
واشنگٹن ( ویب ڈیسک )امریکی حکومت نےاچانک فیصلہ کرتے ہوئے افغان پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے تمام
ویزوں اور اسائلم کیسز پر کارروائی فی الفور روک دی ہے۔ اس فیصلے نے خاص طور پر اُن درخواست گزاروں کو شدید بے یقینی میں مبتلا کردیا ہے جن کی درخواستیں آخری مراحل میں تھیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق افغانستان سے سفر کرنے والے یا افغان پاسپورٹ استعمال کرنے والے ہر فرد کے ویزے عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سیکیورٹی صورتحال اور بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث یہ اقدام ضروری ہو گیا تھا، تاکہ نئی سیکیورٹی ہدایات کے مطابق تمام تر جانچ پڑتال مکمل کی جا سکے۔
یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے بھی اسی نوعیت کا حکم جاری کرتے ہوئے اسائلم اور دیگر امیگریشن درخواستوں کی کارروائی روک دی ہے۔ ادارے کے مطابق اب کوئی بھی درخواست اُس وقت تک قابلِ غور نہیں ہوگی جب تک تمام سیکورٹی کلیئرنس مراحل مکمل نہ کر لیے جائیں۔
فیصلے سے ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ زدہ اور ترقی پذیر ممالک سے ہجرت کے راستے محدود کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور ایسے افراد کی شہریت بھی واپس لی جاسکتی ہے جنہیں داخلی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ پابندیاں اسی نئی سخت پالیسی کا آغاز ہیں۔
دو روز قبل وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ کے واقعے میں ایک افغان نژاد شخص ملوث پایا گیا تھا، جس کے باعث ایک خاتون نیشنل گارڈ اہلکار ہلاک ہوگئی تھی۔ امریکی میڈیا کے مطابق حملہ آور 2021 میں ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا، اور اس واقعے نے امیگریشن پالیسیوں پر براہِ راست اثر ڈالا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مزید سخت اقدامات تجویز کیے گئے تو یہ پابندیاں طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں۔ فی الحال امریکی حکام کی اولین ترجیح داخلی سلامتی اور شہریوں کا تحفظ قرار دیا گیا ہے۔





































