
نگہت پروین
شاعر مشرق علامہ اقبال نے خودی کا فلسفہ پیش کیا۔ علامہ اقبال کی خودی کا مقام ناقابل انکار حقیقت ہے۔خودی فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے
انانیت،خود پرستی ،خودمختاری،نخوت و تکبر،اپنے اوپر بھروسہ کرتے ہوئےسب کچھ حاصل کر لینا مگر علامہ اقبال کی خودی تکبر اور نخوت سے پاک ہےیعنی ایک بہت بڑا پیغام ہے جو اقبال اپنی قوم کو دینا چاہتے ہیں تاکہ قوم کبھی سر نگو ں نہ ہو بلکہ خود ی کی بدولت قوم کی سربلندی ،عزت اورآبرو کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔
اسی لیے تو اقبال نے کہاہےخود ہی نا بیچ غریبی میں نام پیدا کر۔
خودی ،خودداری وہ اعلی جذبہ اوراحساس ہے کہ کبھی کسی کےسامنےنہ جھکا جائے،فرد واحد ہویا قوم ہواس کا سرفخرسےبلندرہناچاہیے۔اگر بندہ خود ی کے احساس سے خالی ہوگا تو اس کی شخصیت،سیرت اسے لوگوں کے درمیان قابل توجہ نہیں بنائے گی۔ خودی یا خودداری کسی قوم کا طرہ امتیاز ہوتی ہے مگر وہ قوم خودی کی غیر موجودگی میں اسفلا سافلین ہو جائے گی ۔خود ی وہ چیز ہے جو بندے کے اخلاق اورکردار میں نظر آتی ہےاور اس کی پہچان بن جاتی ہے ۔یہ احساس کہ میں مسلمان ہوں ،میرے اندر وہ تمام صفات ہونی چاہئیں جو دوسروں کے لیے قابل تقلید ۔
خودی اقبال کے نزدیک احساس غیرت مندی، خودداری اوراپنی انا کوشکست سےمحفوظ رکھناہے۔خود ی میں کم ظرف نہ ہو ں، فراغ دل اور برباد نظر آئیں ، عزت نفس کی پاسداری کریں ، خودی کے بغیر کاروان حیات بے کار ہے، ضائع ہے، بس دھن ہو تو اللہ کی رضا حاصل کرنے کی ۔ خودی اعلی درجات وصفات سے متعصف ہے۔تنگ نظری ، کم حوصلگی اخلاق خودی کا خاصہ نہیں۔
خود ی اللہ کی بصیرت کے نور کا پرتو ہے ،حکمت و دانائی خودی کےموتی ہیں اوراس میں محبت اورخوشحالی نمایاں ہوتی ہے۔
مختصر زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھا کر ہمیشہ کی زندگی اور خوشحالی اور اللہ کی رضا کا بندوبست ہو جائے،خود ی جھوٹ اور سچ کا ملمع نہیں شفاف شخصیت کی آئینہ دار ہے۔دور عثمانیہ اور خلفائے راشدین کا دور عظمتوں کا دور ہے۔ انصاف کا دور ہے ۔ تاریخ کا سنہری باب ہے ، آباؤ اجداد اور اسلاف کے کارنامے قابل تقلید اور شان و شوکت کے آئینہ دار ہیں۔ یہ سب خودی کی بدولت ہے۔ گردش زمانہ آپ سے سب کچھ چھین لے مگر خود ی میں رہ کر غریبی کو گلے لگانا اس طرح کہ خودی کا مان رہ جائے اور پتہ نہ چلے کہ اللہ کی کیفیت ہے ۔
تب ہی تو علامہ اقبال نے کہا
خود ہی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے




































