
نگہت پروین
حدیث میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:بہترین بیوی وہ ہےکہ جب تم اسے دیکھو تو تمہارا جی خوش ہو جائے۔ جب تم
اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ اطاعت کرے اور جب تم گھر میں نہ ہو تو وہ تمہارے پیچھے تمہارے مال کی اور اپنے نفس کی بہترین حفاظت کرے۔
قران پاک اور اللہ کے آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےعورت کوبہت سارے حقوق سے نوازا ہے ۔ورنہ دور جاہلیت میں تو لڑکی کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جا تا تھا ۔میراث میں لڑکیوں کا بالکل حصہ نہیں تھا ۔بیوہ عورت کا سسرالی بندشوں سے آزاد ہونا،عدت کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرنا،یہ سارے مسائل دین اسلام نے عورت کے لیے حل کیے۔
قرآن میں سورہ نساء کی آیت 24 میں اللہ نے حکم دیا کہ مرد جب ایک عورت سے شادی کرے تو مہر بطور فرض کے ادا کرے اور سورہ نساء کی پہلی آیت تو عقد نکاح میں تلاوت کی جاتی ہے۔ سورہ نساء میں عورتوں کے تمام مسائل کا حل اور تفصیلی حقوق کا تذکرہ ہے جس میں مرد اور عورت کے تعلق کو اللہ کے احکام کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک نسل کی آبیاری کرنی ہے۔
عورت ایک نسل کی معمار ہے ۔عورت کو ماں کا درجہ دے کراللہ تعالی نے اس کے پیرکےنیچےجنت رکھی کیونکہ ایک بچے کو اس دنیا میں لانے کے لیے جس تکلیف سے اسے گزرنا ہوتا ہے۔ اس کا انعام اللہ کی طرف سے عورت کو دیا گیا۔
عورت کی تعلیم و تربیت نسلوں کی تعمیر ہے۔ اپنی اولاد کے لیے جن جن امتحانات،آزمائشوں سے ماں کو گزرنا پڑتا ہے تو پھر یہی اولاد بھی نیک اور سعادت مند بنتی ہے اور معاشرے کا کارآمد فرد بنتی ہے۔
عورت کی صورت میں حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ جو کہ سرمایہ دار ہیں مگرنکاح کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدموں میں سارا مال دے دیا ۔
حضرت آسیہ فرعون کی بیوی،،شوہر شرمگر حضرت آسیہ خیرکا نمونہ ہیں۔
بی بی فاطمۃ الزہرہ نبی کریم کی بیٹی شہدائے کربلا کی ہیرو کی ماں، حسن حسین کی ماں نےجانثاری،حق اور انصاف کی تربیت دی۔
بی بی ہاجرہ بھی ایک عورت ہے ،ان کی تربیت بحیثیت ماں کے حضرت اسماعیل ذبح ہونے کو تیار ہو گئے۔ فرمانبردار ی ماں نے سکھائی۔ تاریخ کے سنہری الفاظ ان عورتوں کی تعلیم و تربیت ہمارے لیے ایک سبق ہے ۔ہمارے لیے نمونہ ہے۔ عورت کی خوشیاں اس کے خاندان سے جڑی ہوتی ہیں کیونکہ وہ اس خاندان کے ہر فرد کی ہر لمحہ تربیت کرتی ہے اور اس خاندان کو جوڑنے میں مرکز کا کردار ادا کرتی ہے۔
قرآن نے عورت کوکیسا توکل اور بھروسہ عطا کیا کہ ماں اپنے بیٹے کو سپرد دریا کرتی ہے وہ کس طرح فرعون کے گھر پہنچتا ہے بہن ساتھ ساتھ چلتی ہے اور پھر وہ موسی علیہ السلام نبوت کا ستارہ بنتے ہیں،یہ ایک عورت ایک ماں کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔
یورپ میں عورت کو حقوق مرد بنا کر دیے گئے ہیں مگر اسلام نے عورت کو عورت ہونے پر حقوق سے نوازا ہے ۔یورپ کی عورت ماحول کی بے حیائی کو محسوس کرتی ہے مگر مسلمان عورت حیا کی ٹھنڈک سے پردے کی گرمائش محسوس کرتی ہے۔ یورپ کی عورت مظلوم ہے ۔اس کے شوہر نے اسے تحفظ نہیں دیا اور اولاد نے والدین کی خدمت سے گریز کیا۔ اسلام مسلمان عورت کو شوہر سے عزت،وقار،تحفظ اور اطمینان سے نوازتا ہے ۔ اولاد، والدین کی خدمت کو جنت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہیے۔ غرض مسلمان عورت کا تحفظ اس کے چار دیواری، اس کا باپ اس کا شوہر اس کا بھائی ،اس کا بیٹا ہے اور وہ اس تحفظ میں اپنے آپ کو بہت مطمئن اور مسرور سمجھتی ہے ۔عورت کا یہ مقام اس کے دین اس کے قرآن اور آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دیا جس کی وجہ سے وہ محفوظ ہو گئی۔




































