
تحریر: غلام مصطفی سید
ریاستہائے متحدہ امریکا طاقت واثرورسوخ کےمختلف پیمانوں کی بنیاد پر موجودہ عالمی سیاسی اور معاشی نظام میں واحد سپر پاورہے۔ اس لیے امریکا میں
5 نومبر کو ہونے والےصدارتی انتخابات اور ان کے نتیجے میں جوحکومت برسر اقتدارآئےگی اسے پوری دنیا میں بڑی دلچسپی اورغور سے دیکھا جا رہا ہے.
امریکی صدارتی انتخابات 2024: امکانات اور خدشات
امریکا میں اب تک کل 59 صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں۔ اس سال 60ویں صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں جس کے لیے امریکی عوام منگل 5 نومبر 2024 کو ووٹ ڈالیں گے۔ نومنتخب صدر جنوری 2025 سے وائٹ ہاؤس میں اگلی چارسالہ مدت پوری کرے گا یا کرے گی۔
امریکا میں،صدر کا انتخاب پورے ملک میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے پرمنحصر نہیں ہے۔ اس کے بجائے امیدوار 50 ریاستوں میں ہونے والے انتخابات جیتنے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔ ہرریاست میں ایک الیکٹورل کالج ہوتاہےجس کے ووٹوں کی ایک خاص تعداد ہوتی ہے۔ امریکا کی 50 ریاستوں میں سے زیادہ تعداد ڈیموکریٹ یاریپبلکن پارٹیوں کی طرف جھکاؤرکھتی ہیں لیکن امیدواروں کا فوکس عام طور پر ایک درجن یا اس سے زیادہ ریاستوں پرہوتا ہےجن کے ووٹرعمومی طور پرغیرجانبدارسمجھے جاتے ہیں اور جو کسی بھی امیدوار کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔انہیں 'سوئنگ اسٹیٹس' بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا ووٹ کسی بھی پارٹی کے لیے نتیجےکا رخ موڑ سکتا ہے۔
امریکی کانگریس کے کل 538 ارکان ہیں جن میں سے 100 سینیٹ میں ہوتےہیں جب کہ ایوانِ نمائندگان کے لیے 438 ارکان منتخب ہوتے ہیں۔ امریکا میں حکومت بنانے کا فیصلہ کانگریس میں اکثریت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ کانگریس کی کل سیٹوں میں سے کم از کم 270 سیٹیں جیتنےوالی پارٹی حکومت بناتی ہے۔
غیرمعمولی الیکشن؟
نومبر 2024 میں ہونےوالے 60ویں صدارتی انتخابات مختلف وجوہات،واقعات اور پس منظر کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس الیکشن میں سابق ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھرمیدان میں اترے ہیں اور بظاہر ڈیموکریٹس کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ٹرمپ کی مقبولیت اور صدر جو بائیڈن کی مبینہ غیر مقبولیت ہی کا شخسانہ تھا کہ بائیڈن نے ڈیموکریٹک حلقوں کے شدید دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور اپنی نائب کاملا ہیرس کے حق میں صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو گئے۔ امریکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پارٹی کا کوئی امیدوار جو ملک کا موجودہ صدر بھی ہے، دوسری مدت کے لئے اپنی انتخابی مہم کے وسط میں دستبردار ہوا ہے۔جو بائیڈن کی جگہ کاملا ہیرس کی نامزدگی کے بعد الیکشن میں ڈیموکریٹس کے امکانات بھی بہترہو ئے ہیں۔
پھر بھی، 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کا نتیجہ غیر یقینی ہے کیونکہ اس کا انحصارمختلف عوامل پر ہوگا جیسےووٹر ٹرن آؤٹ دونوں کیمپوں کی مہم کی حکمت عملی اور موجودہ سیاسی ماحول وغیرہ۔
تشویشناک پہلو
حالیہ صدارتی انتخابی مہم کا سب سے اہم اور پریشان کن پہلو یہ ہے کہ دو ماہ کے قلیل عرصے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی دو کوششیں کی گئیں۔ ٹرمپ پر پہلا حملہ 13 جولائی کو اس وقت کیا گیا جب وہ پنسلوانیا میں اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ اس حملے میں ٹرمپ بال بال زندہ بچے تھے۔قاتل کی جانب سے چلائی گئی گولی سے ان کا کان زخمی ہوگیا تھا جب کہ ریلی میں شریک ایک شخص گولی لگنے سے ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو مارنے کی دوسری کوشش 15 ستمبر کو فلوریڈا میں کی گئی جسے سیکرٹ سروس نے ناکام بنا دیا۔ ان خطرناک واقعات کا مجموعی طور پر امریکی سیاسی منظر نامے پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔
کیا ٹرمپ دوبارہ آرہے ہیں؟
اگرچہ قتل کی کوششوں کو ایک اہم موڑ کےطور پر بتایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ان کی ممکنہ فتح کی پیشین گوئیاں کی جا رہی ہیں، لیکن واضح رہے کہ ٹرمپ کی مقبولیت میں وقت کے ساتھ ساتھ اتار چڑھاؤ آیا ہے، لہذا اس بار امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
آگے کا منظر
یہ امر اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکی حکومت کے دنیا پر سیاسی اور معاشی اثرات نمایاں تھے۔بطور صدر ٹرمپ کی جانب سےٹیکسوں میں کمی، تجارتی محصولات اور خارجہ تعلقات جیسی اختیار کردہ پالیسیوں نے عالمی حرکیات کو تشکیل دیا تھا۔ اگر ٹرمپ ایک بار پھر منتخب ہو گئے تو ان کی پالیسیاں یقینی طور پر عالمی معاملات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ ایک غیر روایتی سیاست دان ہیں جو بڑے اور غیر متوقع فیصلے لینے میں بالکل نہیں ہچکچاتے۔
تاہم یہ بات یقینی ہے کہ اس سال ہونے والے 60ویں صدارتی انتخابات امریکی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہو گا جو امریکہ اور اس کی قیادت کی مستقبل کی سمت متعین کرے گا۔
(مصنف سینئر صحافی ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)




































