
اسلام آباد(تعلیم ڈیسک)پرائیویٹ اسکولز اینڈ مدارس الائنس نے 15اگست کو نجی تعلیمی ادارے نہ کھولنے کی صورت میں ملک
گیراحتجاج کی دھمکی دے دی اور کہاہے کہ دیگرشعبوں کی طرح تعلیمی شعبہ جات بحال کیا جائے، تاکہ تعلیمی اداروں اور ان سے منسلک شعبہ جات کو درپیش مسائل کم ہوسکیں اور مطالبہ کیاہے کہ پرائیویٹ اسکولز کے حوالے سے کوئی قانون سازی اس سیکٹر کے نمائندہ قیادت کو اعتماد میں لیے بغیرنہ کی جائے۔
گزشتہ روز تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل اور تعلیمی عمل کی بحالی کے حوالے سے پرائیویٹ اسکولز و مدارس الائنس کا ایک مشاورتی اجلاس انعام الدین قریشی کی صدرات میں لومینس ہائی سکول میں ہوا، جس میں موجودہ حالات میں تعلیمی اداروں کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے پرائیویٹ اسکولز اور مدارس کی مختلف ایسوسی ایشنز اور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنا موقف پیش کیا۔
پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز اور مدارس کی تنظیموں نے اس الائنس پر اعتماد کااظہار کرتے ہوئے اس پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔الائنس کی مشاورتی کونسل نے 15 اگست کو اسکولزکھولنے کے متفقہ فیصلے کی تائید اور توسیع کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دوسرے شعبوں کی طرحSoPs کے تحت تعلیمی شعبوں کو 15 اگست سے بحال کرنے کا اعلان کیا جائے۔ تاکہ تعلیمی اداروں اور ان سے منسلک تمام شعبوں کو درپیش مشکلات اور مسائل کم ہوسکیں۔
اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بین الصوبائی کانفرنس میں اگر15 اگست کو مرحلہ وار اسکولز کھولنے کا اعلان نہیں ہوتا تواس حوالے سے بھر پو راحتجاج کیا جائے گا یہ احتجاجی تحریک ملکی سطح پر ہوگی اور تعلیمی عمل کی بحالی تک جاری رہے گی۔





































