
تحریر و تدوین: محمد طارق خان
میں نے یوم باب الاسلام 10 رمضان المبارک 1438 ہجری بمطابق 6 جون 2017 ءکو سوشل میڈیا پر ایک مختصر سی پوسٹ شائع کی، جو
نامکمل بھی تھی، اور اس میں کچھ اغلاط بھی تھیں، اس پوسٹ کے رد عمل کے طور پر کئی دوستوں کے تحریری اور زبانی تبصرے موصول ہوئے، جس کے بعد میں نے اس موضوع پر پہلے سے موجود معلومات کو مزید کھنگالا۔ اس دوران انتہائی قابل احترام دوست غلام عباس اور امجد محمود کی تحریر پڑھنے کو ملی، اور محترام معراج الہدٰی صدیقی صاحب سے بھی رہنمائی ملی، کچھ اور دوستوں نے بھی قیمتی نکات سے نوازا، طوالت کے خوف سے سب کے نام لکھنے سے معذور ہوں۔
یوں ایک مبہم اور نامکمل پوسٹ اچھا خاصا مواد جمع کرنے کا بہانہ بن گئی۔ اسی سارے مواد کو از سر نو ترتیب اور تدوین دے کر آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، اور اس کا انتساب ان تمام علم دوست ساتھیوں کے نام کرتا ہوں، جنھوں نے نہ صرف حوصلہ بڑھایا، بلک مدلل مواد فراہم کیا، جس میں بیشتر تو مکمل پیراگرافس کی صورت میں اس مضمون میں شامل ہے۔ مجھے اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ یہ کاوش ابھی ناتمام ہے، جوں جوں مزید معلومات ملیں گی، اس تحریر کا حصہ بناتا رہوں گا اس امید کے ساتھ کہ اسلام، پاکستان، سندھ دھرتی اور اس کی تاریخ سے محبت رکھنے والوں کو ایک مستند اور جامع دستاویز فراہم ہو سکے گی، اور نوجوان نسل اور تاریخ کے طلبہ بھی اس سے مستفید ہوسکیں گے۔
ابتدائیہ:
برصغیر میں پہلے مسلمان کی آمد سے قیام پاکستان تک 12 سو سالہ طویل تاریخ کے کئی پہلو ایک منظم سازش کے تحت گزشتہ سو سال میں بتدریج متنازعہ بنا دیئے گئے ہیں۔ برصغیر باالخصوص ان علاقوں میں جو موجودہ پاکستان میں شامل ہیں، پہلا مسلمان کب آیا؟ پہلے غیر مسلم نے اسلام کب قبول کیا؟ سب سے پہلے کونسا خطہ مسلمان فاتحین نے فتح کیا؟ ان علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت بالواسطہ اور بلا واسطہ کتنے عرصے رہی؟ مسلمان حکمرانوں کا یہاں کے قدیمی باشندوں کے ساتھ کیا سلوک رہا؟ صوفیائے کرام اس خطے میں کب آئے اور ترویج و اشاعت اسلام میں ان کا کردار کتنا ہے؟ انگریز راج کے خاتمے پر برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیوں کیا؟ قیام پاکستان کی تحریک کیا ایک سیاسی، معاشی تحریک تھی؟ کیا پاکستان ایک نظریاتی اسلامی مملکت کے طور پر معرض وجود میں آیا؟
یہ اور ان جیسے انگنت سوالات ہیں جن کے جوابات کا مکمل احاطہ اس چھوٹی سی تحریر میں ممکن نہیں، کتب خانے بھرے پڑے ہیں، مگر کتاب سے دور نوجوان نسل سنی سنائی، سینہ بہ سینہ غیر مستند اور بسا اوقات من گھڑت روایات، اور اپنوں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں کے سبب مخمصہ کا شکار ہے۔ اس مخمصہ میں مزید اضافہ انٹرنیت باالخصوص سوشل میڈیا کی آمد سے ہوا ہے، جس پر ہر قسم کا مواد بلا تحقیق، انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں شائع کیا جا رہا ہے، جس کی تصدیق یا تردید کا کوئی طریقہ کار ہے، نہ کسی قسم کی جوابدہی ہوتی ہے۔
اس لئے آج اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ تاریخ کی گرد آلود کتابوں کو جھاڑ کر نوجوان نسل کے لئے سادہ، سلیس زبان میں ایسے موضوعات کو جامع انداز میں مرتب کیا جائے، تاکہ اس ذہنی اور فکری انتشار کو دور کیا جا سکے،جو انیسویں صدی میں انگریزی نوآبادیاتی قبضے سے شروع ہوتا ہے، اور قیام پاکستان کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انگریز روز اول ہی سے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی جس پالیسی پر عمل پیرا تھا اس کا فطری تقاضہ تھا کہ برصغیر کے لوگوں کو ایک طرف قوموں، قبیلوں ،رنگ نسل، ذات پات اور مذہب کے نام پر تقسیم کیا جائے، تو دوسری طرف مسلمانوں کو، جن کی طرف سے سب سے زیادہ مزاحمت کا اندیشہ تھا، ان کے مذہب اور اسلاف سے متنفر کرنے کے لئے، ان کے تاریخی ورثہ اور ہیروز کو اس قدر متنازعہ بنا دیا جائے، تاکہ مسلمان اس پر فخر کرنے کے بجائے شرمندہ ہوں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ایک طرف مستشرقین کے ذریعے بڑی تعداد میں جھوٹ کی بنیاد پرایسا مواد تخلیق کیا گیا، جس میں مسلمان فاتحین اور ہیروز کی جان بوجھ کر کردار کشی کی گئی، اور ان کے متبادل کے طور پر پر مغربی کرداروں کو بطور ہیرو پیش کیا گیا۔ جس کی ایک مثال الیگزینڈر یا سکندر نامی اوباش ، لاابالی، ظالم اور لٹیرے کو تاریخ کے عظیم ترین فاتح سکندر اعظم کے روپ میں پیش کرنا اور اس کے مقابلے پر اس سے بھی بڑے فاتح، باکردار، عادل، منصف، مدبر اوراعلیٰ پائے کے منتظم حکمران عمر بن الخطاب کو متنازعہ بنا کر پیش کرنا ہے، اور یہ الزام کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے، حالانکہ تاریخ گواہ ہے، کہ یوروپی فاتحین نے اپنے مفتوحہ علاقوں میں ظلم و بربریت کا جو مظاہرہ کیا، اس کے سامنے چنگیز اور ہلاکو بھی ہیچ ہیں۔ اس کی ایک مثال یروشلم ہے، تاریخ میں یروشلم یا فلسطین کو سب سے پہلے یہودی، پھر بابیلونی، ایرانی، مصری، رومی اور یوروپی صلیبی عیسائی جنگجوں نے باری باری فتح کیا۔ اور ان میں سے ہر ایک نے مقامی لوگوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا، شہر کو جلا کر راکھ کردیا اور بڑے تعداد میں عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے اس شہر کو خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں بغیر کسی خون خرابے کے فتح کیا، شہریوں کو مکمل تحفظ دیا گیا، عورتیں، بچے اور عبادت گاہیں محفوظ رہیں۔نہ کسی کو جبراً مسلمان کیا گیا، نہ کسی کی مذہبی آزادی سلب کی گئی۔ اس کے باوجود الزام اسلام اور مسلمانوں پر ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ انگریز کے ہاتھوں جنگ کے میدان میں شکست خوردہ ہندوستانی مسلمانوں کے ایک طبقے نے فکری محاذ پر بھی شکست تسلیم کرلی۔ ان فکری شکست خوردہ مفکرین نے علم کے نام پر پھیلائے جانے والے ہر قسم کے لغو مغربی نظریات کو سائنس اور تاریخ سمجھ کر نہ صرف خود قبول کیا، بلکہ مسلمانوں سے بھی انہیں من و عن قبول کروانے کی کوشش کی۔ غلامی کے اس دور میں ہندی مسلمانوں میں نت نئے فرقے پیدا ہوئے، اور سر سید جیسے معذرت خواہ دانشور مغربی نظریات سے اس قدر مرعوب ہوئے، کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ہی روگردانی کرلی۔ یہی وہ پس منظر ہے جس کی نشاندہی کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ :
غمیں نہ ہو کہ پراگندہ ہے شعور تیرا
فرنگیوں کا ہے یہ افسوں، قم باذن اللہ
علامہ اقبال کی دور اندیش اور قائد اعظم کی بااصول قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے تمام تر فتنوں، سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود پاکستان حاصل کرلیا، تو غلامی کے پیدوار فرقہ پرست، قوم پرست، مذہب بیزار طبقے نے نومولود پاکستان کے خلاف سازشوں کا آغاز کردیا، اور بالکل اسی انداز میں جس طرح انگریز نے مسلمانوں کی فکری اور نظریاتی اساس کو نشانہ بنایا تھا، انگریز کی باقیات نے تحریک پاکستان، بانیان پاکستان، اور پاکستان کی نظریاتی اساس کو نشانہ بنایا، اقبال اور جناح کی منظم کردار کشی کی مہم چلائی گئی، پاکستان کو انگریز کی سازش کہا گیا اور ساتھ ہی یہ کہ پاکستان تو ایک سیکولر ریاست کے طور پر معرضِ وجود میں آیا تھا۔ انگریز کے اسلام دشمن پروپیگنڈے کی طرح اس پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا بھی نہ کوئی سر پیر ہے، نہ کوئی بنیاد۔ مگر یہ جھوٹ اتنے تواتر سے بولے گئے کہ تاریخ سے نابلد عوام کے ایک طبقے نے اسے سچ سمجھ لیا۔
