
اسلام آباد( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل )پاکستان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائشگاہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے واقعے پر شدید
ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مختلف عالمی طاقتیں تنازعات کے حل اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہیں۔
وزیراعظم نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی ملک کے سربراہِ مملکت کی رہائشگاہ کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور امن کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس موقع پر روسی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ہر ایسے عمل کو مسترد کرتا ہے جو عالمی سلامتی کے نظام کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات، تحمل اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازعات کے حل کا حامی رہا ہے اور مستقبل میں بھی اسی اصولی مؤقف پر قائم رہے گا۔
دوسری جانب روسی حکام نے اس واقعے کے حوالے سے یوکرین پر براہِ راست الزامات عائد کیے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق نووگوروڈ ریجن میں واقع صدر پیوٹن کی سرکاری رہائشگاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم روس کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنا دیا،روسی وزیر خارجہ نے اس کارروائی کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ روسی قیادت کے مطابق ملک اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس ایسے دعوؤں کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ زیلنسکی نے عالمی برادری، بالخصوص امریکا، سے مطالبہ کیا ہے کہ روسی بیانات اور ممکنہ اقدامات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔





































