
محمد طارق خان
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس نیٹ ورک نے سڑکوں پر ہونے والے حادثات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جان و مال کے نقصان کو کم کرنے کے لئے ایک مربوط
روڈ سیفٹی آگہی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے صدر انتخاب عالم، سیکرٹری جنرل سید شہزاد مظہر اور جوائنٹ سیکرٹری محمد طارق خان نے اوگرا کی چیئرپرسن کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں ملک بھر میں تیل کی ترسیل کرنے والے ٹینکرز کے بڑھتے ہوئے حادثات، ان سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات اور تیل اور دیگر خطرناک مواد کے بہہ جانے سے ماحول کو ہونے والے نقصانات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے خطرناک مواد بشمول پٹرول، ڈیزل، کیروسین اور گیس وغیرہ کی ترسیل کرنے والے ٹینکرز کو محفوظ بنانے کے لئے نومبر 2009 میں ٹیکنیکل اسپیسیفیکیشن جاری کی تھیں جس کا فوری نفاذ ہونا تھا تاہم 2017 تک 8 سال گزرنے کے بعد بھی اس پر عملدرآمد نہیں ہوا، اس دوران آئے روز آئل ٹینکرز کے الٹنے، تیل بہہ جانے اور بسا اوقات آگ لگنے کے واقعات ہوتے رہے، جس میں نہ صرف قیمتی زرمبادلہ سے خریدا گیا پیٹرول اور ڈیزل ضائع ہوا اور ماحول کو نقصان پہنچا بلکہ کئی قیمتی انسانی جانوںکا بھی زیاں ہوا، یہاں تک کہ 25 جون 2017 کو سانحہ احمد پور شرقیہ رونما ہوا، جس میں ایک غیر معیاری آئل ٹینکر الٹنے سے تیل کا رساؤہوا اور بعد ازاں آگ لگنے سے 300 افراد جھلس گئے جس میں سے 140 سے زائد جاں بحق ہوگئے۔
اس حادثے کے بعد قائم ہونے والے تحقیقاتی کمیشن نے اوگرا سے سفارش کی کہ اوگرا حفاظتی قانون مروجہ 2009 پر فوری عملدرآمد کروایا جائے، تاہم اوگرا نے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال اور احتجاج کے بعد انہیں دو سال کی مہلت دے دی تاکہ وہ اپنے ٹینکرز کو مروجہ قانون کے مطابق اپ گریڈ کرلیں، مگر افسوس کی بات ہے کہ دو سال کے دوران آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن اپنے کرائے بڑھانے میں تو کامیاب ہوگئی مگر قانون کے مطابق اپنے ٹینکرز کو معیار کے مطابق بنانے میں ناکام رہی اور آج بھی غیر معیاری خطرناک ٹینکرز پاکستان کی سڑکوں پر حادثات کا باعث بن رہے ہیں جس میں جان و مال اور ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسی ماہ کراچی میں کریم آباد اور پھر گلبائی کے قریب تیل سے بھرے ٹینکرز الٹ گئے اور خوفناک آگ سے کئی گاڑیاں اور املاک جل کر راکھ ہوگئیں اور زہریلے دھویں سے پورے شہر کی فضا آلودہ رہی۔
مراسلہ میں اوگرا سے 209 کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کرانے اور تیل ٹینکرز کو مزید مہلت نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اسی سلسلے میں ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے زیر اہتمام فاران کلب میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کا عنوان روڈ سیفٹی،حادثات، اسباب اور سدباب تھا۔ تقریب میں شہر بھر سے منتخب سماجی کارکنان، طلبہ و مزدور رہنماؤں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں اور صحافیوں نے شرکت کی۔ مقررین نے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا،ڈی ایس پی ٹریفک طاہر نورانی نے کہا کہ ملک کا ہرشہری قانون کی بالادستی چاہتا ہے مگر خود اس پر عمل کے لیے تیار نہیں ہے۔غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ، تیز رفتاری، اوور لوڈنگ، فٹنس کلیئرنس نہ ہونا، غلط طریقے سے سڑک عبور کرنا حادثات کی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں 60 فیصد ڈرائیور بغیر لائسنس گاڑیاں چلا رہے ہیں۔
معروف صحافی، اینکر اور یوتھ پارلیمنٹ کے صدر رضوان جعفر نے کہا روڈ سیفٹی ایک کلچر ہے، جس کی ترویج نسل در نسل تربیت کی متقاضی ہے، انہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی میں موٹرسائیکل اور چنگچی رکشا کے اژدھام اور سڑکوں فٹ پاتھوں پر ناجائز تجاوزات کوبھی حادثات کا سبب قرار دیا۔ رضوان جعفر نے کہا کہ لوگ ٹریفک قوانین توڑتے میں فخر محوس کرتے ہیں، کراچی میں ٹریفک حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت نوجوانوں کی ہے۔
ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے صدر انتخاب عالم نے قانون کی عملداری اور شہریوں کے تعاون کو حادثات کی روک تھام کے لئے اہم قرار دیا۔ جبکہ ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے جنرل سیکرٹری شہزاد مظہر نے اپنے خطاب میں روڈ سیفٹی کی وسیع تعریف اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ "روڈسیفٹی" عصر حاضر کا ایک ایسا ایشو ہے جس کی اہمیت اور ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ اس کی افادیت اجاگر کرنے کے لئے شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سماجی تنظیموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ شہزاد مظہر نے کہا کہ ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ غیر ذمہ دارانہ ڈارئیونگ ہوتی ہے۔ تیز رفتاری، گاڑوں کی فٹنس کلیئرنس نہ ہونا، ٹائی راڈ کا ٹوٹنا، سڑک عبور کرنے کیلئے پیڈیسٹرین بریج کا استعمال نہ کرنا اور سگنلز توڑنا بھی حادثات کی بڑی وجوہات ہیں، ٹریفک حادثات سے بچنے کیلئے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔

ممتاز سماجی رہنما شفیق اللہ اسماعیل نے حاضرین سے قانون کی پاسداری کرنے، سگنل اور ون وے کا احترام کرنے اور ہیلمٹ و سیٹ بیلٹ کے لازمی استعمال کا حلف لیا۔
طالب علم رہنما مشاہد حسین سہروردی نے ہیومن رائٹس نیٹ ورک کی کوششوں کو سراہا، دائرہ کار کو اندرون سندھ تک بڑھانے کی درخواست کی اور مکمل تعاون کا یقین دلایا، شہید ذوالفقار علی بھٹو لاءیونیورسٹی کے استاد اور ماہر انکم ٹیکس سمیع خان نے نابالغ بچوں کی ڈرائیونگ کے معاملے کو
اٹھایا اور لائسنس کے بغیر کم عمرڈرائیونگ کرنے والوں پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا۔ سماجی کارکنان ظفر عالم نے روڈ سیفٹی کو تعلیمی نصاب کا
حصہ بنانے اور اسکول کالج کی سطح پر تربیتی پروگرامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جوائنٹ سیکریٹری ہیومن رائٹس نیٹ ورک طارق خان نے کہا کہ ہیو من رائٹس نیٹ ورک نے آئل ریگو لیٹری اتھارٹی ( اوگرا) کے چیئر پرسن کو آئل ٹینکر ز کے حادثات کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع روکنے کیلئے اوگرا قانون 2009 پر سختی سے عملدرآمد کرانے کیلئے مراسلہ ارسال کیا ہے۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مراسلہ سانحہ احمد پور شرقیہ کے متاثرین کے اس خط پر لکھا گیا ہے، جس میں انہوں نے ہیومن رائٹس نیٹ ورک سے آئل ٹینکر حادثات کی روک تھام میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔
محمد طارق خان نے کہا کہ ملک میں آئل ٹینکرز کے حادثات تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور انسانی جانوں کیلئے مسلسل خطرہ بنے ہو ئے ہے، گلبائی کر اچی میں ہونے والا واقعہ احمد پور شرقیہ سانحہ کے سلسلے ہی کی کڑی ہے۔ سانحہ احمد پور شرقیہ کے بعد قانون پر عملدرآمد کیا جاتا تو کراچی گلبائی میں آئل ٹینکر کو ہونے والا حادثہ اور اس جیسے درجنوں حادثات پیش نہ آتے۔ سانحہ احمد پورشریقہ 25 جون 2017 کو 29 رمضان المبارک کے دن پیش آیا تھا جس میں 140 کے قریب لوگ جھلس کر جاں بحق گئے تھے، دو سال گزرنے کے بعد بھی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ انہوں نے کہا اگر قانون پر عملدرآمد کو یقینی نہ بنایا گیا تو مظاہرے کئے جائیں گے اور عدالت عالیہ و عظمٰی میں حکومت پاکستان، وزرات پیٹرولیم، اوگرا، تیل کمپنیوں اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشنز کو فریق بنایا کر آئینی پٹیشن داخل کی جائے گی۔ انہوں نے مدیران اخبارات و جرائد، میڈیا پرسنز، اینکرز اور رپورٹرز سے اپیل کی کہ اس موضوع پر آگاہی عام کرنے میں ہیومن رائٹس نیٹ ورک کا ساتھ دیں۔
مقررین نے کہا کہ کوششیں کی جارہی ہیں کہ اس مسئلہ پر شعور و آگہی بیدار کرکے قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے حادثات کی روک تھام کی جائے۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کوئی ملک یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہاں ٹریفک حادثات نہیں ہوتے، دنیا کی طرح پاکستان کو بھی ٹریفک مسائل درپیش ہیں، جن کے حل کی اشد ضرورت ہے۔ ملک میں ہرسال ٹریفک حادثات میں قریب تیس ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد معذور اور زخمی ہوتے ہیں۔
اس موقع پر ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے جوائنٹ سیکریٹری خالد جمال، سماجی تنظیم ہیومینٹی سوشل آرگنائزیشن کی چیئر پرسن شازیہ گوہر، طالب علم رہنما نعمان علی، ایڈووکیٹ زین علی، سلیمان پرویز، پولیس ویلفیئر کے چیئرمین رانا صاحب و دیگر بھی موجود تھے۔





































