
نزہت ریاض
پاکستان بنانے کے لئے ایک عظیم جدوجہد کوششیں قربانیاں دی گئیں ۔اس تفصیل میں پھر کسی دن جاؤں گی آج کی تحریر کا مقصد یہ ہےکہ پاکستان بننے سے لے کرآج تک ہمارے معاشرے
میں ایک سوال کیا جاتا رہا ہےکہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ کیا ہم نے بحیثیت ایک آزاد مملکت کے وہ ترقی کی ،وہ استحکام پایا جو ہمارا حق تھا ۔آپ لوگوں کا جواب اورنظریہ مختلف ہو سکتا ہے،مگر میرے ذاتی خیال میں ہم نے ترقی کے بجائے صرف تنزلی ہی پائی ہے۔ اس کا بڑا ثبوت پاکستان کا آج کا نوجوان ہے ۔نوجوان جو کسی بھی معاشرے کی ترقی میں شہ رگ کی سی حیثیت رکھتے ہیں ۔میرے وطن پاکستان کے نوجوان اللہ انہیں اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آج اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہیں خودکشی کرکے ۔
خودکشی یعنی خود کو ہلاکت میں ڈالنا۔ اپنی زندگی کوحرام موت کے حوالے کردینا تو سوال یہ ہے کہ وہ کیا پریشان کن حالات ہوتے ہیں ،جس کی وجہ سے ایک انسان اپنی زندگی ختم کر کے اپنے أپ کو موت کے سپرد کرنے میں آسانی سمجھتا ہے۔
میرے خیال میں ایک اسلامی مملکت میں سب سے بڑا ذمہ داراس ملک کا سربراہ ہوتا ہے،جس ملک کانوجوان بےروزگاری ،کم آمدنی مہنگائی جیسے مسائل سے پریشان ہوکرخودکشی کرنے میں آسانی سمجھنا شروع کردے،اس ملک کےسربراہ کو تو خود شرم سے ڈوب مرنا چاہئے ۔
حضرت عمر فرماتےتھے کہ دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی مارا گیا تو اللہ کے ہاں میری پکڑ ہو گی ۔آج کے حکمران تو اپنی سات نسلوں تک کےلیے اس ملک سے کما کر سوئس اکاؤنٹ بھر چکے ہیں ،تو سوال یہ ہے کہ کہاں سے لائیں قائد اعظم، علامہ اقبال ،لیاقت علی خان جیسے رہنماءجو آج کی نوجوان نسل کی ذہنی تربیت کر سکیں جوان میں وہ شعوراجاگر کرسکیں کہ پھر خود کشی کے بجائے وہ خود کی خوشی کے لیےوہ کام کریں جو ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرسکیں اور مشکلات سے گھبرا حوصلہ نہ ہاریں، زندگی تواللہ تعالیٰ کی جانب سے دی گئی سب سے بڑی نعمت ہے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرنےوالا کبھی بھی اللہ کا پسندیدہ بندہ نہیں ہوسکتا ۔
اپنا آئڈیل پیارے نبی حضرت محمد صلہ علیہ وسلم کو بنائیں دنیا میں کسی پربھی اتنی مشکلات نہیں أئیں ہونگی ہوں گی، جتنے مصائب سے میرے نبی پاک اور ان کی آل پر آئے ہیں مگر انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اپنی امت کے لیےکفاراور مشرکین کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے ۔
پاکستان میں تو خودکشی کارجحان ابھی بھی اتنا ذیادہ نہیں ہے بس تھوڑی سی ہمت اور حوصلہ کی ضرورت ہے۔ خودکشی کی شرح مزید کم کی جا سکتی ہے۔انشاء اللہ جیسا کہ شاعر نے کیا خوب کہا ہے ذرا جو نم ہو یہ مٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑی زر خیز ہے ساقی۔





