اسلام اور پاکستان کی نظریاتی اساس کے خلاف ہونے والے اس پروپیگنڈے کے خالقین بھی اس تاریخی حقیقت کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے، جس کی نشاندہی قائد اعظم محمد علی جناح نے کی تھی، کہ پاکستان کی بنیاد اس دن ہی پڑ چکی تھی، جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا، لہذا پاکستان اور اسلام دشمنوں کا اولین اور سب سے بڑا نشانہ بھی وہ شخص بنا، جس نے برصغیر میں مسلمان حکومت کی بنیاد رکھی، یعنی محمد بن قاسم، 17 سالہ وہ نوجوان فاتح جو ایک مظلوم عورت کی پکار سن کر سندھ آیا اور نہ صرف بحری قذاقوں سے اغوا شدہ زائرین کو رہائی دلوائی، مسرقہ سامان برآمد کیا، بلکہ اہل سندھ کو تاریخ کے سب جابر، ظالم اور غاصب لٹیرے داہر سے نجات دلوائی۔ اہل سندھ صدیوں سے محمد بن قاسم کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے آئے ہیں، یہاں تک کی اس کی وفات پر اس کی مورتیاں بنا کر پوجا گیا، مگر پاکستان بننے کے بعد مخصوص گروہوں اور افراد نے ذاتی اور گروہی مفادات کے حصول کے لئے ایک غاصب اور جابر لٹیرے داہر کو ہیرو اور ایک نجات دہندہ، عادل حاکم محمد بن قاسم کو غاصب اور لٹیرا بنا کر پیش کیا۔
محمد بن قاسم کا تعارف:
محمد بن قاسم (عربی پورا نام: عماد الدین محمد بن قاسم بن محمد بن حکم بن ابی عقیل ثقفی) بنو امیہ کے ایک مشہور سپہ سالار ، گورنر عراق حجاج بن یوسف کے بھتیجے تھے۔ محمد بن قاسم 694ء میں طائف میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاسم خاندان کے ممتاز افراد میں شمار کئے جاتے تھے۔ اموی خلیفہ عبدالمالک بن مروان کے دور خلافت میں جب حجاج بن یوسف کو عراق کا گورنر مقرر کیا گیا، تو اس نے ثقفی خاندان کے ممتاز لوگوں کو مختلف عہدوں پر مقرر کیا۔ ان میں محمد کے والد قاسم بھی تھے، جو بصرہ کی گورنری پر فائز تھے۔ اس طرح محمد بن قاسم کی ابتدائی تربیت بصرہ میں ہوئی، محمد بن قاسم کی عمر ابھی 5 سال ہی تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ یتیمی اور غربت اعلی تعلیم کے راستے کی رکاوٹ بنی، تو باصلاحیت محمد بن قاسم نے ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔ فنون سپہ گری کی تربیت انہوں نے دمشق میں حاصل کی، اور انتہائی کم عمری میں اپنی قابلیت اور غیر معمولی صلاحیت کی بدولت فوج میں امتیازی حیثیت حاصل کرلی۔
معروف عرب مورخ اور اسلام کے ابتدائی ادوار پر مشہور کتاب ’فتوح البلدان‘ کے مصنف بلاذری لکھتے ہیں: ”محمد بن قاسم کی شخصیت انتہائی پروقار تھی۔ ان کا اخلاق دوسروں کو جلد گرویدہ بنالیتا تھا۔ ان کی زباں شیریں تھی اور وہ ہنس مکھ تھے۔ وہ ایک باہمت، بامروت، رحمدل اور ملنسار انسان تھے۔ وہ ہر شخص سے محبت سے پیش آتے اور ان کے ماتحت ان کی حددرجہ عزت و احترام کرتے تھے۔ عام زندگی میں لوگوں کے غم بانٹتے تھے۔ انہوں نے ہر موڑ پر عقل و فراست کو پوری طرح استعمال کیا اور ان کا ہر قدم کامیابی کی راہیں تلاش کرتا تھا۔ ان کی بلند خیالی اور مستحکم ارادے ان کی کامیابی کی دلیل تھے“۔
710ءمیں لگ بھگ 15سال کی عمر میں حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو ایران میں کردوں کی بغاوت کچلنے کی مہم پر سپہ سالار بنا کر روانہ کیا۔اس مہم میں محمد بن قاسم نے شاندار کامیابی حاصل کی، اور شیراز نامی ایک معمولی ایرانی چھاؤنی کو ایک اہم فوجی مرکز میں تبدیل کردیا، اور اس شہر کا گورنر مقرر ہوا، جہا ں اس نے اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ حکومت کر کے اپنی قابلیت کا سکہ بٹھایا۔ یہی وجہ کہ 712ء میں سندھ میں قید مسلمان خواتین اور بچوں کو بازیاب کروانے کے لئے بھیجے گئے پہلے مشن کی ناکامی کے بعد حجاج بن یوسف کی نظر انتخاب ایک بار پھر نوجوان محمد بن قاسم پر پڑی، حکم ملا تو محمد بن قاسم ایران ہی کے راستے، مکران اور کراچی کے ساحلی علاقوں سے ہوتا ہوا، دیبل پہنچا۔ دس رمضان المبارک 93 ہجری بمطابق 712ء وہ تاریخی دن ہے کہ جس دِن محمد بن قاسم نے سندھ کے ظالم، جابر اور غاصب راجہ داہر کو شکستِ فاش دے کر اس دور میں سندھ کی راجدھانی ’راوڑ‘ کو فتح کیا، یہ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی حکومت کے صدیو ں پر محیط دور کا نقطئہ آغاز ہے۔
محمد بن قاسم نے 17 سال کی عمر میں سندھ فتح کرکے ہندوستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ ان کو اس عظیم فتح کے باعث ہندوستان و پاکستان کے مسلمانوں میں ایک ہیرو کا اعزاز حاصل ہے اور اسی لئے سندھ کو "باب الاسلام" کہا جاتا ہے، کیونکہ ہندوستان پر اسلام کا دروازہ یہیں سے کھلا۔ اس تاریخی اہمیت کے واقعے کو متنازعہ بنانے کے لئے گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔ مسلمانان ہند، پاکستان اور بالاخصوص سندھ کی تاریخ میں محمد بن قاسم کو جو اہمیت حاصل ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ اس عظیم جرنیل، فاتح، اور سندھ دھرتی کے نجات دہندہ اور سندھیوں کے محسنِ اعظم کی ذات پر جو کیچڑ اچھالا جا رہا ہے، اس کا مدلل جواب دیا جائے۔ تاہم اس جواب سے پہلے محمد بن قاسم رحمہ اللہ علیہ کے معاندین اور ان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے والوں کے تاریخ اور ان کے عزائم پر بھی ایک نظر ڈالی جائے۔
محمد بن قاسم کے معترضین :
محمد بن قاسم پر اعتراض کرنے والے بنییادی طور پر پانچ قسم کے لوگ ہیں۔
۱۔ مغرب نواز لبرل سیکولر طبقہ:
اس طبقے کا مسئلہ محمد بن قاسم نہیں، بلکہ محمد بن عبداللہ ﷺ کی ذات ہے، اس طبقہ کو ہر اس بات پر اعتراض ہے جو کسی حوالے سے بھی محمد ﷺ اور ان کی تعلیمات سے جا ملتی ہے۔ ان کا بنیادی مسئلہ اسلام ہے، جو ان کے مغربی آقاﺅں کے عالمگیر تسلط کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، یہ لوگ اسلام دشمنی میں ہر حد عبور کرچکے ہیں، چونکہ اُن کے آقاﺅں کے فلسفے کے مطابق جنگ میں ہر چیز جائز ہوتی ہے، اس لئے جھوٹ بولنا، تاریخ کو مسخ کرنا، تاریخی حقائق کو تروڑ مروڑ کر پیش کرنا، سب کچھ جائز بلکہ عین مطلوب ہے، اگر اس سے اُن کے مذموم مقاصد کی تکمیل ہوتی ہو۔ یہ طبقہ تواتر کے ساتھ جھوٹے، من گھڑت قصوں اور مغربی پروپیگنڈہ کو تاریخ بنا کر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف یہ طبقہ انسانیت کے سب سے بڑے مذہب ہونے کا دعویدار ہے تو دوسری طرف قوم پرستی کو ہوا دیتا اور اسلام اور پاکستان بنیادیں کھوکھلی کرنے کا کام انجام دے رہا، ان کا خیال ہے کہ اگر پاکستان کے جسم سے روحِ محمدی نکال دی جائے، تو پاکستان کی تقسیم در تقسیم آسان ہوجائے گی، اور دنیا کی واحد مسلمان جوہری طاقت کا خاتمہ ممکن ہوجائے گا، اور اس طرح ان کے مغربی آقاﺅں کے ناپاک عزائم کی تکمیل ہوسکے گی۔
۲۔ قوم پرست، نسل پرست، لسانی تنظیمیں اور گروہ:
ان کا مسئلہ بھی بنیادی طور پر اسلام ہے، کیونکہ اسلام عالمگیر بھائی چارے کا علمبردار ہے، اسلام ہر قسم کی ذات پات، رنگ، نسل اور طبقاتی تقسیم کے خلاف ہے، یہ ایک ایسا پیغام ہے، جو قوم پرستی، نسل پرستی اور لسانیت کا چورن بیچنے والوں کے لئے موت ہے، لہذا ضروری ہے کہ اسلام اور اسلامی تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا جائے، تاکہ ان کا چورن بک سکے۔ یہ محمد بن قاسم کو غاصب اور داہر کو سندھ کا سپوت بنا کر پیش کرتے ہیں، مگر ان کی خود ساختہ تاریخ کی عمارت اول الذکر گروہ سے بھی زیادہ کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے۔ داہر راج سندھ میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی پامالی کی بدترین ادوار میں سے ایک تھا، اور اس دور میں سندھ کے اصل باشندوں، ان کے مذہب اور ثقافت کو بری طرح کچلا گیا، یہی وجہ ہے کہ اہل سندھ نے محمد بن قاسم کی آمد پر اس کے ساتھ مل کر داہر راج کے خاتمے میں کردار ادا کیا، رضا کارانہ طور پر جوق در جوق اسلام قبول کیا، اور محمد بن قاسم کی واپسی پر مورتیاں بنا کر اس کی پوجا کی، اس کی موت کی خبر سن کر نوحہ کناں ہوئے، اور آج بھی اسلامی ثقافت کی علامات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
۳۔ فرقہ پرست تنظیمیں اور گروہ:
