
تحریر: غلام مصطفی
انسان نے اپنی تخلیق کےبعد سے ارتقا کے کئی مدارج طے کئےہیں۔اس زمین پر آنے کے بعد انسان نے ابتدا میں زندگی گزارنے
کا جو ڈھنگ اختیار کیا وہ پتھر کا دور کہلاتا ہے،یعنی انسان تب غاروں میں رہاکرتا تھا۔یہ انسانی تاریخ سے پہلے کا زمانہ تھا۔ پھریہاں سے انسانی ترقی کا سفر شروع ہوتاہے۔اس کے بعد کانسی کا زمانہ یعنی برونزایج آیا،اور اس کے بعد فولاد کا زمانہ آیا جسے آئرن ایج کہا جاتا ہے۔صدیاں گزرتی رہیں اور اس کے ساتھ انسانی ترقی کا سفر بھی چلتا رہا۔
جیسے جیسے انسانی دماغ کی وسعت اورصلاحیتوں میں اضافہ ہوتارہا،اس کی زندگی کےہرشعبے میں بھی تیزی سےترقی ہوتی رہی، یہ ترقی علمی،معاشی،معاشرتی،جنگی صلاحیتوں اور آرٹ ،کلچر سمیت انسانی زندگی کے تمام پہلوو ¿ں میں ایک ساتھ ہوتی رہی۔پھر مشینوں کا زمانہ آیا۔صنعتوں اور کارخانوں نے ترقی کا پہیہ مزید تیزی سے گھمایا۔ پھر ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی اور انسان زمین سے نکل کرچاند پرجاپہنچا اور آج خلا میں دیگر سیاروں کو بھی تسخیر کررہا ہے۔ گزرتے ہوئے زمانوں کے بعد اب ڈیجیٹل دور آپہنچا جس کے ساتھ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ جیسی ٹیکنالوجیز کا ارتقاءہوا۔
ڈیجیٹل دور کا آغازپچھلی صدی کےآخراور موجودہ یعنی اکیسویں صدی کی ابتدا میں ہوا۔ اور اس کے بعد سے اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہروز ایک نئے عروج کی طرف بڑھ رہی ہے،حتیٰ کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت اب آرٹیفشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت بھی تیار کرلی گئی ہے جو انسانی ذہانت کو بھی پیچھے چھوڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
آج کے دور میں ہم دنیا کے مختلف حصوں میں بہترین ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئےایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ڈیجیٹل دور کے بعد اب پیپر کرنسی کے ذریعے لین دین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بلاک چین یا کرپٹو کرنسی تک کے حیرت انگیز زمانے تک آپہنچے ہیں۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے انسانی دنیا کو ایک نئی اور حیرت انگیز شکل دے دی ہے۔
اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ہماری زندگی وہ نہیں رہی جو پچھلی صدی یا آج سےتیس چالیس سال پہلے ہوا کرتی تھی۔
کرپٹو کرنسی کی ہی مثال لے لیجئے،جو بہت تیزی سے ابھری ہےاوراس نے پوری دنیا میں گردش کرنے والے کاغذ کے کرنسی نوٹوں اور بینکوں کے روایتی نظام کے وجود کو ہی خاتمے کے خطرےسے دوچار کردیا ہے۔
آپ نے کرپٹو کرنسی کےبارےمیں سنا تو ہوگا،لیکن ہوسکتا ہےاس کےبارے میں آپ کوزیادہ تفصیل معلوم نہ ہو۔بلکہ پاکستان،انڈیا،افغانستان،بنگلہ دیش اور کئی ملکوں کے بہت سارے لوگوں نے تو اب تک شاید کرپٹو کرنسی کا نام بھی نہ سنا ہو گا۔
یہاں ہم آپ کو یہی کچھ بتانے جارہےہیں کہ کرپٹو کرنسی کیا ہے،یہ کہاں پراورکیسےوجودمیں آئی اوریہ کیسے کام کرتی ہے؟
کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل یا ورچوئل ٹوکن،بلاک یا سکہ ہے۔اگرچہ روایتی کرنسی نوٹوں اورسکوں کی طرح کرپٹو کرنسی کی کوئی فزیکل صورت نہیں ہے جسے آپ اپنی جیب یا تجوری میں رکھ لیں،لیکن آپ روایتی پیسے کی طرح اس کا لین دین کرسکتے ہیں اور اسے خرچ یا جمع بھی کرسکتے ہیں۔کرپٹو کرنسی اپنی حفاظت یا سیکیورٹی کےلئے خفیہ کوڈز کا استعمال کرتی ہے جسے کرپٹو گرافی کہا جاتا ہے۔ یہ کسی بھی ادارے یا شخص یا کسی مرکزی بینک کے کنٹرول میں نہیں ہوتی اور بالکل آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔یعنی اس کرنسی کو کوئی ضبط کرسکتا ہے،چھین سکتا ہے اور نہ ہی اس میں ہیرپھیرکرسکتا ہے۔اس کا کوئی مرکز یا ہیڈ کوارٹر نہیں ہوتا۔یہ عدم مرکزیت یعنی ڈی سینٹرلائزڈ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جسے بلاک چین کہا جاتا ہے۔یہ ایک ایسا تقسیم شدہ کھلا کھاتہ یا اوپن لیجر ہوتا ہے جو اپنے نیٹ ورک پر کرپٹو کرنسی یا ٹوکنز کے تمام لین دین کو ریکارڈ کرتا ہے۔
