؎
کراچی(ویب ڈیسک)جامعہ کراچی میں قائم بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) کے ترجمان نے
پی ایچ ڈی کی طالبہ نادیہ اشرف کی مبینہ خود کشی سے متعلق میڈیا رپورٹس مسترد کردیں۔
اس حوالے سے جاری بیان میں ترجمان ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیور میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ نے کہا کہ نادیہ اشرف نے اگرخود کشی کی ہے تو اپنی ذاتی مشکلات سے تنگ آکر کی ہے۔
بیان میں جامعہ کراچی کی پی ایچ ڈی طالبہ نادیہ اشرف کی مبینہ خود کشی سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو بے بنیاداور جھوٹی قرار دیتے ہوئے کہاگیا کہ نادیہ اشرف کی موت ڈاکٹر پنجوانی سینٹر اور اس سے وابستہ تمام افراد کے لیے افسوسناک ہے۔خیال رہے کہ ایک روز قبل ایک ویب رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’نادیہ اشرف نامی طالبہ نے اپنے پی ایچ ڈی سپر وائزر ڈاکٹر اقبال چوہدری کے مظالم سے تنگ آکر خود کشی کرلی۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نادیہ اشرف گزشتہ 15 برس میں اپنا پی ایچ ڈی مکمل نہیں کر پائی تھیں اور دعویٰ کیا گیا کہ نادیہ اشرف مبینہ طور پر اپنے قریبی دوستوں سے یہ کہتی تھیں کہ ڈاکٹر اقبال چوہدری میرا پی ایچ ڈی نہیں ہونے دیں گے۔
رپورٹ میں طالبہ کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ انہوں نے جب دوسری ریسرچ آرگنائزیشن میں نوکری اختیار کی تو وہاں بھی ڈاکٹر اقبال چوہدری نے ان کی نوکری ختم کروانے کی کوشش کی۔مذکورہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نادیہ اشرف کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے لگے اور جسٹس فار نادیہ کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔





