مذہبی لبادہ میں یہ واحد طبقہ ہے جو محمد بن قاسم کی مخالفت کرتا ہے، اس کی وجہ محمد بن قاسم نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ کے ابتدائی ادوار کے اختلافات ہیں، اس گروہ کا بنیادی استدلال یہ ہے، کہ اُس دور کے اُموی حکمران ولید بن عبدالمالک اور ان کا نامزد گورنر عراق حجاج بن یوسف‘ ظالم اور جابر حکمران تھے، جن کے ہاتھ شیعان علی کے خون سے رنگے ہیں، چونکہ محمد بن قاسم بھی اِسی اُموی دور سے تعلق رکھتے تھے، اور حجاج بن یوسف کے کہنے پر سندھ آئے تھے، لہذا ان کا اچھا بھی برا ہے۔ اس طبقہ نے مغرب نواز، لبرل سیکولر، اور قوم پرست طبقات کے جھوٹے پرو پیگنڈے کو نہ صرف آگے بڑھایا، بلکہ اس کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر مسلمانوں میں ایک نئی تفریق کی بنیاد ڈال دی ہے۔ اس طبقے نے جس جھوٹ کو بہت تواتر سے پھیلایا ہے اس میں ایک یہ کہ سندھ میں اسلام محمد بن قاسم سے بہت (بہت پر زور ہے) پہلے نہ صرف آچکا تھا، بلکہ سادات اور صوفیائے کرام کے ذریعے بڑے پیمانے پر پھیل بھی چکا تھا۔ اور دوسرا یہ کہ محمد بن قاسم کی سندھ آمد کا اصل مقصد عبداللہ شاہ غازی جیسے سادات کا قلع قمع کرنا تھا، جو سندھ کے عوام میں اپنی جڑیں بنا چکے تھے۔ آگے چل کر ان کے پھیلائے گئے جھوٹ پر بھی مفصل بحث کریں گے۔
۴۔ ہندو مت کے پیروکار:
داہر کے باپ چچ نے سندھ میں بدھ مت کا راج ختم کرکے برہمن راج قائم کیا، مگر ظلم کا یہ راج محض چند سال ہی چل سکا اور محمد بن قاسم سندھ کے مظلوم طبقات کے لئے نجات دہندہ بن کر آیا، جس نے سندھ میں ایک بار پھر مذہبی رواداری کو فروغ دیا، اور عادلانہ نظام قائم کیا، جس سے متاثر ہوکر بڑی تعداد میں سندھی بدھ اور نچلی ذات کے ہندو مسلمان ہوئے، یوں سندھ میں برہمن راج اور ہندو غلبہ کا اختتام ہوا، اس لئے یہ بات قابل فہم ہے کہ ہندو مذہب کے پیروکار باالخصوص برہمن ذات کے لوگ محمد بن قاسم کو غاصب اور لٹیرا کہیں۔ فاتح قوم کے جنگی ہیروز باالعموم مفتوح قوم میں مطعون ٹھہرتے ہیں۔ یہ واحد طبقہ ہے جس کے اختلاف کی کچھ بنیاد ہے۔ ان کے پھیلائے گئے جھوٹ میں سب سے اہم محمد بن قاسم کے سندھ کے خزانوں اور وسائل کی لوٹ مار ہے، جس کے کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں، اس پر بھی بات ہوگی۔
۵۔ تاریخ سے نابلد عوام:
یہ طبقہ دراصل پہلے چار طبقات کے پروپیگنڈے کا شکار ہے، یہ وہ مسلمان اور پاکستانی ہیں، جنہیں نہ تو اسلام اور اسلامی تاریخ سے واقفیت ہے، اور نہ ہی تحریک پاکستان سے۔ یہ محض سنی سنائی روایات کو آگے بڑھاتے ہیں، یہی وہ طبقہ ہے جس کے فکری انتشار کا خاتمہ اس تحریر کا مقصود بھی ہے اور تحریک بھی۔ پہلے چار طبقات ہمارے براہ راست مخاطب نہیں ہیں۔
اس پس منظر میں بات کو آگے بڑھاتے ہیں، امید ہے اس سے آنے والے مباحث سمجھنے میں مدد ملے گی۔
محمد بن قاسم سے پہلے کا سندھ:
تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے جب آریہ اس علاقے میں آئے تو انھوں نے اس کا نام ‘سندھو’ رکھا، کیونکہ وہ اپنی زبان میں دریا کو ‘سندھو’ کہتے تھے۔ جو رفتہ رفتہ سندھ کہلائے جانے لگا۔ یہ نام اس قدر مقبول ہوا کہ ہزاروں سال گزر جانے پر بھی اس کا نام سندھ ہی ہے۔ آریوں نے سندھ کے اس پار جتنے علاقے فتح کیے، انھوں نے سب کا نام سندھ ہی رکھا۔ یہاں تک کہ پنجاب کی سرحد سے آگے بڑھ کر جب گنگا پہنچ کر رکے تو اس کا نام آریہ ورت رکھا، مگر ہندوستان سے باہر اس نام کو شہرت حاصل نہ ہوئی۔ ایرانیوں نے دریا سندھ کے پار علاقن کو ہند سے موسوم کیا، یونانیوں نے ‘ھ’ کو اس کے قریبی مخرج حرف ہمزہ سے بدل کر اند کر دیا، رومن میں یہ لفظ اند سے اندیا ہوگیا اور انگریزی زبان میں چونکہ ‘دال’ نہیں اس لیے انڈیا بن گیا۔
تیرہ سو سال پہلے جس علاقے کو سندھ کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا اس کی حدود ٹھٹہ و مکران کے ساحلوں سے لے کر کشمیر تک پھیلی ہوئی تھیں۔اسلام سے پہلے 137 سالہ بدھ مت کے پیرو کار رائے سلسلے اور پھر ہندو مت کے چچ سلسلے کی حکمرانی مغرب میں مکران، جنوب میں بحر عرب اور گجرات، مشرق میں موجودہ ’مالوہ‘ کے وسط اور راجپوتانے تک اور شمال میں ملتان سے گزر کر جنوبی پنجاب سے کشمیر تک کے وسیع و عریض علاقے پر قائم تھی اور عرب مورخین اس سارے علاقے کو سندھ کہتے تھے۔
اسلام سے پہلے سندھ میں جو راجے حکومت کرتے تھے وہ رائے کہلاتے تھے، سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہاں بدھ مت کے پیرو کار رائے خاندان کی حکومت تھی، رائے سلسلے کی یہ حکومت ایک سو سینتیس سال تک قائم رہی۔ اس سلسلے میں پانچ راجا گزرے ہیں، جو سب کے سب بدھ مت کے پیروکار تھے:
۱۔ رائے ڈیوانچ
۲۔ رائے سیھرس اول
۳۔ رائے سہاسی اول
۴۔ رائے سیھرس ثانی
۵۔ رائے سہاسی ثانی
(تاریخ سندھ – اعجاز الحق قدوسی، صفحہ نمبر1,2,4 اشاعت بار دوم: فروری 1976، ناشر: مرکزی اردو بورڈ، لاہور)
سندھ میں براہمن راج کا آغاز:
سندھ کے آخری بدھ حکمران رائے سہاسی ثانی کے دربار میں ایک کشمیری پنڈت چچ نے اپنی مردانہ وجاہت اور ذہانت کے بل بوتے پر وزارت کا مقام اور شاہی محل تک رسائی حاصل کرلی، رائے سہاسی ثانی کی رانی سوھاندی بھی ایک انتہائی خوبصورت عورت تھی، وہ پہلی ہی نظر میں اس گورے چٹے قد آور کشمیری پنڈت پر فریفتہ ہوگئی، دونوں کے درمیان ناجائز تعلقات استوار ہوئے، تو رانی نے چچ کے ساتھ مل کر رائے سہاسی سے نجات کی ترکیبیں سوچنا شروع کردیں، اور بالآخر اس کشمیری پنڈت چچ نے رانی کی مدد سے رائے سہاسی ثانی کو قتل اور اس کے بھائیوں کو جیل میں ڈال کر 632 عیسوی میں سندھ پر غاصبانہ قبضہ کرلیا، اتفاق کی بات یہ کہ یہ سال نبی کریم ﷺ کے وصال کا سال بھی تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ راجہ داھر اور اس کا بھائی دھرسیہ دراصل رانی سوھاندی اور وزیر چچ کے درمیان اسی ناجائز تعلق کی پیداوار ہیں۔ یوں سندھ میں ایک سو سینتیس سالہ مذہبی رواداری پر مشتمل بدھ حکمرانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا اور سندھ پر ایک تنگ نظر سازشی کشمیری پنڈت کا غاصبانہ راج قائم ہوگیا، جس نے لوٹ مار اور ظالمانہ ٹیکس نظام کی ترویج کی، ہندو مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا، اور سندھ میں بدھ مت کے پیرو کاروں پر عرصہ حیات تنگ کردیا۔ اس کی دست برد سے آس پاس کی چھوٹی ریاستیں بھی محفوظ نہ رہیں اور وہ اپنے پورے دور اقتدار میں ان ظالمانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں پر عمل پیرا رہا۔
راجہ داہر کا عروج:
چچ کی موت کے بعد اس کا بھائی’چندرا‘ راجہ بنا۔جو کچھ ہی عرصہ میں میں فوت ہوگیا، جس کے بعد شمالی سندھ میں چچ کا بڑا بیٹا دھرسیہ اور جنوبی سندھ میں چھوٹا بیٹا داہر راجہ بنا۔ چچ کی ایک بیٹی تھی جو اپنی ماں اور باپ کی طرح نہایت خوبصورت تھی، دھرسیہ نے اس کے جہیز کا سامان تیار کیا اور اسے داہر کے پاس بھیجا تاکہ اس کی شادی کردی جائے۔ داہر نے ہندو جوتشیوں سے زائچہ نکلوایا۔ جوتشیوں نے کہا کہ آپ کی بہن بڑے نصیبوں والی ہے۔ یہ جس کے پاس رہے گی اس کے پاس سندھ کی حکومت ہوگی۔ داہر نے اس ڈر سے کہ کہیں اس کے ہاتھ سے حکومت نہ چلی جائے، اپنے وزیروں سے مشورہ کیا، وزیروں نے مشورہ دیا کہ آپ اپنی بہن سے شادی کرلیں، بات اچھی ہو یا بری ،لوگ دو چار دن یاد رکھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔اور لوگ تو دھرم کے نام پر بھائیوں اور باپ تک کو قتل کروا دیتے ہیں، بہن سے شادی تو ایک معمولی بات ہے۔
وزراء کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے راجہ داہر نے اپنی بہن سے شادی رچالی، داہر نے اقتدار کے لالچ میں جس رسم کی بنیاد ڈالی، وہ جائداد کو تقسیم سے بچانے کے لئے’ قرآن سے شادی ‘کے نام پر آج بھی سندھ کے جاگیردار طبقہ میں پائی جاتی ہے۔ دھرسیہ کو یہ بات ناگوار گزری اور وہ ایک لشکر جرار لے کر برہمن آباد سے روانہ ہو کر وادی مہران کے جنوبی علاقے نیرون کوٹ (حیدرآباد) پہنچا اور قلعے کا محاصرہ کرلیا۔ اسی دوران اِس علاقے میں چیچک کی وبا پھیل گئی اور دھرسیہ چیچک میں مبتلا ہوکر فوت ہوگیا۔ اس طرح راجہ داہر پورے سندھ کا بلا شرکت غیرے حکمراں بن گیا۔ اس کی خود سری اور مظالم حد سے بڑھ گئے، اس کے دور میں ایک عام سندھی عملاً غلامی کی چکی میں پس رہا تھا۔ قزاقی ،لوٹ مار اور غنڈہ گردی کرنے والے داہر کے سایہ عافیت میں پناہ لیتے تھے۔
