
غلام مصطفیٰ سید
عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے تناظر میں جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان کو ہمہ جہت مسائل اور خطرناک چیلنجز کا سامنا ہے۔موسمیاتی
تبدیلی کی صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیائی خطے کے لئے معاشی، سماجی اور ماحولیاتی بنیادوں پر شدید منفی اثرات اور نقصانات کا باعث بن سکتی ہے۔
پاکستان اور خطے پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
موسمیاتی تبدیلی پاکستان اور وسیع تر خطے کے لئے ایک اہم خطرہ ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ، ناقابل پیش گوئی موسمی حالات اور قدرتی آفات جنم لے رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں زرعی پیداوار، پانی کی دستیابی اور مجموعی طور پرمعاشی استحکام کو متاثر کر رہی ہیں۔خاص طور پر، ہمالیہ میں پگھلنے والے گلیشیئرپانی کی قلت کے مسائل کو بڑھا رہے ہیں اوراس کی وجہ سے آبی وسائل پرپڑوسی ممالک کے مابین تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافہ باربار اور شدید خشک سالی، سیلاب اورشدید گرمی کی لہر( ہیٹ ویو) کا سبب بن رہا ہے۔اس کے نتیجے میں زراعت کو پہنچنے والے نقصانات سے غذائی عدم تحفظ (فوڈ سیکورٹی) اور دیہی آبادیوں کی بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ اس سے شہروں میں بھی سنگین سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے موسمیاتی عدم توازن کے نتیجے میں پاکستان کو جہاں پانی کی شدید قلت اور سخت موسموں کا سامنا ہے، وہیں طویل دورانیہ کی طوفانی بارشوں اور سیلابوں نے ملک کو سنگین اقتصادی،معاشرتی،انتظامی اور سیاسی بحرانوں کے گرداب میں دھکیل دیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف پاکستان کیلئے جغرافیائی طور پر اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے خطے کو بھی جغرافیائی طور پر متاثر اور تبدیل کر سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خوفناک مضر اثرات سے بچنے یا کم کرنے کےلیےپاکستان کی حکومت، اداروں اور سماجی و عوامی حلقوں کی سطح پر اجتماعی اور انفرادی اقدامات کی فوری ضرورت ہے تاکہ گلوبل وارمنگ اور دیگر ماحولیاتی تبدیلیوں سے لڑ کر آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
جنوبی ایشیاءبالخصوص پاکستان کے مسائل اور چیلنجز
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کو عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے جن مشکلات اور خطرات کا سامنا ہے ان میں پانی کی قلت،شدید موسمی واقعات،حیاتیاتی تنوع کا نقصان اور صحت کے اثرات سرفہرست ہیں۔
پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی کے مسئلے کا سامنا کر رہا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، جیسے کہ بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز اور گلیشیئرز پگھلنے سے مزید بڑھ گیا ہے۔ شدید موسمی واقعات جیسے کہ سیلاب، خشک سالی اور گرمی کی لہروں( ہیٹ ویوز) کی تعدد اور شدت میں اضافے سے آبادیوں اور انفراسٹرکچر کیلئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ حیوانات کے قدرتی ٹھکانوں کی تباہی، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی خطے میں حیاتیاتی تنوع کے نقصان کا بھی باعث بن رہی ہے اور اس سے ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات متاثر ہو رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی بیماریوں کے پھیلاؤ، گرمی سے متعلقہ بیماریوں اور غذائی قلت میں بھی حصہ ڈال رہی ہے اور اس سے پاکستان میں لوگوں کی صحت متاثر ہورہی ہے۔
اگر ان چیلنجز پر فوری توجہ نہ دی گئی تو پاکستان اور پورا خطہ اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی بنیادوں پر نمایاں منفی اثرات کا شکار ہو سکتا ہے۔ان میں اقتصادی نقصانات،سماجی تبدیلیاں،ماحولیاتی انحطاط بالخصوص قابل ذکرہیں۔ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو نہ پانے کا ایک فوری نتیجہ اقتصادی نقصانات کی صورت میں نکلے گا کیونکہ اس سے زرعی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے جس سے فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ سر اٹھاسکتا ہے۔خوراک کی قلت پیدا ہوگی جس کے بہت سنگین اثرات مرتب ہوں گے جبکہ کاشت کاروں کو بھاری معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ شدید موسمی واقعات یا پانی کی کمی آبادیوں کی نقل مکانی کا سبب بنے گی۔ اس کے باعث سماجی تناؤ اور بدامنی پیدا ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کا نقصان ہوگا جو ماحول پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتا ہے اور مزید موسمیاتی تبدیلی واقع ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔صرف یہی نہیں،بلکہ مسلسل ماحولیاتی انحطاط اور موسمیاتی تبدیلی کے جغرافیائی سیاسی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔یہ ممکنہ طور پر وسائل پر تنازعات کا باعث بنیں گے اور علاقائی استحکام کےلئے بڑے چیلنجز پیدا کردیں گے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچاو ¿کیلئے ناگزیر اقدامات
پاکستان اور جنوبی ایشیائی خطے کے مستقبل کے تحفظ کےلئے مختلف سطحوں پر فوری اوراجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔ان میں اولاً یہ کہ ان ملکوں کی حکومتیں ماحولیاتی پالیسیوں کو نافذ اور مضبوط کریں۔ قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کریں۔ پائیدار زراعت کے طریقوں کو فروغ دیں اور عوامی نقل و حمل کی حوصلہ افزائی کریں۔
دوسرا قدم ادارہ جاتی سطح پر اٹھانا ہوگا۔ادارے موسمیاتی تبدیلی کےاثرات پر تحقیق کریں،موافقت کی حکمت عملی تیارکریں اورماحولیاتی تبدیلی کے تحفظات کو ترقیاتی منصوبہ بندی میں ضم کریں۔
تیسرا قدم عوامی سطح پر اٹھانا ضروری ہے۔عوامی حلقے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے لوگوں میں بیداری پیدا کریں اورپائیدار زندگی گزارنے کے طریقوں کو فروغ دیں۔ مقامی ماحولیاتی اقدامات کی حمایت کریں اورماحولیاتی پالیسی میں تبدیلیوں کی وکالت کریں۔
پاکستان اور خطے کے لیے ضروری ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور اپنی آبادیوں کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے پائیدار اقدامات پر عمل درآمد کریں۔ اس کا لازمی نتیجہ مثبت ہوگا۔ موجودہ درپیش موسمیاتی تبدیلیوں اور سنگین ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کےلئے فعال اقدامات کر کے پاکستان اور جنوبی ایشیا کے خطے میں منفی اثرات کو اگر ختم نہیں تو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔خطرات کی زد میں موجود آبادیوں کی حفاظت کی جاسکتی ہے ، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک زیادہ پائیدار مستقبل یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس عالمی مسئلے سے نمٹنے کےلئے حکومتوں، اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان تعاون بہت ضروری ہے۔

مصنف سینئر صحافی اورفیچررائٹر ہیں




































