
غلام مصطفیٰ سید
آج یکم اپریل ہے۔ یوں تو یہ کوئی خاص بات نہیں ،مگرمغرب میں شیطان کے پیروکاروں نےہنسی مذاق کے نام پر اسے ساری دنیا کے لیے ایک ہولناک دن میں
تبدیل کرڈالا ہے۔یکم اپریل کو منایا جانے والا گناہ کبیرہ یعنی’جھوٹ ‘کا شیطانی تہوار’’ اپریل فول‘‘ مغربی معاشرے میں کوئی چار،پانچ صدیاں پیشتر شروع ہواتھا،جب پورا مغرب جہالت کے گٹر میں غوطے کھارہا تھا۔ اب اگرچہ اہل مغرب مادی طور پر بہت ترقی کرچکے اور خود کو ایک ترقی یافتہ مہذب معاشرہ قراردیتے ہیں،مگر حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ آج تک ’اپریل فول‘ اور اس جیسے دیگر بہت سے قبیح اعمال(جنہیں وہ فیسیٹول یا تہوار کہتے ہیں) جوش وخروش سے انجام دے رہے ہیں۔
یکم اپریل کو مغرب میں عملی مذاق کا دن قرار دیا جاتا ہے۔چونکہ اسلامی دنیا سمیت مشرقی ممالک پوری طرح مغرب کے سحر میں جکڑچکے ہیں اور اس کی تمام چیزوں،بشمول طرززندگی،بودوباش اور رسم ورواج کو جدید تہذیب کا جزولازم سمجھتے ہوئے اسے اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں،لہذاآج وہ اپریل فول کو بھی منانےسے نہیں چوکتے۔
مغرب کی تقلید کہیں یا پھر آپ اسے بھیڑچال سے تشبیہہ دیں، ہمارے ملک پاکستان میں بھی یہ رسم ہر سال منانے کا رواج بغیر اس کی حقیقت جانے جاری ہے اور یکم اپریل کے دن ایک دوسرے کو بے وقوف بنانے کی کوششیں ہوتی ہیں۔ خواہ اس سے کسی کا کتنا بھی نقصان کیوں نہ ہو، مگر بعض جاہل لوگ صرف وقتی خوشی اور سرشاری کیلئے اسے مناتے ہیں۔لوگ باز نہیں آتے ۔ اپنے تئیں لطف اٹھانے کی خاطر جھوٹ بول کرآپ کو پریشان کرنے کیلئے وہ کسی نامعلوم نمبر سے آپ کو کال کریں گے ۔ کوئی اچانک پریشان کن خبر ملتے ہی آپ مشکل سےدوچار بھی ہو سکتے ہیں اور یہی اپریل فول کا مقصد ہوتا ہے ۔ ہٹلر کا وزیر گوئبلزکو جدید تاریخ میں جھوٹے پروپیگنڈے کا جدامجد کہاجاتا ہے۔ وہ کہاکرتھا تھا کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ کے آنے تک آبادیاں ویران ہوچکی ہوں۔ شاید اپریل فول کا تہوار بھی گوئبلز کے اسی مقولے کا عملی نمونہ ہے جس میں سوائے شیطان ابلیس کے کسی کیلئے بھی راحت وتسکین اور خیر کاکوئی پہلو نہیں۔
کسی بدبخت کے ہاتھوں بیوقوف بننے سے بچیں اور کسی بھی اطلاع پرفوری اعتبار کرنے کی بجائے اس کی جانچ پڑتال کر لیں۔ کوئی عاقبت نااندیش غلط اطلاع دےکر آپ کو پریشان کرسکتا ہے اس لئے محتاط رہیں اور دوستوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حوالے سے آنے والی کسی بھی اطلاع، موبائل کال یا خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تحقیق ضرور کرلیں۔
مغربی ممالک میں اس دن ہر طرح کی نازیبا حرکات کی چھوٹ ہوتی ہے ، اور جھوٹے مذاق کا سہارا لے کر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ اس دن مذاق میں دوسروں کو ڈرایا دھمکایا بھی جاتا ہے جوبعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔آپ سے درخواست ہے کہ اپریل فول منانے سے بہرطور اجتناب برتیں،آپ کا ذرا سا مذاق کسی کیلئے انتہائی ہولناک ثابت ہوسکتا ہے،ذمہ داری کامظاہرہ کریں ،سنی سنائی کوئی بات یا مسیج بغیر تحقیق کے ہرگز ہرگز آگے نہ بڑھائیں۔یوں تو قرآن و حدیث میں جھوٹ اور جھوٹے کے حوالے سے بارہا متنبہ کیا گیا ہے اور جھوٹ کے دنیا وآخرت میں نقصانات و عذاب سے خبردار کیا گیا ہے،تاہم میں یہاں صرف ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دینا چاہوں گا۔(کسی کمی بیشی یاکوتاہی کیلئے اللہ رب العزت سے معافی وبخشش کی دعا کے ساتھ)
حدثنا مسدد بن مسرهد حدثنا يحيى عن بهز بن حكيم قال : حدثني ابي عن ابيه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ”ويل للذي يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له. [سنن الترمذی/الزہد 10، 2315، تحفۃ الأشراف : 11381، وقد أخرجہ : مسند احمد 5/2، 5، 7، سنن الدارمی/الاستئذان 66، 2744 حسن]
ترجمہ : ”معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : تباہی ہے اس کے لیے جو بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے، تباہی ہے اس کے لیے، تباہی ہے اس کے لیے۔“
اللہ غفورالرحیم ہم سب کو جھوٹ سے حفظ وامان عطا فرمائے۔ آمین
تاہم یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یکم اپریل کو ملنے والی ہر خبر جھوٹی بھی نہیں ہوسکتی۔ کوئی بھی پریشان کن خبر ملنے پر پہلے اس کی تصدیق کرلی جائے تو حقیقت سامنے آسکتی ہے، اس لئے اپریل فول سے خبردار رہنا تو ضروری ہے مگر لاپرواہی برتنے سے بھی پرہیز کیجئے، تصدیق کے بعد ہی ردعمل کا اظہار کریں۔




