(تاریخ سندھ، صفحہ 45-46)
برصغیر میں اسلام کی آمد:
برصغیر میں اسلام سب سے پہلے جنوبی ہند پہنچا، مسلمان تاجر اور مبلغین ساتویں صدی عیسوی ہی میں (یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات 632ء میں ہوئی تھی- یعنی آپ کی وفات کے فوراً بعد ہی) مالبار اور جنوبی ساحلی علاقوں میں آنے جانے لگے- مسلمان بہترین اخلاق و کردار کے مالک اور کاروباری لین دین میں دیانتدار تھے، لہذا مالبار کے راجاوں، تاجروں اور عام لوگوں بھی نے ان کے ساتھ رواداری کا برتاﺅ کیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے برصغیر پاک و ہند کے مغربی ساحلوں پر قطعہ اراضی حاصل کرکے مسجدیں تعمیر کیں، اورتجارت کے ساتھ ساتھ تبلیغ دین بھی کرتے رہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اولین مساجد انہی مسلمان تاجروں نے جنوبی ہند میں تعمیر کیں تھیں، جن کے آثار آج بھی باقی ہیں، اس دور میں ہر مسلمان اپنے اخلاق اور عمل کے اعتبار سے دین کا مبلغ تھا، باقاعدہ مبلغین، صوفیاء اور خانقاہوں کا کوئی تصور نہیں تھا۔ عوام ان تاجروں کے اخلاق و اعمال سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کے ہاتھوں ہزاروں مقامی باشندے مسلمان ہوگئے۔ تجارت اور تبلیغ کا یہ سلسلہ ایک صدی تک جاری رہا یہاں تک کہ مالابار میں اسلام کو خاطر خواہ فروغ حاصل ہوا اور وہاں کا راجہ بھی مسلمان ہوگیا۔
جنوبی ہند میں فروغ اسلام کی وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں ہند مذہبی کشمکش کا شکار تھا- ہندو دھرم کے پیروکار بدھ مت اور جین مت کے شدید مخالف اور ان کی بیخ کنی میں مصروف تھے۔ جبکہ نچلی ذات کے ہندو ذات پات کی ظالمانہ جکڑ بندیوں سے تنگ آچکے تھے، ان حالات میں جب مبلغین اسلام نے توحید باری تعالی کی تعلیم دی، ذات پات اور چھوت چھات کو بے معنی اور خلاف انسانیت قرار دیا، تو عوام جو ہزاروں سال سے تفرقات اور امتیازات کا شکار تھے، بے اختیار اسلام کی طرف مائل ہونے لگے۔ چونکہ حکومت اور معاشرہ کی طرف سے تبدیلی مذہب پر کوئی پابندی نہیں تھی، لہذا ہزاروں غیر مسلم مسلمان ہوگئے۔
(تاریخ پاک وہند، ص:390)
اسندھ میں اسلام کی آمد:
1۔ اسی دور میں مسلمان تاجروں نے سندھ کے ساحلی علاقوں اور اس سے آگے ممبئی اور سراندیپ موجودہ سری لنکا تک بھی رسائی حاصل کرلی تھی۔ بعض روایات کے مطابق سندھ کے مقامی باشندوں کا ایک وفد انہی تاجروں کے توسط سے نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں بھی حاضر ہوا، جن کے ہمراہ سندھی مسلمانوں کی تربیت کے لئے پانچ صحابہ بھی سندھ بھیجے گئے، ان پانچ میں سے دو نے کچھ عرصہ قیام کے بعد واپسی اختیار کی، جبکہ تین سندھ میں مستقل قیام پذیر ہوئے، یہیں انتقال ہوا، اور یہیں مدفون ہوئے، تاہم نہ تو ان کی قبروں کے آثار موجود ہیں اور نہ ہی تاریخ میں ان کے مدفن کی کوئی نشاندہی ملتی ہے ۔
۲۔ دورِ فاروقی:
خلیفہ ثانی حضرت عمربن الخطاب کے زمانے میں اسلام انتہائی سرعت کے ساتھ دنیا کے طول و عرض میں پھیلا، اسی عہد میں بحرین و عمان کے حاکم عثمان بن ابوالعاص ثقفی نے 636ء یا 637ء میں (وصال رسول اللہ ﷺسے صرف 4 سال بعد) ایک فوجی مہم ’تھانہ‘ بھیجی جو کہ موجودہ ممبئی کے قریب تھا- اس کی اطلاع جب حضرت عمر فاروق کو دی گئی تو آپ ناراض ہوئے اور لکھا” تم نے میری اجازت کے بغیر سواحلِ ہند پر فوج بھیجی، اگر ہمارے آدمی وہاں مارے جاتے، تو میں تمہارے قبیلہ کے اتنے ہی آدمی قتل کرڈالتا” (تاریخ پاک وہند ص: 18)
۳۔ عہدعثمانی:
عہد عثمانی میں عراق کے حاکم عبداللہ بن عامر نے حکیم بن حبلہ کو برصغیر کے سرحدی حالات کی تحقیق پر مامور کیا- واپسی پرانہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ”وہاں پانی کیمیاب ہے، پھل نکمے ہیں، ڈاکو بہت دلیر ہیں۔ اگر قلیل تعداد میں فوج بھیجی تو ہلاک ہوجائے گی اور اگر زیادہ لشکر بھیجا گیا، تو بھوکوں مرجائے گا‘ ‘ اس رپورٹ کی بنیاد پر حضرت عثمان غنی نے مہم بھیجنے کا ارادہ ترک کردیا۔ (تاریخ پاک وہند ص: 19)
۴۔ دور ِمعاویہ:
معاویہ دورِ حکومت میں مشہور سپہ سالار مہلب بن ابی صفرہ نے برصغیر کی مغربی سرحد پر حملہ کیا اور لاھور تک بڑھ آیا- انہی ایام میں خلیفہ اسلام نے ایک اور سپہ سالار عبداللہ بن سوار عبدی کو سواحل برصغیر کے سرکش لوگوں کی گوشمالی کے لیے 4 ھزار کی عسکری جمعیت کے ساتھ بھیجا- اس نے قیقان کی فوجوں کو بری طرح شکست دی اور مال غنیمت لے کر واپس چلاگیا- (تاریخ پاک وہند ص:19)
تاہم اس تمام عرصہ میں ہند یا سندھ میں کوئی باقاعدہ مسلمان ریاست یا حکومت قائم نہیں ہوئی۔
۵۔ ولید بن عبد المالک کا عہد:
712ءیعنی 93ھ میں ولید بن عبد المالک کے زمانہ میں وہ واقعہ پیش آیا جس نے برصغیر میں اسلام کی اشاعت کے سلسلہ میں بڑا موثر کردار ادا کیا؛ مسلمان تاجروں کا ایک گروہ اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ سراندیپ سےحجاز جا رہا تھا کہ ان کو بحیرہ عرب سے گزرتے ہوئے راجہ داہر کے بحری قزاقوں نے لوٹ لیا اور ان کو قیدی بنا کر دیبل کی جیل میں تاوان کی خاطر قید کردیا ۔ان قیدیوں کی رہائی کے لئے اس وقت کے اسلامی صوبہ عراق کے گورنر حجاج بن یوسف نے بھرپور سفارتی کوشش کیں اور داہر کو ان قیدیوں کی رہائی کے لئے مکتوب لکھے۔ جس کے جواب میں راجہ داہر نے حیلے بہانوں سے کام لیا کہ بحری قزاق بہت طاقتور ہیں اور میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس جواب کے بعد حجاج بن یوسف نے ایک چھوٹی سی فوج بھیجی، جو قیدیوں کو رہا کروانے کے اپنے مشن میں ناکام ہو گئی، اس فوج کی کمان عبید اللہ بن نیہان السلمی کر رہے تھے جن کے بارے میں محقق ڈاکٹرعمر بن محمد داود پوتہ نے لکھا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر عبداللہ شاہ غازی ہیں، تاہم دوسری روایات کے مطابق عبداللہ شاہ غازی کی پیدائش محمد بن قاسم کی وفات کے بعد ہوئی، اس لئے ان کا عبداللہ شاہ غازی ہونا بعید از قیاس ہے۔
اس ناکام مہم میں کمانڈر عبیداللہ اوران کے نائب بدیل بن طیہقہ الجبلی دونوں شہید ہو گئے، داہر کے قذاقوں سے لاتعلقی کے دعوے کے باوجود اس معرکے میں عبیداللہ کا مقابلہ راجہ داہر کے اپنے بیٹے جے سنگھ نے کیا تھا۔ اس مہم کی ناکامی کے بعد کہ حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کی سربراہی میں نسبتاً بڑی فوج روانہ کی۔
فتح سندھ، یوم باب الاسلام:
محمد بن قاسم نے سندھ کی سرزمین پر پہنچ کر پہلے دیبل کی جیل سے مسلمان قیدیوں کو رہا کروایا۔ اور اس کے بعد راجہ داھر کے جنگی چیلنچ پر مشتمل ایک خط ملنے پر اس کے دارالحکومت ’راوڑ ‘ کا رخ کیا، جو دریا سندھ کے پار واقع تھا۔ اس جنگ کے موقع پر محمد بن قاسم کی جنگی پوزیشن بالکل وہی تھی جو بعد میں طارق بن زیاد کی اندلس کی سرزمین پر تھی۔ سامنے سینکڑوں ہاتھیوں پر مشمل راجہ داہر کی فوج اور پیچھے موجیں مارتا ہوا دریائے سندھ۔ اس موقع پر محمد بن قاسم نے اپنے لشکر سے جو خطاب کیا وہ بھی طارق بن زیاد کی تقریر سے ملتا جلتا تھا۔ یہ جنگ چار دن جاری رہی یعنی رمضان المبارک کی 7 ، 8 ، 9 اور 10 تاریخ کو جنگ ہوتی رہی اور بالآخر 10 رمضان المبارک بزورجمعرات اللہ تعالیٰ کی نصرت اور داہر کے ظلم سے تنگ آئے مقامی سندھی عوام کی تائید سے محمد بن قاسم کو وہ عظیم فتح حاصل ہوئی جسے سندھ کی تاریخ میں یوم باب الاسلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
(فتح نامہ سندھ المعروف چچ نامہ شائع کردہ سندھی ادبی بورڈ 1963ء، اردو ترجمہ اختر رضوی ، زیرِ نگرانی پروفیسر ڈاکٹرنبی بخش خان بلوچ۔۔ صدر شعبہ تعلیم۔ سندھ یونی ورسٹی۔ حیدرآباد)
