
راولپنڈی: راولپندی میں اڈیالہ جیل کے گرد و نواح میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی کو ہائی الرٹ
کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے خصوصی سکیورٹی پلان نافذ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ انتظامات غیر معینہ مدت تک برقرار رہیں گے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل روڈ پر پانچ اضافی سکیورٹی پکٹس قائم کی گئی ہیں جن میں داہگل ناکہ، گیٹ ون، گیٹ فائیو، فیکٹری ناکہ اور گورکھ پور شامل ہیں۔ ان نقاط پر اضافی نفری تعینات ہے جبکہ پولیس افسران اور اہلکار 12، 12 گھنٹے کی دو شفٹوں میں فرائض انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ 12 تھانوں کے ایس ایچ اوز اور خواتین پولیس اہلکار بھی سکیورٹی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
مجموعی طور پر اڈیالہ جیل کی بیرونی سکیورٹی کے لیے 700 سے زائد پولیس اہلکار اور افسر تعینات کیے گئے ہیں۔ تمام اہلکار اینٹی رائٹ سامان سے لیس ہیں جبکہ اڈیالہ گارڈز کی اضافی نفری بھی مکمل طور پر اسٹینڈ بائی رہے گی۔ سکیورٹی پلان کی براہِ راست نگرانی ایس پی صدر انعم شیر کے حوالے کی گئی ہے۔
ہائی الرٹ کا فیصلہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر پارلیمانی کارروائی روکنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کا بھی اعلان کر رکھا ہے، جس کے باعث سکیورٹی اداروں نے مزید سخت اقدامات کیے ہیں۔





































