
واشنگٹن ( ویب ڈیسک ، فوتو فائل )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم برادرہُڈ کے چند ونگز کو دہشت گرد قرار دینے کے باضابطہ
عمل کا آغاز کرتے ہوئے ایکو ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس آرڈر کے تحت امریکی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ تنظیم کے مخصوص حصوں کو فارن ٹیراسٹ آرگنائزیشن (ایف ٹی او) اور اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیراسٹ کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں۔
صدر کے دستخط کردہ حکم نامے میں وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو اس عمل کی رہنمائی کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ دونوں اعلیٰ عہدیداران کو امریکی اٹارنی جنرل اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک جامع رپورٹ تیار کرنا ہوگی، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ لبنان، مصر اور اردن میں سرگرم مسلم برادرہُڈ کے کن ونگز کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس سلسلے میں ایک تفصیلی فیکٹ شیٹ بھی جاری کی ہے، جس میں اس فیصلے کے قانونی، سفارتی اور عملی مراحل کی وضاحت کی گئی ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق مسلم برادرہُڈ خطے میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہے اور اس کی سرگرمیاں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے لیے خطرات پیدا کرتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے بھی متنازع اقدام اٹھاتے ہوئے مسلم برادرہُڈ اور کیئر پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا،جس نے ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔





