اس مہم میں محمد بن قاسم نے دیبل، نیرون کوٹ، سیوستان، سیسم، راوڑ، برہمن آباد، ارور، باتیہ (جو موجودہ بہاولپور کے قرب و جوار میں تھا)، اور ملتان کو فتح کیا اور قنوج کی تسخیر کا ارادہ کررہا تھا کہ اسے واپس بلالیا گیا۔ محمد بن قاسم ؒ کے جانے کے بعد فتوحات کا سلسلہ رک گیا، مگر عرب سندھ اورملتان پر 200 سال سے زیادہ عرصہ تک (یعنی 10ویں صدی عیسوی یا چوتھی صدی ہجری تک) حکمراں رہے، چوتھی صدی ہجری تک مسلمان خلیفہ ہی والیان سندھ کا تقرر کرتے- اس دور میں سندھ میں عربوں کی دو ریاستیں قائم ہوئیں، ایک ملتان اور دوسری منصورہ کہلاتی تھی۔
(تاریخ پاک وہند ص: 35)
محمد بن قاسم کے سندھ آمد کے اسباب:
سندھ پر تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھنے والی قاضی اسماعیل کی کتاب فتح نامہ سندھ المعروف چچ نامہ میں، جسے سندھی زبان کے ترجمان ادارے سندھی ادبی بورڈ نے شائع کیا ہے، قاضی صاحب محمد بن قاسم کے سندھ پر حملہ کی وجوہات بیان کر تے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”سراندیپ کے حاکم نے جزیرہ یاقوت سے حجاج بن یوسف کے لیے کچھ قیمتی تحائف روانہ کیے جس قافلے میں کچھ مسلمان مرد اور عورتیں بھی بیت االلہ کی زیارت اور تخت گاہ کو دیکھنے کے شوق میں کشتیوں پر سوار ہوئے؛ یہ قافلہ قازرون کے علاقے میں پہنچا تو مخالف ہوائیں کشتیوں کو دیبل کے کناروں کی طرف لے آئیں۔ جہاں نکامرہ کے ٹولے نے ان آٹھ جہازوں پر دھاوا بول دیا، املاک کو لوٹا اور مسلمان عورتوں کو گرفتار کرلیا۔
اہلِ سراندیپ نے انہیں بہت سمجھایا کہ یہ تحائف بادشاہ کے لیے جا رہے ہیں لہٰذا آپ یہ مال فوراً واپس کردیں، لیکن انہوں نے انکار کردیا اور فاخرانہ انداز میں کہا کہ آج اگر کوئی تمہارا دادرس ہے تو اسے پکارو، ان مغویوں میں سے ایک آدمی فرار ہو کر حجاج کے پاس پہنچا، اور حجاج کو کہا کہ مسلمان عورتیں راجا داہر کے پاس قید ہیں، جو تجھے مدد کے لیے پکار رہی ہیں، جس پر حجاج نے لبیک کہا۔
انہی دنوں مسلمان اندلس، اسپین اور ترکستان کے محاذ علی الترتیب موسیٰ بن نصیر اور قتیبہ بن مسلم کی قیادت میں کھول چکے تھے اور ایک تیسرا بڑا محاذ کھولنے کی گنجائش نہیں تھی اسی لیے حجاج نے اتمامِ حجت اور صورتِ حال کو پر اَمن ماحول میں نپٹانے کے لیے سندھ کے حکمران راجہ داہر کو ایک مکتوب لکھ کر قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ جس پر راجہ داہر نے جواب دیا کہ”عورتوں اور بچوں کو قید کرنا اور مال و اسباب کو لوٹنا بحری قزاقوں کا فعل ہے جو میرے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ لہٰذا میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا“۔
(چچ نامہ صفحہ121-131)
اگر حجاج بن یوسف اور ان کے کمانڈر مال و اسباب چاہتے تھے تو یہ سفارتی خط ارسال نہ کرتے، بلکہ براہ راست حملہ آور ہوتے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کو لوٹنے والے قذاق، راجہ داہر کے ہی لوگ تھے، لوٹا گیا مال و دولت اور عورتیں بعد میں راجہ دہر ہی کے کمانڈروں سے برآمد ہوئیں۔ راجہ دہر کے اس جواب کے بعد جو خط محمد بن قاسم نے لکھا، اس کا متن بھی چچ نامہ کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں، جس سے سارا معاملہ نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کیا اسباب تھے جنہوں نے محمد بن قاسم کو حملے پر مجبور کیا۔ اس خط سے بھی یہ واضح ہو جاتاہے کہ حملے کی وجہ صرف مظلوموں کی داد رسی تھی نہ کہ املاک کا حصول یا توسیع پسندی۔ بقول علامہ ڈاکٹر محمد اقبال
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی
اس مکتوب میں تحریر ہے ”ہمیں لشکر کشی کا معاملہ اس لیے پیش آیا کہ تم لوگوں نے سراندیپ سے آئے ہوئے مال و اسباب کو لوٹا اور مسلمان عورتوں کو قید کیا۔ جب تم لوگوں نے ایسی معیوب چیزوں کو جائز سمجھا، تب مجھے دارالخلافہ سے تم پر چڑھائی کا حکم دیا گیا۔ میں االلہ تبارک و تعالیٰ کی مدد سے تجھے مغلوب کر کے رسوا کروں گا اور تیرا سر عراق کی طرف روانہ کروں گا یا خود جام شہادت نوش کروں گا۔ میں نے یہ جہاد اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان ’جاہد الکفار وا لمنافقین‘ کے تحت اپنے اوپر واجب سمجھ کر قبول کیا ہے“۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بیشتر تاریخی روایات میں آتا ہے کہ محمد بن قاسم سندھ پر جنوب کی طرف سمندر اور مغرب میں مکران کے راستے حملہ آور ہوا، روایات میں درج ہے کہ محمد بن قاسم نے موجودہ ٹھٹہ کے قریب راجہ داہر کے بحری قزاقوں کی پناہ گاہ دیبل کا محاصرہ کیا تو اس کی فوجوں کی کم از کم تعداد تین ہزار اور زیادہ سے زیادہ چھ ہزار تھی۔ مگر چند ماہ بعد ہی جب محمد بن قاسم کی فوجوں نے راجہ داہر کی راج دھانی اور مضبوط گڑھ فوجی قلعے ’راوڑ‘ کا محاصرہ کیا تو ان کی تعداد مبینہ طور پر ساٹھ ہزار سے متجاوز تھی۔ دوران جنگ اتنی قلیل مدت میں اس قدر کثیر تعداد میں فوجوں کا مجتمع کرلینا حیران کن ہے۔ روایات کے مطابق محمد بن قاسم اس مہم کے دوران جن علاقوں کو آزاد کرواتا، داہر کے ظلم و جبر کی چکی میں پسے وہاں کے مقامی باشندے محمد بن قاسم کے حسن سلوک اور فراخ دلی سے متاثر ہو کر ظالم، جابر اور غاصب راجہ داہر کو اس کے حتمی انجام تک پہنچانے کے لئے محمد بن قاسم کی ساتھ شامل ہوجاتے۔ یوں دیبل سے ’راوڑ‘ پہنچتے پہنچتے یہ قلیل فوج ایک بہت بڑے لشکر میں تبدیل ہوچکی تھی۔
داہر کو مظلوم اور ابن قاسم کو غاصب قرار دینے والوں کے لئے اس بڑی دلیل کیا ہوگی، کہ ایک مفتوح قوم اتنی کثیر تعداد میں اپنے ہی راجہ کے خلاف بیرونی حملہ آور کی پشت پر آجائے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سندھی عوام چچ اور اس کے بیٹے داہر کو سندھ کا جائز حکمران نہیں بلکہ غاصب تصور کرتے تھے۔ اور جب محمد بن قاسم نے اس ظالم، جابر، لٹیرے کو للکارا تو سندھی عوام کو محمد بن قاسم کی صورت میں اپنا نجات دہندہ نظر آیا۔ اور ہزاروں کی تعداد میں سندھی، محمد بن قاسم کی فوج میں شامل ہو گئے، تاکہ داہر کے ظالمانہ راج کا خاتمہ ہوسکے۔ اور ایسا ہی ہوا۔
محمد بن قاسم اور اہل سندھ کے ساتھ سلوک:
محمد بن قاسم کی فوج اور انتظامی کامیابی پاک و ہند کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ محمد بن قاسم خداداد صلاحیتوں سے مالا مال ایک جری جرنیل، ایک قابل منتظم ، ایک دور اندیش سیاستدان، اور ایک عادل حکمران تھا- اس نے فتح کے بعد سندھ کے موجودہ نظام کو خراب نہیں کیا۔ اس نے اندرونی معاملات کا انتظام یہاں کے مقامی باشندوں ہی کے سپرد کیا۔برہمنوں کو ملکی انتظامات و انصرام میں دخل دے کر مذہبی رواداری کا خوش گوار ماحول پیدا کیا۔ مال گزاری کے وصول کرنے کا حق بھی انہی کے ذمہ رہنے دیا۔ اس رعایت سے وہ لوگ نہ صرف خوش تھے، بلکہ جگہ جگہ پہنچ کر محمد بن قاسم کے اس عفو و درگز اور حسن سلوک کا تذکرہ اور پرچار کرتے، جس سے اور لوگ بھی اطاعت گزاری پرآمادہ ہوئے۔ یہ مراعات یافتہ برہمن جہاں پہنچتے اپنے ہم مذہب اور ہم قوم لوگوں کو یہ کہہ کر اطاعت گزاری کا درس دیتے کہ "ہماری سلطنت تباہ ہوگئی اور فوجی طاقت جاتی رہی، اب ہم میں مقابلہ کی تاب نہیں ہے۔ یقینا ہم گھر سے نکال دیئے جاتے اور تمام جائدادوں سے محروم ہوتے، فقط حاکم قوم کی مروت اور عدل وانصاف سے ہم اس وقت بھی معزز عہدوں پرفائز ہیں اور ہر چیز ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ یا تو ہم لوگ اہل وعیال کو لے کر ہند ہجرت کرجائیں، ایسی صورت میں ہم لوگ بالکل مفلس ہوجائیں گے، کیوں کہ تمام جائدادیں اسی جگہ چھوڑنی پڑیں گی اور یا پھر مطیع رہ کر جزیہ ادا کریں اور آرام و عزت سے زندگی بسر کریں"۔
