
کراچی(رنگِ نوڈاٹ کام )
کراچی کے علاقے کلفٹن میں پتھردل ماں کے ہاتھوں سمندر میں ڈبو کر قتل کی گئی ڈھائی سالہ بچی کی لاش دو دریا کے قریب سے مل گئی۔ملزمہ ماں
کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا
ساحل پولیس کے مطابق واقعہ ڈیفنس فیز 8 میں فرحان شہید پارک کے قریب گزشتہ شام پیش آیا۔
ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ کے مطابق ساحل پولیس نے ڈیفنس فیز 8 میں شہریوں کی نشاندہی پر 28 سالہ ملزمہ شکیلہ راشد کو گرفتار کیا تھا۔
شہریوں نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ مذکورہ خاتون نے اپنی کمسن بچی کو سمندر میں ڈبو دیا۔
پولیس نے بچی کی والدہ شکیلہ راشد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا
پیر محمد شاہ کے مطابق ملزمہ کی ڈھائی سالہ بچی انعم کی لاش عمار اپارٹمنٹ کے قریب دو دریا کے سمندر سے ملی ا قتل کا مقدمہ درج کرکے ملزمہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جسے آج ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن طارق دھاریجو کے مطابق خاتون نے بیان دیا ہے کہ اس کے شوہر نے ایک ماہ قبل اسے بلاوجہ گھر سے نکال دیا تھا اور اس کے باپ نے بھی گھر میں جگہ نہ دی، وہ دربدر ہوگئی تھی، جس بنا پر بچی سے چھٹکارا پا کر خود بھی مرنا چاہتی تھی۔
پولیس کے مطابق ملزمہ شکیلہ راشد گولیمار کے علاقے سلطان آباد کالونی کی رہائشی ہے اور اس کا شوہر راشد شاہ کراچی کے نجی اسپتال میں ملازم ہے۔پولیس نے مقدمہ میں راشد شاہ کو نامزد کرکے گرفتارکرنے کافیصلہ کیا ہے۔
دریں اثنا جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے کم سن بچی بیٹی انعم کو سی ویو میں ڈبو کر قتل کرنےکےالزام میں گرفتارماں ملزمہ شکیلہ راشد کو تین روزہ ریمانڈ پرپولیس کےحوالےکردیا۔
پولیس نے ملزمہ شکیلہ کو فاضل عدالت میں پیش کیاتھا۔پولیس نے عدالت کو بتایاکہ ملزمہ نےاپنی بچی انعم کوسمندرمیں ڈبوکر ہلاک کردیاہے۔اس موقع پرملزمہ عدالت میں روپڑی۔




































