
مجاہد عالم ندوی /پٹنہ انڈیا
مغربی تہذیب نےبہت سےبے ہودہ رسومات وخرافات کو جنم دیااور بد تہذیبی اوربد کرداری کے نئے نئے طریقوں کو ایجاد کیا ،جس کی لپیٹ میں اس وقت
پوری دنیا ہےاور بطورخاص مسلم معاشرہ اس کی فتنہ سامانیوں کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ مختلف عنوانات سے دنوں کو منانے اور اس میں رنگ ریلیاں رچانےکےکلچر کو فروغ دینا شروع کیا اوراس کی آڑ میں بہت سی خرافات روایات اوربد اخلاقی و بےحیائی کو پھیلانے لگے۔ چنانچہ ان ہی میں ایک 14 فروری کی تاریخ ہے جس کو ٫٫ یوم محبت ٬٬ کے نام سے منایا جاتا ہےاور تمام حدوں کو پامال کیا جاتا ہے۔ بے حیائی اور بے شرمی کا مظاہرہ ہوتا ہےاور تہذیب و شرافت کے خلاف کاموں کو انجام دیا جاتا ہےاور ناجائز طور پر اظہار محبت کے لئے اس دن کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔
چند سال قبل یہ لعنت اس درجہ ہمارے معاشرہ میں عام نہیں تھی لیکن اب رفتہ رفتہ نوجوان طبقہ اس کا غیرمعمولی اہتمام کرنے لگا ہے ۔کالجز اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طلباء و طالبات میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے اور گویا کہ یہ دن ان کے لئے دیگر تمام دنوں سے زیادہ اہمیت کا حامل بن گیا۔ کیونکہ اس دن وہ اپنی آرزو کی تکمیل اور اپنے جذبات کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ اور غیر شرعی و غیر اخلاقی طور پرمحبت کا راگ الاپ سکتے ہیں جب کہ شرعی اور اخلاقی نیزمعاشرتی اعتبار سے اس کی بہت ساری خرابیاں اور مفاسد ہیں ،لیکن ان تمام کو بالائے طاق رکھ کر جوش جنوں اور دیوانگی میں اس دن کو منانے کی فکروں میں اضافہ ہی ہوتا جارہاہے ۔
ویلنٹائن ڈے کی حقیقت
جہاں تک ویلنٹائن ڈے کا تعلق ہے ،اس کی مختلف روایات ہیں لیکن سب سے مشہور یہ ہے کہ رومن بادشاہ کلاؤڈیس چاہتا تھا کہ اس کے پاس ایک بڑی فوج ہولیکن زیادہ تر لوگ اپنا گھربار نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ اس لئے بادشاہ نے سپاہیوں کی شادی پر پابندی لگا دی۔ اس فرمان کے باوجود سینٹ ویلنٹائین ، مقامی چرچ کے ایک پادری نےخفیہ طورپرشادی کرائی۔ جب بادشاہ کو ویلنٹائن کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس نے حکم کی خلاف ورزی کی ہے تو اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس کو جیل میں ڈال دیا جائے۔ ایک دن جیل کے محافظ نے اپنی بیٹی سے اس سے اس کی کوٹھری میں ملنے کے لئے کہا۔ چنانچہ سینٹ ویلنٹائن کو جیلر کی لڑکی سے محبت ہوگئی ۔ کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے اسے 14/فروری کو سزائے موت دی گئی ۔ تب ہی سے 14/فروری روم میں ” محبت کرنے والوں کے تہوار “ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔
بعض نے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے حوالہ سے یہ بھی لکھا ہے کہ سینٹ ویلنٹائن ڈے کو آج کل جس طرح عاشقوں کے تہوار کے طور پر منایا جا رہا ہے یا ویلنٹائن کارڈ بھیجنےکی جو نئی روایت چل پڑی ہے۔ ٓاس کا سینٹ سے کوئی تعلق نہیں ہےبلکہ اس کا تعلق یا تو رومیوں کے دیوتا لوپر کالیا کے حوالہ سے پندرہ فروری کو منائےجانے والے تہوار بار آوری یا پرندوں کے ایام اختلاط سے ہے ۔واقعہ بہر حال جو بھی ہو اور جس مقصد کے لئے بھی ہو اس کا آغاز کیا گیا لیکن آج اس رسم بد نے ایک طوفان بے حیائی برپا کر دیا۔عفت و عصمت کی عظمت اور رشتۂ نکاح کے تقدس کو پامال کر دیااور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں آزادی اور بے باکی کو پیدا کیا ۔ معاشرہ کو پراگندہ کرنے اور حیا و اخلاق کی تعلیمات اور جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بر سر عام اظہار محبت کے نت نئے طریقوں کے ذریعہ شرم و حیا ،ادب و شرافت کو ختم کر ڈالا۔ اس کی وجہ سے جو نہایت شرمناک واقعات رونماں ہورہےہیں اورتعلیم گاہوں اورجامعات میں جس قسم کی بے حیائی بڑھتی جا رہی ہے، اس کے لئے بعض قلم کاروں نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں ( اوپرحوالے میں جن کتابوں کے نام ہم نے پیش کئے ہیں اس کا مطالعہ بھی کافی ہے ) تاکہ اس بے ہودگی سے نوجوان نسل کو روکا جا سکے ۔
