
مجاہد عالم ندوی/ بہارانڈیا
اللّٰہ تعالٰی نے جس طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور پھر رمضان المبارک کے تین عشروں میں سے آخری عشرہ کو جو
فضیلت بخشی ہے ، اسی طرح ماہ ذی الحجہ کےتین عشروں میں سے پہلےعشرہ کو بھی خاص فضیلت سے نوازا گیا ہے اور اس عشرہ میں اعمال پر خاص اجر و ثواب رکھا گیا ہے۔
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہےکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ :
” اللّٰہ تعالٰی کی بارگاہ میں دوسرے ایام کا کوئی عمل عشرہ ذی الحجہ ( یکم ذوالحجہ سے دس ذوالحجہ تک) کے دوران نیک عمل سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں ، صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین نے عرض کیا
یا رسول اللّٰہ! کیا یہ جہاد فی سبیل اللّٰہ سے بھی بڑھ کر ہے ؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاد فی سبیل اللّٰہ سے بھی بڑھ کر ہے، ہاں! جو شخص جان اور مال لے کر اللّٰہ کی راہ میں نکلا ، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آیا، سب کچھ اللّٰہ کے راستے میں قربان کر دیا، بے شک یہ سب سے بڑھ کر ہے۔“
( سنن أبی داؤد )
عشرہ ذی الحجہ سال کے بارہ مہینوں میں بڑی ممتاز حیثیت رکھتا ہے، پارہ تیس میں سورۂ فجرکی آیات "والفجر ولیال عشر" میں اللّٰہ تعالٰی نے دس راتوں کی قسم کھائی اور کسی چیز پر اللّٰہ تعالٰی کا قسم کھانا اس چیز کی عزت اور حرمت پر دلالت کرتا ہے تو اللّٰہ تعالٰی نے سورہ فجر میں جن دس راتوں کی قسم کھائی ہے اس بارے میں مفسرین کی ایک بڑی جماعت کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد ماہ ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں، لہٰذا اس سے ان دس راتوں کی عزت، عظمت اور حرمت کی نشان دہی ہوتی ہے۔
ایک روایت میں ان دس ایام کی فضیلت و اہمیت بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” ان دنوں میں سے کسی دن میں بھی بندے کا عبادت کرنا اللّٰہ کو اتنا محبوب نہیں جتنا عشرۂ ذی الحجہ میں محبوب ہے ، اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزں کے برابر ہے اور اس کی ہر رات کے نوافل شب قدر کے نوافل کے برابر ہیں۔“
(سنن الترمذی )
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک روزہ کا ثواب بڑھا کر ایک سال کے روزوں کے ثواب کے برابر کردیا اور ان راتوں میں سےایک رات میں بھی اگر عبادت کی توفیق ہوگئی تو وہ اس طرح ہے جیسے لیلۃالقدر میں عبادت کر لی ہو۔
ایک اور روایت میں ان دس ایام کی فضیلت واہمیت بیان فرماتے ہوئے آپ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نےارشاد فرمایا کہ ” دنوں میں سے کسی دن میں بھی بندے کا عبادت کرنا اللّٰہ کو اتنا محبوب نہیں جتنا عشرۂ ذی الحجہ میں محبوب ہے۔
لہٰذا اس میں تہلیل ، تکبیر اور اللّٰہ کا ذکر کثرت سے کریں، اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھرکے روزں کے برابر ہے اوراس کی ہر رات کے نوافل شب قدر کے نوافل کے برابر ہیں اور اعمال ان دنوں میں سات سو گنا تک بڑھا دیاجاتا ہے۔“
عشرہ ذی الحجہ کا ایک دن فضیلت میں دس ہزار دنوں کے برابر ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین عشرۂ ذی الحجہ کے متعلق یہ فرماتے تھے کہ : ایک دن ہزار دن کے برابر ہے اور عرفہ کا دن دس ہزار دنوں کے برابر ہے ( یعنی فضیلت میں )
عشرہ ذی الحجہ کے مخصوص اعمال :
عشرہ ذی الحجہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنا ،عشرہ ذوالحجہ کا خاص الخاص عمل حج ہےٓاور یہ اہل استطاعت مسلمان پر زندگی میں صرف ایک ہی دفعہ فرض کیا گیا ہے، لہٰذا اس کی خاص برکات صرف وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو بیت اللّٰہ میں حاضر ہو کر حج کریں، لیکن اللّٰہ نے اپنے فضل و کرم اور بے پایہ رحمت سے تمام اہل ایمان کو اس بات کا موقع عنایت فرما دیا کہ وہ اپنے مقام پر رہ کر بھی حجاج کرام سے ایک طرح کی نسبت پیدا کر لیں اور ان کے کچھ اعمال میں شریک ہو جائیں، لہٰذا ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی جو حکم مسلمانوں کو سب سے پہلے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ام المؤمنین حضرت سلمہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :” جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک کہ قربانی نہ کرے) یہاں تک کہ اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے" ۔
حضرت عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” مجھے حکم دیا گیا ہے ، قربانی کے روز عید منانے کا، جو اللّٰہ تعالٰی نے اس امت کے لیے مقرر فرمائی ہے۔ ایک شخص عرض گزار ہوا کہ اگر مجھے کچھ میسر نہ آئے سوائے اس اونٹی یا بکری وغیرہ کے، جو دودھ دوہنے کے لیے عاریتاً یا کرائے پر ملی ہو تو کیا اس کی قربانی پیش کر دوں؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں! بلکہ تم اپنے بال کتراؤ، ناخن کاٹو، مونچھیں پست کرو اور موئے زیر ناف صاف کرو، اللّٰہ تعالٰی کے نزدیک بس یہی تمہاری قربانی ہے۔“
اللّٰہ تعالٰی تمام اہل اسلام کی قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے ۔
آمین یا رب العالمین





