محمد بن قاسم نے برہمنوں کو مندروں میں پوجا پاٹ کرنے اور چڑھاوے چڑھانے کی فراخ دلی سے جو اجازت دی اس کی تفصیل چچ نامہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں سید طفیل احمد منگلوری لکھتے ہیں کہ محمد بن قاسم کے برہمنوں اور مندروں کے ساتھ برتاؤ کی نسبت اس زمانہ کے ہندو مورخین نے بھی تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کے مندر وغیرہ نہیں توڑے۔ زمانہ قدیم میں یہ خیال عام تھا کہ کسی بھی قوم کے دیوتا زمانہ جنگ اپنی قوم کو مدد دیتے ہیں، اس لئے جب بھی کوئی قوم فتح یاب ہوتی، تو وہ مفتوح قوم کی عبادت گاہیں تباہ کردیتی، اور مفتوح قوم کے لوگ فاتح قوم کا مذہب اختیار کرلیتے۔ راجہ داہر کے مارے جانے پر جب سندھ کے لوگ بڑی تعداد میں مسلمان ہونے لگے تو محمد بن قاسم نے اعلان کروایا کہ "جو شخص چاہے اسلام قبول کرے اور جو چاہے اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے، ہماری طرف سے کوئی تعرض نہ ہوگا"۔
برہمن آباد فتح ہونے پر مندروں کے پجاری محمد بن قاسم کے سامنے حاضر ہوئے اور کہا کہ لوگوں نے مسلمان سپاہیوں کے ڈر سے بتوں کی پوجا کے لیے مندروں میں آنا کم کردیا ہے، جس سے ہماری آمدنی میں فرق آگیا ہے۔ مندروں کی مرمت بھی نہیں ہوتی، تم انہیں درست کرادو، اور ہندوؤں کوقائل کرو کہ وہ مندروں میں آکر پوجا پاٹ کریں۔ یہ سن کرمحمد بن قاسم نے خلیفہ سے بذریعہ خط استفسار کیا اور جواب آنے پر اعلان کیا کہ اپنے مندروں میں آزادانہ پوجا پاٹ کریں، سرکاری مال گزاری میں سے تین روپیہ فی صد برہمنوں کے لیے خزانے میں جمع کیا جائے، اس رقم کو برہمن جس وقت چاہیں اپنے مندروں کی مرمت اور ضروری سامان کے لیے خزانہ سے حاصل کر سکتے ہیں۔ پھر سب سے بڑے پنڈت کو رانا کا خطاب دے کر اس کو مذہبی امور کا مہتمم مقرر کردیا۔ محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے بعد یہاں کی غیر مسلم رعایا کو وہی حیثیت دی جو صحابہ کرام نے اہل فارس کو دی تھی، ان کے مندروں کی حیثیت ایران کے آتش کدوں کی طرح رکھی گئی، جس طرح صحابہ کرام نے فتح ایران کے بعد آتش کدے مسمار نہیں کئے، اسی طرح سندھ میں مندر بھی محفوظ رہے ۔
(ہندوستان کے سلاطین، علماءاور مشائخ کے تعلقات پر ایک نظر، از سید صلاح الدین عبدالرحمٰن۔ ص 43)
محمد بن قاسم نے ہندوستان میں مسلمان حکومت کی بنیادیں استوار کیں، مسلمانوں کی بستیاں اور مساجد تعمیر کیں۔ عوم کو پہلی بار ان کے حقوق سے آشنا کیا۔ ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کا محافظ بنا۔ یہی وجہ ہے کہ سندھی عوام محمد بن قاسم کو اپنا نجات دہندہ تصور کرتے تھے، اور بڑی تعداد میں سندھی مسلمان ہوئے۔ محمد بن قاسم نے عمر کے جس حصے میں سندھ کی فتح کا یہ عظیم کارنامہ انجام دیا وہ کھیل کود کی عمر سمجھی جاتی ہے۔ تاریخ عالم اتنی کمسنی میں اتنے کامیاب جرنیل، اتنے قابل منتظم اوراتنے عادل حکمران کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ محمد بن قاسم کے بعد سندھ میں اس کا کوئی ہم پلہ حکمران مامور نہ کیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ مسلمانوں کی پیش قدمی رک گئی۔تاہم محمد بن قاسم کی فتح سندھ اور عراق روانگی کے بعد دو سو سال سے زائد عرصہ تک بنو امیہ اور بنو عباس کے جو نامزد کردہ افراد سندھ کے گورنر مقرر ہوتے رہے، انہوں نے سندھ کے ساتھ تعلقات کو علمی و تہذیبی بنیادوں پراستوار کیا، اور سندھ کا عرب سے علمی و تہذیبی رشتہ منقطع نہیں ہونے دیا۔ سندھی رسم الخط، اجرک اور ٹوپی اسی علمی اور تہذیبی تعلق کا نشان امتیاز ہیں۔ محمد بن قاسم کی فتحِ سندھ سے سندھ میں مذہبی رواداری، معاشی خوشحالی، امن و امان اور سیاسی استحکام کے ایک طویل دور کا آغاز ہوا۔ ابن قاسم نے سندھ میں توحید کی جو شمع روشن کی، آنے والے ادوار میں اسی سے روشنی لے کر صوفیائے کرام اور مبلغینِ عظام نے اسلام کی اشاعت اور ترویج سلسلہ جاری رکھا۔ حق تو یہ ہے کہ حجاج بن یوسف کا یہ بھتیجا اور داماد سندھ سے کچھ لوٹ کر اپنے وطن نہیں لے گیا بلکہ یہاں کے لوگوں کو بہت کچھ دے کر گیا۔
”محمد بن قاسم جب سندھ سے رخصت ہونے لگے ،تو سارے سندھ میں ان کے جانے پر اظہار افسوس کیا گیا۔ ان کی وفات پر شہر کیرج کے ہندوؤں اور بدھوں نے اپنے شہر میں ان کا ایک مجسمہ بناکر اپنی عقیدت کا اظہار کیا“۔
(تاریخ سندھ ، اعجاز الحق قدوسی، صفحہ 226 )
محمد بن قاسم کی یہی وہ بے مثال رواداری ہے، جس نے ابن قاسم کو سندھیوں کی نظر میں ایک نجات دہندہ اور محبوب حکمران بنا دیا تھا، جس کی آواز پر ہزاروں جان دینے کو تیار رہتے تھے۔ جب انہیں قید کرکے واسط کی جیل میں بھیجا جارہا تھا، توسندھ کے لوگوں نے غم میں آنسو بہائے اور جب ان کا انتقال ہوگیا تو یادگار کے طور پر ان کا مجسمہ بنایا۔ اس حسن سلوک اور رواداری سے سندھی ہندو اور مسلمانوں میں قریبی تعلقات قائم ہوئے۔
(آئینہ حقیقت۱/۱۰۱ بحوالہ اسلام امن وآشتی کا علمبردار ص:۷۳) ( تاریخ سندھ – اعجاز الحق قدوسی صفحہ۔ 228-229])
سندھ میں اشاعت اسلام میں صوفیاءکا کردار:
جب جب سندھ میں اشاعت ِاسلام کا ذکر آتا ہے تو سیکولر طبقہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسلام عرب فاتحین و حکمرانوں کی وجہ سے نہیں بلکہ صوفیاءکرام کے سلسلوں کی بدولت پھیلا ہے، یہ بات تاریخی طور پر غلط ہے، سندھ میں جتنے بھی معروف صوفیائے کرام گزرے ہیں، ان سب کی پیدائش محمد بن قاسم کی آمد سے بہت بعد میں ہوئی۔ محمد بن قاسم کی فتح سندھ سے قریب ترین تاریخ ولادت کراچی کے معروف صوفی بزرگ عبد اللہ شاہ غازی کی ہے، جیسا کہ ابتدائیے میں ذکر کیا گیا، کہ ایک مخصوص مذہبی فرقہ محمد بن قاسم کی سندھ آمد کا مقصد ہی عبداللہ شاہ غازی جیسے صوفیاء اور سادات کا قلع قمع کرنا بتاتا ہے۔ مگر دستیاب تاریخی حوالوں سے ثابت ہے کہ عبداللہ شاہ غازی کی ولادت محمد بن قاسم کی وفات کے بعد ہوئی، محمد بن قاسم نے 712 ءمیں سندھ فتح کیا، جبکہ عبداللہ شاہ غازی 720ء میں پیدا ہوئے، عثمان مروندی المعروف لال شہباز قلندر 1176ءمیں پیدا ہوئے، شاہ عبدالطیف بھٹائی کی تاریخ ولادت 1689ء ہے، تو سچل سرمست کی پیدائش 1739ء میں ہوئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد بن قاسم کی آمد سے پہلے سندھ میں کوئی معروف صوفی سلسلہ نہ تھا نہ سادات کی کوئی قابل ذکر تعداد تھی جن کی سرکوبی مقصود ہوتی۔
دوسری بات یہ کہ صوفیاء کرام بھی تو اسلام کے ہی نمائندے تھے ،جنہوں نے اسلام کے پیغام کو عام کیا، تو پھر یہ سیکولر طبقہ ان کا خیر خواہ اور مدح سرا کیسے ہوگیا؟ اصل میں ایسا کہنے کی ایک ٹھوس وجہ ہے، تاریخ پر نظر ڈالی جائے، تو برصغیر میں اسلام کو مکمل طور پر صوفیاء کا کارنامہ قرار دینے کی بات سب سے پہلے پروفیسر آرنلڈ جیسے یوروپی مستشرق مصنفین نے کی تھی، اسی وجہ سے پروفیسر آرنلڈ کی کتاب ’پریچنگ آف اسلام‘ کو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی، جس میں ہندوستان کے حوالے سے بحث میں اسلام کی اشاعت کا سارا سہرا صوفیائے کرام کے سر ڈال دیا گیا ہے اور کم از کم اس اعتراض سے ہندی مسلمانوں کو نجات ملی جو دوسرے انگریز مورخین نے لگایا تھا کہ اسلام کی اشاعت جبری ہوئی، اور سلاطین وقت نے تلوار کے ذریعہ لوگوں کواسلام قبول کرنے پرمجبور کیاتھا۔
ایک طرف الزام و اتہام کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلا تو دوسری طرف ایسا کہنے والوں ہی کے طبقے کا ایک مصنف اپنی کتاب کے ذریعے یہ ثابت کر رہا ہے کہ اسلام تو دراصل صوفیاءکرام نے پھیلایا۔ پروفیسرآرنلڈ کی کتاب کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کتاب کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ مسلمانوں پر لگے الزام کا رد کیا جائے، اس کتاب سے کہیں یہ تاثر نہیں ملتا کہ آرنلڈ نے اسلام تلوار کے ذریعے پھیلنے کی بات کرنے والے انگریز مورخیں کی پھیلائی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی ہو، انکی تحریر پر تنقید کی ہو یا ان کی عصبیت کا پردہ فاش کیا ہو۔تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ آرنلڈ نے یہ کتاب لکھ کر اپنے ہی لوگوں کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈے کی تردید کیوں کی؟
