
نگہت فرمان
اس ایک سال تمہاری بے لوث جدوجہد،بے مثال قربانیوں نےہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک انمٹ نقوش ثبت کر دیئے ہیں ۔ تمہارا عزم ایک غیر متزلزل
شعلے کی طرح، ہر گزرتے دن کے ساتھ روشن ہوتا چلا گیا۔ ظلم کے گھٹا ٹوپ اندھیرےمیں بھی خوف پر ہمت، مایوسی پرامید غالب رہی ۔ تمہارے عزم نے پوری دنیا کو متاثر کیا اور وہ آج بھی تمہارے لیے احتجاج کرتے ہیں تم نے مزاحمت کی ایک ایسی تاریخ رقم کی جو تاریک راہوں کو روشن کررہی ہے ۔
تمہارے گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے ۔ہر خاندان کی کئی افرادشہادت کےمرتبہ پر فائز ہوگئےلیکن یقین ڈگمگایا نا مایوس ہوئے۔اللہ سے محبت و تعلق ایسا مضبوط ہے جو ہمیں شرم سار کیے جاتا ہے۔بیت المقدس کی حفاظت صرف تمہارا فرض نہیں تمام مسلمانوں کا ہے لیکن تم عظیم لوگ برسوں سے یہ فرض تنہا ہی ادا کرکےہمیں مقرض کیے جاتے ہو۔ تمہاری عظمت کو سلام پیش کرنے کے لیے الفاظ تلاش کرو تو ملتے نہیں۔
بس اتنا معلوم ہے ،اس پورے سال میں ہم نےیہ جانا کہ زندگی کس کا نام ہے ؟ آزادی کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ غلامی کسے کہتے ہیں ؟ ایمان کی کیفیات کیسی ہوتی ہیں ؟ ہم نے جب جب تمہارے بچے دیکھے ان کے لب ولہجہ میں گفتگو میں اللہ سے محبت اس پر یقین دیکھا ۔نہایت تکلیف میں بھی نمازوں کی فکر و قرآن سے محبت دیکھی تو یہ احساس غالب ہوا یہ ہیں رب کے چنیدہ ،یہ ہیں رب کے پیارے ،خود پر شرمندگی ہوئی رونا آیا پچھتاوا بڑھا لیکن کیساکم زور ایمان ہے ہمارا کہ بس یہ سب کیفیات چند لمحوں کی ہوتی ہیں پھر دنیا غالب آجاتی ہے ۔۔
بس سال کے تین سو پینسٹھ دن اسی کیفیات میں گزرگئے اور تم شہید ہوتےرہے،بستیان اجڑتی رہیں ،درس گاہیں ملبے میں بدل گئیں،اسپتال زخمیوں کے لیےچھوٹے پڑگئے ۔۔ہاں بس ہم نے اتنا ضرور کیا کہ اس پورے سال میں ہماری ہر دعا میں ہر خوشی و غم میں تم شریک رہے ۔ہم ہنستے ہیں تو بھی احساس جرم کے ساتھ ،ہم جب بھی اچھا کھاتے ہیں تو اندر سے ضمیر کےکچوکے ہمیں لگتے ہیں کہ ذرا فاصلے پر ہی نبی کے امتی بھوکے ہیں تکلیف میں ہیں لیکن ہم ضمیر کو جھٹک دیتے ہیں کہ ہم بے بس ہیں ۔۔ہاں ہم تمہیں خراج تحسین دینا کبھی نہیں بھولتے اپنی عقیدت اپنی محبتیں تم پر نچھاور کرنا نہیں بھولتے ۔ہم جانتے ہیں ہمیں یقین ہے کہ تم لوگ بہت خاص ہو ہمارے جیسے عام سے بے ضرر انسان نہیں تم وہ لوگ ہو جن پر اللہ کا ہاتھ ہے ۔ایک عام انسان اتنا بہادر ، اتنے مضبوط اعصاب کا ہو ہی نہیں سکتا ۔ننھے شہداؤں کو سلام ،ان ماؤں کو سلام جو اپنے معصوم بچوں کو خود دفنا رہی ہیں اور جوان میتوں کو کندھا دے رہی ہیں ۔ان والد کو سلام جو اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو خود مزاحمت کرنا ظلم کے خلاف کلمہ حق بلند کر نا سکھا رہے ہیں، ان بچوں کو سلام جو ملبے میں بھی پھول کھلا رہے ہیں ۔تمہاری عظمت کو سلام ۔
ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ تمہاری تھکن کو راحتوں میں بدل دے تمہارے دشمنوں کے قدم ڈگمگادے اورتمہیں فتح کامل ہو ۔۔بس دعاؤں کے پھول ہی نچھاور کرسکتے ہیں سو کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ ۔





































