
نزہت ریاض
سونی جلدی کردیرکر کےگئے تو باجی ناراض ہوگی ۔آجاجلدی سلمیٰ بیٹی کوآوازلگارہی تھی۔۔۔ آرہی ہوں اماں۔۔۔۔ سونی دوپٹہ سرپر
لپیٹتی ہوئی آگئی۔اور دونوں گھرسے نکل گئیں ۔اماں ذرا سی دیرہونے پربیگم صاحبہ ہمیں کتنی باتیں سناتی ہیں نہ حالانکہ ہم کتنی جان لگا کران کے گھر کے کام کرتے ہیں ۔
بس بھئی کیا کریں ہماری قسمت میں ان بڑے لوگوں کی باتیں سننا ہی ہیں ۔دونوں باتیں کرتے کرتے بنگلے والوں کے ہاں پہنچ گئیں۔ آج تم پھر اتنی دیرسے آئی ہو۔۔۔۔ سلمیٰ کی شکل دیکھتےہی باجی نے اسے جھاڑا باجی گھر والوں کا روزہ ہوتا ہے اس لیےتھوڑا وقت ان کو بھی دینا پڑتا ہے ۔
اچھا چلو جلدی کام سمیٹو پھر مجھے سحری کےلیےسالن بھی بنانا ہے۔جی باجی سلمیٰ نےجلدی جلدی برتن سمیٹنے شروع کیے۔سونی نے جھاڑو لگانا شروع کر دی ۔
ڈرانگ روم میں بیگم صاحبہ کی شادی شدہ بیٹی اورداماد آئے بیٹھے تھے۔ بیٹی اپنی ماں کواپنی شاپنگ دکھارہی تھی۔امی یہ میں اپنی ماسی کے لیے لائی ہوں ایک سستا سا سوٹ دکھاتے ہوئے، بیٹی فخریہ لہجے میں بولی ارے ان ماسیوں کواتنا فری کرنے کی کیا ضرورت ہے تنخواہ دیتے تو ہیں۔۔۔۔۔ ہاں وہ تو ٹھیک ہے،امی مگر میری ساس نے کہا تھا کہ ماسی کے لیے بھی سوٹ لے کر آنا اسی لیےلانا پڑا۔۔۔۔۔سستا سا لائی ہوں ۔ ۔۔۔۔۔ اب اپنے برینڈڈ کپڑوں جیساتو نہیں دوں گی نا۔۔۔۔ داماد صاحب جو بڑے غور سے ماں بیٹی کی باتیں سن رہے تھے اپنی بیوی سےمخاطب ہوئےابھی تم روزے رکھ رہی ہوتو تم نے روزہ رکھ کر کیا سیکھا۔۔۔۔۔۔ روزہ تو نفس کی قربانی کا نام ہےاورعید اس قربانی کا انعام ہے۔۔۔۔ تو تم اپنے رب کے اس انعام کو کیوں ضائع کرنا چاہتی ہو اپنی عید کو کیوں ملاوٹ زدہ کرنا چاہتی ہو اصل عید تو وہی ہے جو دوسروں کو خوش کرکےحاصل کی جائے۔۔۔۔۔بیگم صاحبہ اور بیٹی شرمندہ اورخاموش بیٹھی رہ گئں۔





































