
راولپنڈی : چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ افغانستان کی
طالبان حکومت کو صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ وہ یا تو خوارج کا ساتھ دے سکتی ہے یا پاکستان کا—دونوں میں سے ایک ہی راستہ چننا ہوگا۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے سلامی دی، جبکہ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ نئے قائم ہونے والے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام ایک تاریخی سنگِ میل ہے، جو مشترکہ فوجی آپریشنز کی افادیت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی خطرات کے مقابلے کے لیے ملٹی ڈومین آپریشنز کو متحد نظام کے تحت مربوط کرنا وقت کی ضرورت ہے، تاہم ہر سروس اپنی انفرادی صلاحیت اور اندرونی خودمختاری برقرار رکھے گی۔
فیلڈ مارشل نے بھارت کو متنبہ کیا کہ وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہے۔ اگر بھارت نے مستقبل میں کوئی جارحیت دکھائی تو پاکستان اس کا جواب پہلے سے زیادہ تیز اور زیادہ سخت انداز میں دے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے لیکن اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔





































