
کراچی ( رپورٹ :دین محمد ،نمائندہ رنگ نو )آمنہ سیکنڈری اسکول نئی کراچی میں” خود مختاری “کے عنوان سے سرگرمی کا انعقاد کیا
گیا ،جس میں ایک دن کے لیے اسکول بچوں کے حوالے کیا گیااورانہوں نے اسکول کو کلاسز کے آغاز سے اختتام تک سنبھالا ۔اسکول کے بچے استادبنے اورانہوں نے پورا دن اسکول میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ۔سائنس کے طالب علم حمزہ کا کہنا تھا کہ یہ اچھا تجربہ تھا ۔پڑھا نابہت مشکل کام ہے، اب ہمیں احساس ہوا ہے ،اس بات کا ۔دوسرے بچوں کو پیغام دوں گا کہ اپنے اساتذہ کی قدر کریں اوران کی عزت کریں ،اسی میں ان کامیابی ہے ۔

کلاس دہم کے سعد نے کہا کہا کہ ٹیچر کلاس میں ڈسپلن قائم رکھتے ہیں ،ہمیں یہ کام آسان لگتا تھا ،یہ کام آسان نہیں ہے ۔ٹیچرز کیلئے دعاگو ہیں ۔
کامران کا کہنا تھا کہ میں اسکولانتظامیہ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں انہوں نے ہمیں موقع فراہم کیا ۔کلاششم کے ضہیب نے کہا کہ ٹیچر بننا بہت ہی مشکل کام ہے ہم اسکول کے بانی منصور احمد شیخ اور ٹیچرز کیلئے دعاگو ہیں ۔
دسویں کلاس کے مبشر نے کہا کہ آمنہ اسکول کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں نہ انہوں نے ہمیں ٹیچرز کی اہمیت کو سمجھنے کا موقع دیا ۔دسویں کلاس کے انس نے کہا کہ یہ اچھی ایکٹیویٹی تھی ،اب معلوم ہوا ہے کہ ٹیچر کیا ہوتا ہے ،ٹیچر بچوں کو صرف پڑھاتا ہی نہیں بلکہ ان کی تربیت بھی کرتا ہے۔اپنے جو نیئر ز سے کہوں کا کہ وہ اپنے اساتذہ کی قدر کریں ۔

بانی آمنہ سیکنڈری اسکول منصور احمد شیخ نے کہا کہ اس سرگرمی کا مقصد بچوں میں اساتذہ کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا تاکہ بچے جان سکیں کہ ایک استاد کو بچوں کی تدریس میں کیا مشکلات درپیش ہوتی ہیں ،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسی بہترین سرگرمی آئندہ بھی جاری رکھی جائے گی ۔





