دنیا کی پہلی کرپٹو کرنسی کا نام بٹ کوائن ہےجو سن 2009 میں منظرعام پر آئی تھی۔ کہا جاتا ہےکہ بٹ کوائن کو جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ”ساتوشی ناکاموتو“ نے تخلیق کیا تھا۔ بٹ کوائن کو ایک ہم رتبہ یعنی ایک جیسے الیکٹرانک کیش سسٹم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔اس کےلئے انگلش میں پیئر ٹو پیئر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔یہ سسٹم کرپٹو کرنسی کے صارفین کو کسی قابل اعتماد تیسرے فریق،جیسے کہ کسی بینک یا منی ایکسچینج کی ضرورت کےبغیر رقم بھیجنے اور وصول کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
کرپٹو کرنسی کمپیوٹرز کے ایک آزاد اور غیر مرکزی نیٹ ورک کااستعمال کرکے کام کرتی ہے جو بلاک چین پر لین دین کی توثیق یعنی ٹرانزیکشنز کی ویلیڈیشن اور ریکارڈ کرتا ہے۔ نیٹ ورک کے ذریعے ہر لین دین کی تصدیق ایک متفقہ طریقہ کار کے ذریعے کی جاتی ہے، جیسے کہ پروف آف ورک یا پروف آف اسٹیک۔۔ بلاک چین اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کرپٹو کرنسی یا کوائنز کا ہر لین دین محفوظ ہے اور اس میں،دھوکا دہی،ردوبدل یا چھیڑچھاڑ نہیں کی جاسکتی ہے۔
کرپٹو کرنسی کے نئے یونٹس یا کوائنز کی تخلیق کا عمل ایسا ہی ہےجیساکہ آپ کسی کان یعنی مائن سےسونا یا ہیرےجواہرات کھود کر نکال رہے ہوں۔کرپٹو کرنسی کے نئے یونٹس کی تخلیق کے اس عمل کو مائننگ کہا جاتا ہے۔اس میں کمپیوٹیشنل طاقت کا استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ ریاضیاتی مساوات یعنی میتھامیٹکل ایکویشنز کو حل کرنا شامل ہے۔ یہ عمل بلاک چین میں نئے لین دین کا اضافہ کرتا ہے اورمائننگ کےذریعے نئے ٹوکن حاصل کرنے والے صارفین کےلئے انعام کے طور پر کرپٹو کرنسی کے نئے یونٹس تیار کرتا ہے۔
کیا کرپٹو کرنسی کی بہ آسانی خرید وفروخت کی جاسکتی ہے؟
جی ہاں،کرپٹو کرنسی کو کرپٹو ایکس چینجز پر خریدااوربیچا جا سکتا ہے۔بہت سی کمپنیاں اورتاجر روایتی رقم کے بدلے کرپٹو کرنسی کو ادائیگی کے طریقے کے طورپر قبول کرتے ہیں،لہٰذا کرپٹو کرنسی کو آپ کمپنیوں اور تاجروں سے سامان اور سروسز خریدنے کےلئے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔اور اہم بات یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کو اآپ ایک ایسی انویسٹمنٹ کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں جو آپ کو کچھ ہی عرصہ میں بہت زیادہ منافع دے سکتی ہے۔تاہم اس میں خسارے کا پہلو بھی موجود ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح روایتی اسٹاک مارکیٹوں میں ہوتا ہے جہاں آپ کے شیئرز کی قیمت بڑھ بھی سکتی ہے اور گھٹ بھی سکتی ہے۔
یقینی طورپر اب آپ میںسے اکثرافراد کے ذہنوں میں کرپٹوکرنسی کے بارے میں کانسیپٹ کلیئر ہوگیا ہوگا ۔ آج اورمستقبل کی اس جدید ترین کرنسی سے متعلق بنیادی معلومات بھی حاصل ہوگئی ہوں گی۔
خلاصہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل یا ورچوئل کرنسی ہے جو مرکزی بینک سے آزادانہ طورپرکام کرتی ہے اور ڈی سینٹرلائزڈ بلاک چین ٹیکنالوجی پرمبنی ہے۔ڈیجیٹل کرنسی کا یہ نظام بلاک چین پر لین دین کی توثیق اور ریکارڈ کرنے کے لیے کمپیوٹرز کے نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے کام کرتا ہے،اور کرپٹو کرنسی کے نئے یونٹس،جنہیں آپ کوائن،ٹوکن یا بلاک بھی
کہہ سکتے ہیں، ایک کمپیوٹیشنل عمل کے ذریعے تخلیق کئے جاتے ہیں جسے مائننگ کہتے ہیں۔
[[مصنف سینئر صحافی اور فیچر رائٹر ہیں]]
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.




