اس کا جواب جاننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کتاب کی زمانہ تصنیف پر بھی نظر رکھی جائے۔ یہ وہ دور تھا جب انگریزوں نے ہندوستان میں مسلمانوں سے اقتدار چھینا تھا، اور نوآبادیاتی انگریزی راج کو مسلمانوں کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا تھا، اس مزاحمت کا زور توڑنے کے لئے، جنگی، معاشی اور سیاسی محاذوں کے ساتھ ساتھ فکری محاذ پر بھی مسلمانوں کو ان کے مذہب، ثقافت اور تاریخی ورثہ سے متنفر کرنے کی منظم شعوری کوششیں کی جا رہی تھیں، ایک طرف مسلمانوں کو لسانی اور قومی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں، تو دوسری طرف انہیں نت نئے فرقوں میں تقسیم کیا جارہا تھا، یہی وہ دور ہے جس میں دیو بندی اور بریلوی کی تفریق سامنے آئی، اور اسی دور میں قادیانی فتنے نے جنم لیا، جس نے مسلمانوں کو ترکِ جہاد کی تعلیم دی۔ اس پس منظر کو سامنے رکھیں تو پروفیسر آرنلڈ کی کتاب کا محرک بھی سمجھ میں آنے لگتا ہے۔
چنانچہ اس کتاب کی تصنیف کے مقاصد کا پول کھولتے ہوئے عہد حاضر کے ایک مبصر نے لکھا کہ ”یہ بات بعید از قیاس ہے کہ اسلام کے مخالفین اسلام کے کسی ایک پہلو کی بغیر کسی خاص سبب وکالت کرنے لگیں۔اصولی طور پر یہ ممکن نہیں کہ اصل کا مخالف فرع کی حمایت کا بیڑا اٹھالے، اس کے لیے کسی خاص وجہ اور سبب کی موجودگی ضروری ہے۔ ظاہر ہے مقصد اسلام سے ہمدردی ہرگز نہیں، بلکہ پیش نظر انہی مقاصد کا حصول تھا، جن کے لیے اول الذکر ذریعہ (یعنی تلوار کے ذریعے اسلام کی اشاعت کا الزام) استعمال کیا گیا تھا۔ راستہ یکسر مختلف تھا، مگر نتائج وہی حاصل کرنے تھے۔ مقاصد کے گھناؤنے پن کو البتہ بڑی چابک دستی سے ہمدردی کی دبیز تہوں کے نیچے چھپا دیا گیاتھا۔ مسلمانوں میں تصوف اور صوفیائے کرام کی غیر معمولی مقبولیت کے سہارے ان کی سوچ کے دھارے کو غیر محسوس طور پرایک نیا رخ دینے کے لئے نہایت شاطرانہ چال چلی گئی تھی“۔
اس کاوش کے ذریعے ایک طرف مسلمان فاتحین کو بدنام کرنے اور ان کی محنت رائیگاؓں کرنے کی کوشش کی گئی، تو دوسری طرف مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ اسلام تو تلوار اٹھائے بغیر بھی پھیل سکتا ہے، جس طرح ان صوفیاء نے سارے ہندوستان کو مسلمان کردیا، اس لیے محمد بن قاسم وغیرہ کی طرح کے کسی جہادی کام میں اپنے آپ کو کھپانا کارِ عبث ہے۔اسی ذہن سازی کے سلسلے میں اگلا کام دیگر انگریز مورخین نے کیا، ایم۔اے۔ٹائیٹس نے مسلمان بادشاہوں باالخصوص محمد بن قاسم اور اورنگ زیب عالمگیر سے متعلق سخت بہتان تراشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ محمد بن قاسم نے سندھ میں مندروں کے انہدام اور لوگوں کو جبری مسلمان بنانے کا جو منصوبہ شروع کیاتھا، وہ عہد ِعالم گیری تک جاری رہا۔ حالانکہ یہ بیان تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ اسی طرح ’لارڈ ایلن برو‘ نے محاربہ کابل کے بعد 1824ء میں سلطان محمود غزنوی کے مقبرے سے صندل کے کواڑ نکلوا کر غزنی سے آگرہ تک اس کا جلوس اس اعلان کے ساتھ نکالا کہ سلطان یہ کواڑ سومنات سے لے گیا تھا۔ بعد میں یہ حقیقت بھی ظاہر ہو گئی کہ یہ بات سرا سر غلط تھی اور ان کواڑوں کا سومنات سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ یہ مسلمانوں ہی کے بنائے ہوئے تھے۔
( جیمس فرگوسن،اسلامی فن تعمیر ہندوستان میں،مطبوعہ جامعہ عثمانیہ،حیدر آباد دکن،1932ئ)
خلاصہ یہ کہ یہ کہنا بالکل غلط ،تاریخی شواہد کے منافی اور ایک سازش ہے کہ برصغیر باالخصوص سندھ میں اسلام کی اشاعت میں محض تلوار یا صرف صوفیاء کاحصہ ہے۔ برصغیر میں اسلام کی اشاعت کی اس کامیابی کے پیچھے کئی عوامل کار فرما تھے جیسے کہ:
۱۔ مساوات اور انسان دوستی کا اسلامی پیغام جو ذات پات کے مارے سندھی اور ہندی عوام میں بے حد مقبول ہوا۔
۲۔عرب تاجروں کی دیانت اور تبلیغی کاوشیں۔
۳۔ فتوحات کے بعد مسلمان فاتحین کا مقامی رعایا سے روادارانہ اور منصفانہ سلوک۔
۴۔ مسلمان حکومتوں میں مجموعی امن و امان اور تمام اقوام اور مذاہب کے لوگوں کی جان و مال کا بلا تفریق تحفظ۔
۵۔ صوفیاءکرام کی جدوجہد۔
۶۔ علماء کی تدریسی، تربیتی اور تحریری خدمات
ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے انداز اور اپنے پنے دائرہ کار میں اسلام کی ترویج اور اشاعت میں کردار اداکیا۔ فاتحین نے فتح کے بعد مقامی باشندوں کے ساتھ رواداری اور حسن سلوک سے ان کے دل جیتے، اور مسلمان مبلغین اور صوفیاء کو ان کے درمیان رہنے کا موقع فراہم کیا، جن کی معاشرت، تہذیب اور عادات و اطوار سے مقامی باشندے متاثر ہوئے اور اس طرح جوق در جوق اسلام قبول کرکے مسلمان معاشرے میں ضم ہوگئے۔ اور یوں اسلام اس خطے کا مقبول مذہب بن گیا، سندھ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں یہ عددی برتری اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے رنگ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی قائم ہیں۔ اگر مسلمان ہندوستان میں سیاسی افق پر کمزور ہوتے، تو بقول ایک ہندو دانشور یہ امکان بھی موجود تھا کہ ہندی ادیان کے گھنے جنگل میں اسلام کی اپنی شخصیت ہی گم ہوجاتی، قطع نظر اس کے مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔
( این۔سی۔مہتا،ہندوستانی تہذیب میں اسلام کا حصہ،ص:۱۰،نظامی پریس ،بدایون،انڈیا،1953ء)
اگر فتوحات نہ ہوتیں تو صوفیائے کرام، جو سلاطین ِ وقت سے الگ تھلگ ہوکر دین کی دعوت عام کر رہے تھے، کیسے اور کیوں کر یہاں محفوظ رہ پاتے، اور کون انہیں ایک غیر مسلم ملک میں قال اللہ وقال الرسول اللہ کی آواز بلند کرنے کی اجازت دیتا، جسے سن کر، دیکھ کر اور ان کے کشف و کرامات سے متاثر ہو کر لوگ بلا روک ٹوک اسلام قبول کرتے رہے۔ صوفیاءکی کاوشوں سے قبول اسلام کرنے والوں کی تعداد کا کوئی حتمی ریکارڈ تو نہیں ملتا، البتہ تاریخ کی کتابیں ایسے واقعات اور تذکروں سے بھری پڑی ہیں، جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان پاک نفوس کی برکت اور ان کی مساعی سے بے شمار لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔
سندھ اور اشاعت اسلام :
سندھ کے مایہ ناز مورخ رحیم داد خان مولائی شیدائی اپنی کتاب جنت السندھ میں رقم طراز ہیں کہ عربی فتوحات کی وجہ سے سندھ باب الاسلام بنا اور یہ مقام ایک معلم کی حیثیت سے سارے ہندوستان کی رہنمائی کرنے لگا
(جنت السندھ۔ صفحہ 201)
آگے چل کر لکھتے ہیں ”محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے بعد بڑے بڑے شہروں مثلاً دیبل، نیرون کوٹ، سیوستان، بر ہمن آباد، الور، ملتان، دیپالپور اور قنوچ میں جامع مساجد تعمیر کرائیں، جن میں آئمہ اور خطباء مقرر کیے، اور مسلمانوں کے حسن خلق کو دیکھ کر لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ عرب حکمرانوں نے سندھ میں جن نئے شہروں کی بنیاد رکھی، مثلاً منصورہ، محفوظ اور بیضاء وہ اسلامی نشرو اشاعت کے عظیم مرکز بن گئے۔ ٹھٹہ کی علمی حیثیت پورے خطے میں مسلمہ تھی۔ دیبل اورسندھ کے دیگر شہروں کی درسگاہوں سے کئی سو علماء تیار ہوئے، جن کا تذکرہ علامہ سمعانی نے کیا ہے۔اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کا دور 99 ہجری سے101 ہجری تک تقریباً ڈھائی سال کے قلیل عرصے پر محیط ہے۔ اس قلیل عرصے میں سندھ میں اسلام انتہائی سرعت سے پھیلا۔ عمر بن عبد العزیز نے اسلام کی اشاعت کے لیے سلطنت کے صوبوں کی طرف مبلغین، واعظین اور مفتیان کرام کو روانہ کیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو حدیث، فقہ، حلال حرام وغیرہ سے واقف کریں۔عمر بن عبدالعزیز نے اسلامی دنیا میں رہنے والے سب غیر مسلموں کواسلام اختیار کرنے کے دعوت نامے ارسال کیے۔ اس دور میں اہل سندھ اور ہند کے نام بھی دعوتی خطوط روانہ کیے گئے، جن میں توحید و رسالت کی دعوت اور بت پرستی و بد اخلاقی سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ کہ بہت سارے ہندو سردار دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے، ان میں سرفہرست ’جے سنگھ بن داہر‘ خود تھا۔
