
کراچی( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میرا برانڈ پاکستان محض ایک تجارتی پلیٹ فارم نہیں
بلکہ اسلامی یکجہتی، قومی خودداری اور معاشی آزادی کی علامت ہے۔ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کے زیرِ اہتمام چوتھی میرا برانڈ پاکستان ایکسپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسرائیلی مظالم اور جارحیت کے تناظر میں اس پلیٹ فارم کا تصور سامنے آیا، جس کا مقصد مسلم دنیا کو معاشی طور پر ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی معیار کی متعدد مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں اور خواہش ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نہ صرف پاکستانی بلکہ دیگر مسلم ممالک کی مصنوعات بھی متعارف کروائی جائیں تاکہ عالمِ اسلام کے درمیان تجارتی روابط مضبوط ہوں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کی جانب سے قومی برانڈز کے فروغ کا اقدام خوش آئند ہے، اور یہ ایکسپو صرف کراچی تک محدود نہیں رہی بلکہ لاہور میں بھی کامیابی سے منعقد کی جا چکی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا کردار محض تنقید تک محدود نہیں بلکہ کرپشن، خامیوں اور ناانصافی کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے عملی اقدامات کرنا بھی جماعت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کی ترقی کے لیے نظریاتی یکجہتی کے ساتھ معاشی خودانحصاری ناگزیر ہے۔
انہوں نے بنو قابل پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جین زی سے تعلق رکھنے والے 12 لاکھ نوجوان پورے پاکستان میں اس پروگرام سے منسلک ہو چکے ہیں۔ کراچی سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ اب ملک بھر میں نوجوانوں کو ہنرمند بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسلم دنیا کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک میں بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند ہو رہی ہے، اور یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ اسرائیلی ریاست جھوٹ اور جارحیت پر قائم ہے، جو بارہا جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات کا معیار عالمی سطح کا ہے، تاہم قیمتوں میں کمی لا کر برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے فلسطین تک امدادی سامان پہنچا کر انسانیت سے وابستگی کا عملی ثبوت دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام کا نظامِ عدل پوری انسانیت کے لیے بہترین نظام ہے، جبکہ پاکستان کو فنونِ لطیفہ، تجارت اور آئی ٹی کے شعبوں میں قیادت کی ضرورت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کے صدر سہیل عزیز نے کہا کہ آج پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ پاکستانی برانڈز کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف بائیکاٹ مہم کے تناظر میں پہلی بار میرا برانڈ پاکستان ایکسپو کا آغاز کیا گیا، جہاں 250 سے زائد اسٹالز قائم کیے گئے ہیں۔ یہ دو روزہ نمائش ہفتہ اور اتوار کو جاری رہے گی، جس میں اشیائے ضروریہ رعایتی نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔
آرٹس کونسل پاکستان کے صدر سید احمد شاہ نے نوجوانوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بنو قابل پروگرام کے تحت نوجوان جدید آئیڈیاز اور نئے کورسز پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی کی گلیوں اور محلوں سے نکل کر عالمی سطح پر کاروبار کرنا ہماری صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پاکستان کو واپس لوٹائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں اور سابق صدر کراچی چیمبر جاوید بلوانی نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقامی برانڈز کے فروغ، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے پر زور دیا اور میرا برانڈ پاکستان ایکسپو کو ملکی معیشت کیلئے ایک اہم قدم قرار دیا۔





































