار کی، تاہم پاکستانی مندوب نے گہری تشویش ظاہر کی کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں جن میں مزید تین سو سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جو اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صرف بیانات سے عملی تحفظ ممکن نہیں۔ انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ مغربی کنارہ شدید عدمِ تحفظ میں گھرا ہوا ہے؛ اسرائیلی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیاں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں اور کئی فلسطینی دیہات جبری بے دخلی کا شکار ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر عاصم افتخار نے کہا کہ امن کا راستہ تبھی نکل سکتا ہے جب قرارداد 2803 پر مخلصانہ عمل درآمد یقینی بنایا جائے، مکمل جنگ بندی ہو، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ممکن ہو، غزہ کی فوری تعمیرِ نو کی جائے، جبری بے دخلی اور الحاق کا سلسلہ روکا جائے، آبادکاری کا خاتمہ کیا جائے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر شفاف احتساب ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار سیاسی حل وہی ہے جو فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے احترام اور 1967ء کی سرحدوں کے مطابق القدس شریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہے۔
انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ یہ وقت فیصلے کا ہے، وعدوں کا نہیں۔ اب عملی اقدامات ہی فلسطینی عوام کی نجات کا راستہ ہیں۔ پاکستان نے دنیا پر واضح کیا کہ وہ فلسطینی عوام کی جدوجہد، حقوق اور آزادی کے لیے نہ صرف سفارتی محاذ پر بلکہ اصولی بنیادوں پر ہمیشہ ثابت قدم رہے گا، اور فلسطینی قوم کی غیر معمولی ثابت قدمی عالمی برادری سے اسی درجے کے عزم کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں پاکستان ہمیشہ ان کا ساتھ دیتا رہے گا۔





