(جنت السندھ۔ صفحہ 301)
رحیم داد خان نے عرب حکمرانوں کی اسلام کے لیے خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ولید بن عبد المالک نے سلطنت کے چاروں طرف قرآن کریم کے حافظ مقرر کیے کہ لوگ قرآن کی تعلیم حاصل کریں اور ان حفاظ کے لیے وظائف جاری کیے۔ نیز قرآن مجید کا سب سے پہلا سندھی ترجمہ بھی اسی عہد میں ہوا“۔ مزید لکھتے ہیں کہ”قرآن مجید کی ترتیب و تدوین تو خلفائے راشدین کے عہد ہی میں ہو چکی تھی، مگر اُس میں اَعراب نہیں تھے، اہلِ عرب تو اسے آسانی سے پڑھ لیتے تھے مگر غیر عرب کو تلاوت میں دشواری پیش آتی۔ حجاج بن یوسف ویسے تو اپنے سخت گیر رویے اور مظالم کے حوالے سے مشہور ہے، مگر قرآن مجید کی اشاعت کے سلسلے میں ان کا یہ نیک عمل یادگار ہے کہ انہوں نے عجم کی سہولت کے لیے قرآن کریم کی آیات پر اَعراب لگوائے۔ اورکئی نسخے لکھوا کر مشرقی صوبوں کے طرف بھیجے، جس سے غیر عرب مسلمانوں کو بھی تلاوت کرنے میں آسانی میسر ہوئی“۔
(جنت السندھ)
سندھ کے ایک اور گراں قدر محقق و مورخ ڈاکٹر میمن عبد المجید سندھی لکھتے ہیں کہ” سندھ نے اس زمانے میں ممتاز علماء پیدا کیے جن میں مختلف علوم مثلاً حدیث، تفسیر، نحو، ادب، فقہ اور شعر و شاعری میں بہت بڑا مقام پیدا کیا ہے“
(بحوالہ ’سندھ سیاحوں کی نظر میں‘ صفحہ 21)
محمد بن قاسم کی پراسرار موت:
ملتان کی فتح کے بعد محمد بن قاسم شمالی ہند کر سر سبز و شاداب علاقے کی جانب متوجہ ہوئے۔ پہلے قنوج کے راجہ کو دعوت اسلام دی، لیکن اس نے قبول نہ کی، تو محمد بن قاسم نے قنوج پر حملے کی تیاری شروع کردی۔ اس دوران 95ھ میں حجاج بن یوسف کا انتقال ہوگیا، جس پر محمد بن قاسم قنوج پر فوج کشی کئے بغیر ادھافر لوٹ آیا۔ حجاج بن یوسف کے انتقال کے کچھ ہی عرصے بعد ولید بن عبدالملک نے مشرقی ممالک کے تمام گورنروں کے نام احکامات جاری کئے کہ وہ تمام فتوحات اور پیشقدمی روک دیں۔ یوں محمد بن قاسم کی شمالی ہند فتح کرنے کی خواہش ادھوری رہ گئی، کچھ ہی ماہ بعد خلیفہ ولید بن عبدالملک کا 96ھ میں انتقال ہوگیا۔ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے انتقال کے ساتھ ہی فاتح سندھ محمد بن قاسم کا زوال شروع ہوگیا ، ولید کے بعد اس کا بھائی سلیمان بن عبدالمالک جانشیں مقرر ہوا ،جو حجاج بن یوسف کا سخت مخالف تھا۔ حجاج کا انتقال چونکہ اس کی خلافت کے آغاز سے قبل ہوگیا تھا، اس لئے اس نے اپنی عداوت کا بدلہ حجاج کے خاندان سے لیا، اور محمد بن قاسم کی تمام خدمات اور کارناموں کو نظر انداز کرتے ہوئے، انہیں حجاج کے خاندان کا فرد ہونے کے جرم میں عہدے سے معزول کرنے کے بعد، گرفتار کرکے شام میں جیل خانہ میں قید کرلیا جہاں 7 ماہ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس طرح اس عظیم سپہ سالار، فاتھ سندھ اور محسن اسلام، محض خلیفہ کی ذاتی عداوت و دشمنی کی بناء پر، اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ محمد بن قاسم نے اپنی خداداد صلاحیتوں، جرات ،حسن اخلاق، عدل، رواداری اور تدبر سے ہندوستان میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے وہ تاریخ میں سنہری حروف سے رقم ہیں۔ اس کی موت سے دنیائے اسلام کو عظیم نقصان پہنچا۔
سیکولر طبقہ کے متعصبین نے محمد بن قاسم کی موت کے حوالے سے بھی ایک نہایت مشکوک اور تضادات سے بھرپور روایت کی بنیاد پر محمد بن قاسم طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا ہے۔ چچ نامہ کی اس روایت کا خلاصہ یہ ہے:
محمد ابن علی عبدالحسن ہمدانی کہتے ہیں کہ جب راجہ داہر قتل ہوگیا تو محمد بن قاسم نے اسکی لڑکیوں کو اپنے محل میں قید کردیا اور پھر اپنے حبشی غلاموں کے ہاتھ انہیں اپنے حاکم سلیمان بن عبدالمالک کو بھجوا دیا۔ جب خلیفہ نے انہیں اپنے حرم میں بلایا تو راجہ داہر کی بیٹیوں نے خلیفہ سے جھوٹ بولا کہ وہ خلیفہ کے لائق نہیں کیوں کہ محمد بن قاسم نے انہیں پہلے ہی استعمال کرلیا تھا۔ اس بات پر وہ بہت ناراض ہوا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو بیل کی کھال میں بند کر کے واپس لایا جائے۔ محمد بن قاسم کو یہ خط ادھافر میں ملا۔ اس حکم پر عمل کیا گیا، بیل کی کھال میں دم گھٹنے سے محمد بن قاسم کی راستے ہی میں موت واقع ہو گئی۔ بعد میں خلیفہ کو داہر کی بیٹیوں کا جھوٹ معلوم ہو گیا جو انھوں نے محمد بن قاسم سے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لئے بولا تھا۔ جس پر انہیں زندہ دیوار میں چنوا دیاگیا۔
اس روایت کی صحت پر کئی سوال اٹھتے ہیں اور اس میں کئی تضادات اور تاریخی اغلاط ہیں۔ چچ نامہ کے مطابق ”محمد ابن علی ابو حسن حمدانی کہتے ہیں کہ جب راجہ داہر مارا گیا، (تو) اسکی دو بیٹیوں کو ان کے محل ہی میں قید کر دیا گیا اور پھر محمد بن قاسم نے انہیں اپنے حبشی غلاموں کی حفاظت میں بغداد بھجوادیا“۔اسی کتاب (چچ نامہ) میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ ”محمد بن قاسم نے ادھافر میں ’ہررائے چندر‘ کے خلاف لشکر کشی کی غرض سے جمع اپنی فوج سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ”آج ہم اس بدبخت کافر کا قلع قمع کرنے آئے ہیں“ اور اس ہی سے کچھ آگے لکھا ہے ”اگلے ہی دن تختِ حکومت سے ایک اونٹ سوار فرمان لیکر آتا ہے“۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ محمد بن قاسم کو خلیفہ کا وہ فرمان جس وقت موصول ہوا ، محمد بن قاسم ملتان کی فتح کے بعد قنوج پر حملہ کرنے پر غور کر رہا تھا۔ چچ نامہ ہی میں لکھا ہے،”ملعون داہر غروبِ آفتاب کے وقت قلع راوڑ میں، 10 رمضان، 712ء بمطابق 93 ہجری ، بروز جمعرات مارا گیا“۔ اور ہم یہ جانتے ہیں کہ محمد بن قاسم کو وہ جان لیوا فرمان ادھافر میں 96 ہجری کو ملا۔
محمد ابن عبد الحسن حمدانی کے اس الزام کے مطابق محمد بن قاسم نے راجا داہر کی موت کے فوری بعد اسکی بیٹیوں کو قید کرکے اور خلیفہ کی خدمت میں روانہ کر دیا تھا، تو وہ زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے عرصہ میں دارالحکومت پہنچ گئی ہوں گی؛ اور پھر یہ کہ ’کچھ ہی دن بعد‘ خلیفہ نے انہیں اپنے بستر پر بلایا، جہاں اسے یہ خبر ملی کہ محمدبن قاسم نے انہیں خلیفہ کے پاس بھیجنے سے پہلے اپنے استعمال میں رکھا تھا، جس پر چراغ پا ہو کر خلیفہ نے محمد بن قاسم کیلئے سزائے موت کا فرمان جاری کیا، تو یہ فرمان بھی زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے اندر ہی محمد بن قاسم کو مل جانا چاہئے تھا، نہ کہ راجہ داہر کی موت اور راوڑ سے اسکی بیٹیوں کے بھیجے جانے کے سالوں بعد۔
چچ نامہ ہی میں لکھا ہے کہ محمد بن قاسم نے برہمن آباد کے لوگوں کی جانب سے مندر تعمیر کروائے جانے کی درخواست حجاج بن یوسف کو بھیجی تھی اور اسکا جواب ’کچھ دن بعد‘ ہی موصول ہوگیا تھا نہ کہ کئی مہینوں یا سالوں بعد۔ اس لئے داہر کی بیٹیوں کے جھوٹ، خلیفہ کے حکم اور محمد بن قاسم کو حکم نامہ موصول کرنے کے درمیان کئی سالوں پر پھیلی تاخیر ناقابل فہم ہے، خاص طور پر اس لئے بھی کہ اس دوران محمد بن قاسم نے متعدد خطوط خلیفہ اور حجاج بن یوسف کی طرف بھیجے اوران کے جوابات بھی موصول ہوئے۔
یہ سب نکات اس من گھڑت کہانی کا پردہ فاش کرنے کیلئے کافی ہیں۔ تاہم کئی اور شواہد ایسے ہیں جو اس من گھڑت کہانی کو یکسر رد کرنے میں معاون ہیں۔ تاریخ سندھ کے مصنف اعجاز الحق قدوسی نے لکھا ہے کہ:
“محمد بن قاسم کو خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے حکم سے کچے چمڑے میں بند کر کے لے جایا جانا من گھڑت قصہ ہے، عرب مورخین نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔
( تاریخ سندھ ۔اعجاز الحق قدوسی صفحہ228-229)
اعجاز الحق قدوسی کی یہ تحقیق اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس من گھڑت کہانی کا عرب مورخین کی کتب میں کوئی تذکرہ نہیں، چنانچہ یہ کہنا باالکل درست ہوگا کہ یہ کہانی ایک جدید اضافہ ہے۔





