ویلنٹائن ڈے کی تباہیاں
ویلنٹائن ڈے نے پاکیزہ معاشرہ کو بڑی بےدردی کے ساتھ بدامن اور داغ دار کیا ہے۔ اخلاقی قدروں کو تہس نہس کیا ہے اوررشتوں ، تعلقات ، احترام ، انسانیت تمام چیزوں کو پامال کیا ہے،لال گلاب اور سر خ رنگ اس کی خاص علامت ہے ، پھول کی تقسیم اور اس موقع پر ویلنٹائن کارڈ کا تبادلہ بھی اظہارِ محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بڑی پیمانے پراس کی تجارت ہوتی ہے اور ہوس پرست اس کو منہ بولے دام میں خریدتے ہیں ۔منچلوں کے لئے ایک مستقل تفریح کا سامان بن گیا۔
ویلنٹائن کی جھوٹی محبت کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس کو مختصر جملوں میں بیان کیا کہ :عشق کا بھوت نفرت میں بدل گیا ۔ محبت کی شادی کا درد ناک انجام ، خاوند کے ہاتھوں محبوبہ کا قتل ،عشق کی خاطر بہن نے بھائی کا قتل کر دیا ، محبوبہ محبوب سمیت حوالات میں بند ، محبت کی ناکامی پر دو بھائیوں نے خود کشی کر لی ، محبت کی ناکامی میں نوجوان ٹرین کے آگے گود گیا ، جسم کے دو ٹکڑے ، ناکام عاشق نے لڑکی کو والدین چچا اور ایک بچی سمیت قتل کر ڈالا ۔ یہ وہ اخباری سرخیاں ہیں جو نام نہاد محبت کی بنا پر معاشرتی المیہ بنی ۔ آئے روز اخبارات کی زینت بنتی جا رہی ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر
سب سے پہلے آپ یہ سمجھ لیں کہ یہ تہوار ایک خالص عیسائی تہوارہے جس میں بے حیائی اور فحاشی کی ہرحد پارکر دی جاتی ہے ، جبکہ اسلام ایک پاکیزہ اور حیا کو فروغ دینے والامذہب ہے ،جس کی فطرت میں حیا و پاکدامنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے وہ ہرگز اس کی اجازت نہیں دے سکتا ، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا : بے شک ہر دین کی کوئی خاص خصلت ہوتی ہے اور اسلام کی وہ خاص خصلت حیا ہے" تو ایسا مذہب بے حیائی کو کیسے فروغ دے سکتا ہے ۔
اسلامی تہذیب و تمدن وثقافت میں خوشیاں منانا بھی عبادت کا اولین حصہ رہا ہے۔خوشیوں کا اہتمام کرنا ،خود خوش رہنا دوسروں کوخوش رکھنا۔ ایک دوسرے سے ہم دردی و محبت و عقیدت رکھنا یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات رہی ہیں ،جس سے کسی باشعور و باغیرت انسان کو انکار نہیں ہےلیکن اس کے برعکس اس محبت و عقیدت کو پروان چڑھانے کے لئے ایک دن مقرر کر لینا یہ گمراہی ہے اور ہرگمراہی بدعت ہے اور ہر بدعت جہنم کی طرف لے جانے والی ہے۔اور یہ بدعات و خرافات کی شکلیں ہیں جس کی ممانعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے 1400سال پہلے کر دی تھی ، حدیث میں آپ نے بتایا کہ جو دین کے اندر نئی نئی ایجادات کرے وہ ہم سے نہیں ہے ۔ یعنی وہ ہمارے طریق پر چلنے والا نہیں ہے۔
اسلامی معاشرے کی روایات یہ ہیں کہ رب کی غیرت کو یہ بھی گوارہ نہیں کہ راہ چلتی عورت کے قدموں کی آہٹ بھی کسی غیر محرم کے کانوں تک جائے ۔ ہم اس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں کہ جس کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میرا جنازہ رات کی تاریکی میں اٹھایا جائے تاکہ میرے کپڑائے کفن پہ بھی کسی غیرمحرم کی نظر نہ پڑے ۔ خدا کے لیے اپنی نسل نوکو بےحیائی کے اس طوفان سے بچائیں اور اس دن کو یوم حیاء کے طور پرمنائیں ۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں ان ناسور یوم محبت سے بچائےاور دینی حمیت و محبت کی ترویج و اشاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔





































