
اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے
کہ عوام کے مفاد میں بنائی گئی حج پالیسی 2019ءکا مقصد عازمین حج کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی اور حج کوا سکینڈل فری بنانا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی میں ان کا جو علاج کوئی اور نہیں کر سکا وہ عمران خان کر رہے ہیں۔ نیب کے قانون کے مطابق پلی بارگین ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ نے اجلاس میں اہم فیصلہ کیا کہ وزیراعظم کی درخواست پر سعودی حکومت کی جانب سے ملنے والے حج کے اضافی کوٹے کو سرکاری حج اسکیم کے تحت بروئے کار لایا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پہلی حج پرواز جمعہ کے روز روانہ ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ حاجیوں کو خود الوداع کریں گے۔ اس پرواز کے تمام مسافروں کے لئے امیگریشن کا تمام عمل اسلام آباد میں ہی مکمل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت رواں سال عازمین حج کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے، ماضی میں حج اسکینڈل سامنے آیا جس میں عازمین حج کو مالی مشکلات سمیت رہائشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حجاج کرام کو پاکستان میں امیگریشن کی سہولت میسر آنے سے سعودی عرب میں امیگریشن کے لئے گھنٹوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا، رواں سال اس سہولت سے اسلام آباد کے 25 ہزار عازمین حج مستفید ہوں گے جبکہ آئندہ سال اس کا دائرہ کار لاہور، سیالکوٹ، کراچی، فیصل آباد سمیت دیگر شہروں تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال عازمین حج کو ٹرانسپورٹ اور رہائشی سہولیات کی مد میں مالی بچت ہو گی، عازمین حج کو 25 ہزار سے 58 ہزار روپے تک کی رقم واپس کی جائے گی۔
رواں سال تمام پاکستانی حجاج کرام کو ای ویزاکی سہولت بھی دے رہے ہیں تاکہ انہیں سعودی عرب میں اپنا پاسپورٹ گم ہونے سمیت دیگر مسائل کے باعث مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے،سعودی عرب کی جانب سے اضافی کوٹے کو سرکاری حج سکیم کے تحت بروئے کار لاتے ہوئے قرعہ اندازی کی گئی ہے۔
معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ نے چالیس ہزار مالیت کے نیشنل پرائز بانڈز (حامل ہذا) ختم کرنے کی منظوری دی۔ بانڈ کیش کروانے کےلئے مناسب وقت دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے چالیس ہزار کے بانڈز کے ذریعے کالے دھن کو سفید کیا جاتا تھا لیکن ان بانڈز کی خریداری کے ذرائع سامنے لانا ہوں گے اور ان کو رجسٹر کرانا ہو گا جس سے سیاستدانوں کا ان بانڈز سے روایتی عشق دم توڑ دے گا۔
رانا ثناءاللہ کی گرفتاری سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کے حوالے سے حکومت پر الزام تراشی مناسب نہیں۔





































