
اشک ( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل وزیراعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں عالمی امن فورم سے خطاب کرتے
ہوئے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کا ایک نیا خطرہ ابھر رہا ہے، جس کے پیشِ نظر عالمی برادری کو افغان حکومت پر اپنی ذمہ داریاں پورا کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔
انہوں نے 2025 کو بین الاقوامی سالِ امن قرار دینے کو خوش آئند قرار دیا اور بتایا کہ پاکستان عالمی امن کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تنازعات کا پرامن حل ہمیشہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول رہا ہے۔
شہباز شریف نے مزید بتایا کہ پاکستان کی حمایت سے غزہ کے لیے امن منصوبہ منظور ہوا، اور جنگ بندی کے لیے تعاون پر سعودی عرب، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات، اردن اور ایران کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غزہ میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اور مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن اور پائیدار ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور حکومت کی ترجیحات میں جدید ٹیکنالوجیز تک مساوی رسائی، مالی شمولیت اور خواتین کی قومی دھارے میں شمولیت شامل ہیں۔انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ افغانستان سے ابھرتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے اور افغان حکام کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے پر آمادہ کرنا ہوگا۔





































